Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 203

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : اِتَّقُوا الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتُ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَاِنَّ الشُّحَّ اَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَہُمْ عَلَی اَنْ سَفَکُوْا دِمَاء َہُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَہُمْ. ( )

عن جابر رضی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قال : اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامۃ واتقوا الشح فان الشح اہلک من کان قبلکم حملہم علی ان سفکوا دماء ہم واستحلوا محارمہم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ظلم سے بچو !کیونکہ ظلم قیامت کے اندھیروں میں سےہےاور بخل سے بچو

کیونکہ بخل ہی نے تم سےپہلے لوگوں کو ہلاک کیا اوراُنہیں اِس بات پر اُبھارا کہ وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں اور محرمات (یعنی حرام کئے گئے کاموں) کو حلال سمجھیں۔ ‘‘

شرح حدیث

ظالم کے لئے قیامت کے دن اندھیراہوگا:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن ظلم ظالم کے لئے اندھیرا ہوگا جس کے سبب ظالم ہدایت نہیں پا سکے گا جبکہ مؤمنین کا نور اُن کے آگے اور دائیں طرف دوڑتاہوگا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اندھیرے سے مراد قیامت کی آفات ہوں جیسا کہ قرآنِ مجید میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ(پ۷ ، الانعام : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ وہ کو ن ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے۔
یعنی جنگل اور دریا کی آفات سےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اندھیرے سے مراد قیامت کی بیڑیاں اور جہنم کا عذاب ہو۔‘‘( )
ظلم کی تعریف اور اُس کا وبال:ظلم کا لغوی معنی ہے : ’’وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ یعنی کسی بھی شے کو غیر محل میں رکھنا ظلم کہلاتا ہے۔ ‘‘ اسی وجہ سے قرآن پاک میں شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیاگیا ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات ہی اس بات کی حق دار ہے کہ اس کے ساتھ عبادت میں کسی کوشریک نہ ٹھہرایا جائے ، لہذا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا یعنی شرک کرنا سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیاہے۔ مگر ظلم کا غالب استعمال مخلوق پر زیادتی و شرارت میں ہوتا ہے۔ ظلم کا لفظ گناہوں کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اسی وجہ سےحدیث میں لفظ ’’ظلم‘‘ کے بعد اگلے جملے میں لفظ ’’ظلمات‘‘ جمع آیا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ ایک ظلم بھی قیامت کے دن بہت سی تہہ بہ تہہ ہولناک تا ریکیوں اور شدتوں کا سبب بنے گا۔ بخل اورکنجوسی سے بچنا اس لئے ضروری

ہے کہ یہ بھی ظلم کی اقسام اور اس کی شدید ترین انواع میں سے ہیں کیونکہ حُبِ دنیا اور نفسانی شہوات کا نتیجہ یہی ظلم ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے یعنی گناہ کے کام اور خطا ئیں انہیں حلال ٹھرانے کا سبب بھی یہی بخل ہے ، یہی بخل خونریزی اور حرام کو حلال کرنے کا باعث بناجبکہ اس کی ضد یعنی راہ خدا میں مال خرچ کرنا اور دوسروں سے ہمدردی و شفقت کرناذریعہ نجات اور ایک دوسرے سے بہتر تعلقات کا باعث ہے جبکہ بخل اور کنجوسی ایک دوسرے سے دُور رہنے اور قطع تعلقی کا سبب ہیں۔ یہ آپس میں دشمنی اور عداوت کا باعث ہیں جن کا انجام آپس کی لڑائی اورقتل و غا رت ہے۔ ‘‘( )
بنی اسرائیل کا حرام کاموں کو حلال ٹھہرانا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بنی اسرائیل پر کئی چیزوں کو حرام فرمایا تھا مگر انہوں نے اُسے حلال جانا اور اس کا ارتکاب کیا۔٭∞ مثلاًقتل کو حلال جانا اور اس کا ارتکاب کیاجیسا کہ ایک شخص نے اپنے چچازادکو اس کی وراثت حاصل کرنے کے لئے قتل کیااور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس واقعے کو سورۂ بقرہ میں تفصیل سے بیان فرمایا۔٭∞ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عورتوں کے ساتھ بے حیائی کو حرام قرار دیا مگر انہوں نے اسے حلال جانا۔٭∞ چربی کی خریدوفروخت کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُن کے لیے حرام فرمایا تھا مگر اُنہوں نے پگھلا کر حیلے سے اس کی خریدوفروخت شروع کردی۔٭∞ بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن شکار کرنے کی ممانعت تھی مگر انہوں نے اس کا حیلہ کیا اور ہفتے کے دن نالیوں وغیرہ میں مچھلی کو جمع کرلیتے اور دیگر دنوں میں اس کو پکڑلیتے۔ ( )ظلم کی مختلف صورتیں:مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآ ۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ظلم کے لغوی معنی ہیں : کسی چیز کو بے موقع استعمال کرنا اور کسی کا حق مارنا۔ اس کی بہت قسمیں ہیں : گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے ، قَرابت داروں یا قَرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم ، کسی کو ستانا ایذاء دینا اس پر

