Main Icon

باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 962

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُرَيْرَة رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم :” اِذا سافَرْتُم في الخِصْبِ فَاَعْطُوْا الْاِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْاَرْضِ ، وَاِذَا سَافَرْتُمْ فِی الْجَدْبِ ، فَاَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَبَادِرُوْا بِهَا نِقْيَهَا ، وَاِذَا عَرَّسْتُمْ ، فَاجْتَنِبُوْا الطَّرِيْقَ ، فَاِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ ، وَمَاوَى الهَوَامِّ باللَّيْلِ .“

عن ابي هريرة رضي اللہ عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :” اذا سافرتم في الخصب فاعطوا الابل حظها من الارض ، واذا سافرتم فی الجدب ، فاسرعوا عليها السير وبادروا بها نقيها ، واذا عرستم ، فاجتنبوا الطريق ، فانها طرق الدواب ، وماوى الهوام بالليل .“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب تم سر سبز زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کاحصہ دو اور جب بنجر زمین میں سفر کرو تو اُنہیں تیز چلاؤ اور ان کے تھکنے سے پہلے وہاں سے گزر جاؤ اور جب تم رات میں قیام کرو تو راستے میں اُترنے سے بچو کیونکہ وہ جانوروں کا راستہ ہے اور وہ جگہ رات کے وقت کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ ہے۔“

شرح حدیث

دورانِ سفر قیام کے آداب :حدیثِ مذکورمیں جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے اور اُن کا خیال رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اگر ہریالی زمین پر سفر کرو تو انہیں آہستہ چلاؤ، اُن پر نرمی کرتے ہوئے دن کے کچھ حصے انہیں کھلا چھوڑدو تاکہ وہ کچھ چَر لیں اور زمین سے اپنے حصے کی خوراک کھالیں اور جب کسی قحط زدہ علاقے میں سفر کرو تو تیزی سے چلو تاکہ جلد اپنی منزل تک پہنچ جاؤ اور سواری کے جانور میں طاقت باقی رہے ایسے بنجر و ویران علاقوں میں انہیں آہستہ نہ چلاؤ کہ جلد تھک جا ئیں گے اوریہاں چارہ وغیرہ بھی نہ ملے گا اور نتیجۃً کمزور ہوجائیں گے۔اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا: ”رات کے وقت راستوں پر پڑاؤ نہ کرو۔“اس فرمانِ عالی میں سفر کے آداب میں سے ایک ادب بیان ہواکہ رات کے وقت راستوں پر پڑاؤ نہ کیا جائے کیونکہ زہریلے کیڑے اور درندے وغیرہ رات کےوقت راستوں پر چلتے ہیں اور جو چیز راستے میں گری پڑی ملتی ہیں اسے خوراک بنالیتے ہیں اگر لوگ راستے میں قیام کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ کوئی موذی شئے وہاں سے گزرے اور ایذا پہنچائے لہٰذا مسافروں کو چاہیے کہ راستے سے ہٹ کر قیام کریں ۔“سواری کے ساتھ خیرخواہی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک میں جانوروں کا خیال رکھنے کا جو حکم دیا گیا ہے دراصل اُس میں ہماری ہی بھلائی ہے اگر ہم اپنی سواری کا خیال رکھیں گے اس کے کھانے پینے کا خیال رکھیں گے تو وہ جانور ہمارے لیے بھی سفر میں کارآمد ہوگا اور ہمیں اپنی منزل تک پہنچادے گاجبکہ اس معاملے میں کوتاہی کی صورت میں دوران سفر پریشانی ہوسکتی ہے ۔ جدید دور کے تناظر میں اس حدیث پاک کو دیکھا جائے تو بھی یہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے آج کل عموماً کاروں، موٹر سائیکلوں اور بسوں ویگنوں میں سفر کیا جاتاہے اس لئے سفر پر جانے سے پہلے گاڑی کا ایندھن (FUEL) چیک کرلیں ، اسپئیر ٹائر رکھ لیں، گاڑی کو مستقل چلاتے نہ رہیں بلکہ حسب موقع کچھ دیرکسی مناسب و محفوظ جگہ رُک جائیں تاکہ گاڑی بھی ٹھنڈی ہوجائے اور راستے میں ہر گز نہ ٹھہریں ورنہ گزرنے والی گاڑیوں سے شدید نقصان کا خطرہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 962