ظلم۔ یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے ظاہری معنیٰ پر ہے : یعنی ظالم پل صراط پر اندھیریوں میں گھِرا ہوگا۔ یہ ظلم اندھیری بن کر اُس کے سامنے ہوگا ، جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کے نیک اَعمال روشنی بَن کر اُس کے آگے چلیں گے۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے : )
αیَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ( (پ۲۷ ، الحدید : ۱۲) (ترجمۂ کنزالایمان : ان کا نور ہے ان کے آگے اور ان کے داہنے دوڑتا ہے۔ )چونکہ ظالم دنیا میں حق نا حق میں فرق نہ کر سکا اس لئے اندھیرے میں رہا۔ ‘‘( )بخل کی تعریف اور اُس کی مذمت کا بیان:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب “ باطنی بیماریوں کی معلومات “ صفحہ ۱۲۸پر ہے : “ بخل کے لغوی معنی کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعا ً ، عادتاً یا مروتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے یا جس جگہ مال واسباب خرچ کرنا ضروری ہو وہاں نہ خرچ کرنا یہ بھی بخل ہے۔ “ ( )بخل اور کنجوسی عموماً ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ، لیکن بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے کنجوسی اور بخل میں فرق بھی بیان کیا ہے۔ مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’عربی میں شح(کنجوسی) بخل سے بدتر ہے ، بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا ہے اور شح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے غرضیکہ شح بخل حرص اور ظلم کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے یہ فتنوں فساد خوں ریزی وقطع رحمی کی جڑ ہے۔ جب کوئی دوسروں کو حق ادا نہ کرے بلکہ ان کے حق اور چھیننا چاہے تو خواہ مخواہ فسا دہوگا۔ ‘‘( )بخل کابھیانک انجام:مُنِیفَہ بنتِ رومی خاتون کا بیان ہےکہ میں مکہ مکرمہ میں مقیم تھی ، ایک دن میں نے ایک بارونق مقام پر لوگو ں کا ہجوم دیکھا ، قریب جانے پر معلوم ہوا کہ وہاں ایک عورت ہے جس کا سیدھا ہاتھ مفلوج ہوچکاہے اور لوگ اس سے مختلف قسم کے سوالات پوچھ رہے ہیں ۔ جب اس عورت سے اس کے ہاتھ مفلوج

ہونے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے ایک نہایت ہی عبرت ناک داستان سنائی ، وہ کہنے لگی کہ آج سے کچھ عرصہ قبل میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔ میرے والد بہت نیک وپار ساتھے ۔ کثرت سے صدقہ و خیرات کرتے اور غرباء کی اپنی استطاعت کے مطابق امداد بھی کیا کرتے تھے جبکہ میری والدہ انتہائی بخیل یعنی کنجوس تھی۔ پوری زندگی میں صرف ایک پرانا سا کپڑا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں دیا اورایک مرتبہ جب میرے والد نے گائے ذبح کی تو اس کی تھوڑی سی چربی کسی غریب کو دے دی اس کے علاوہ کبھی بھی کوئی چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ نہ کی۔ پھر میرے والدین کا انتقال ہوگیا ، اپنے والدین کے انتقال کے کچھ دن بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا والد ایک حوض (یعنی تالاب) کے کنارے کھڑا ہے اور لوگوں کو پیالے بھر بھر کر پانی پلا رہا ہے۔ میں بھی کھڑے ہو کر سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ اچانک میری نظر اپنی والدہ پر پڑی جو زمین پر پڑی ہوئی تھی اس کے ہاتھوں میں وہی چر بی تھی جو اس نے صدقہ کی تھی اور اسی پرانے کپڑے سے اس کا ستر ڈھانپا ہوا تھا جو اس نے صدقہ کیا تھا۔ وہ شدتِ پیاس سے ’’ہائے پیاس ، ہائے پیاس‘‘ کی صدائیں بلند کر رہی تھی ۔ یہ درد ناک منظر دیکھ کر میں تڑپ اٹھی۔ میں نے کہا : ’’ہائے افسوس! یہ تو میری والدہ ہے اور جو لوگوں کو پانی پلا رہا ہے وہ میرا والد ہے۔ میں حوض سے ایک پیالہ بھر کر اپنی والدہ کو پلا ؤں گی۔ ‘‘ پھر جیسے ہی پانی کا پیالہ بھرکر میں اپنی والدہ کے پاس آئی تو آسمان سے منادی کی یہ ند اسنائی دی : ’’خبردار! اس کنجوس عورت کو جو پانی پلائے گا اس کا ہاتھ مفلوج ہوجائے گا۔ ‘‘ پھر میر ی آنکھ کھل گئی اور اس وقت سے میرا ہاتھ ایسا ہے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ ‘‘( )
دولتِ دُنیا کے پیچھے تو نہ جا …… آخرت میں مال کا ہے کام کیا
مالِ دُنیا دو جہاں میں ہے وبال …… کام آئے گا نہ پیشِ ذوالجلال
بخل کے پانچ اَسباب اور اُن کا علاج:(1)…بخل کاپہلا سبب تنگ دستی کاخوف ہےکہ بندہ اس لیے خرچ نہیں کرتا کہ کہیں میں کنگال نہ

ہوجاؤں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھے کہ اپنی جائز ضروریات پر خرچ کرنے ، اپنے گھروالوں پر خرچ کرنے اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی بلکہ اِضافہ ہوتا ہے۔
(2)…بخل کا دوسرا سبب مال سے محبت ہےکہ یہ محبت خرچ کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ قبر کی تنہائی کو یاد کرے کہ میرا یہ مال قبر میں میرے کسی کا م نہ آئے گا بلکہ میرے مرنے کے بعد ورثاء اسے بے دردی سے اپنے تصرف میں لائیں گے۔
(3)…بخل کا تیسرا سبب نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ خواہشات نفسانی کے نقصانات اور اُس کے اُخروی انجام کا باربار مطالعہ کرے۔ اس سلسلے میں امیر اہل سنت کارسالہ’’ گناہوں کا علاج ‘‘پڑھنا حد درجہ مفیدہے۔
(4)…بخل کا چوتھا سبب بچوں کے روشن مستقبل کی خواہش ہے۔ اس کا علاج یہ ہےکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ رکھنے میں اپنے اعتقاد ویقین کو مزید پختہ کرے کہ جس ربّ عَزَّوَجَلَّ نے میرا مستقبل بہتر بنایا ہے وہی ربّ عَزَّوَجَلَّ میرے بچوں کے مستقبل کو بھی بہتر بنانے پر قادر ہے۔
(5)…بخل کا پانچواں سبب آخرت کے معاملے میں غفلت ہے۔ اِس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات پر غور کرے کہ جو مال ودولت میں نے راہِ خدا میں خرچ کی ہوگی مرنے کے بعد وہ مجھے نفع دے سکتی ہے ، لہٰذا اس فانی مال سے نفع اٹھانے کے لیے اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا ہی عقل مندی ہے۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ظالم کے لیے دنیا وآخرت میں ذلت ہی ذلت ہے ، کل بروزِقیامت ظالم کے لیے اس کا ظلم پل صراط پر اندھیرا ہوگا۔

(2)ظلم کی مختلف صورتیں ہیں ، اپنی جان پر بھی ظلم ہوتاہے ، رشتہ داروں ودیگرلوگوں پر بھی ظلم ہوتا ہے ، ہرقسم کے ظلم سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔
(3)کنجوسی اور بخل کی بھی شدید مذمت بیان کی گئی ہے کہ پچھلی اُمتیں اسی بخل کی وجہ سے قتل وغارت گری میں مبتلا ہوئیں ، نیز اس کے سبب انہوں نے حرام کاموں کو حلال ٹھہرالیا تھا۔
(4)بنی اسرائیل کے ہلاک ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے شریعت کی حرام کردہ باتوں کو حیلے بہانوں سے اپنے لیے جائز کیا ہوا تھالہذا شرعی احکام پر عمل کرنے اور ان کے نفاذ میں حیلے بہانوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(5)ہرگناہ کے مختلف اَسباب ہوتے ہیں اگر ان اسباب کو ختم کردیا جائے تو اس گناہ سے جان چھوٹ سکتی ہے ، بخل کے پانچ اَسباب ہیں اگر ان کو ختم کردیا جائے تو اس موذی مرض سے نجات مل سکتی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ظلم اور کنجوسی جیسے مہلک امراض سے محفوظ فرمائے ، شریعت کے احکام پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے ، نیکیاں کرنے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 203