Main Icon

باب:نمازِوِتر كا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1132

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاةِ الْمَكْتُوْبَةِ وَلَكِنْ سَنَّ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ اللهَ وِتْـرٌ يُحِبُّ الْوِتْـرَ فَاَوْتِرُوْا يَا اَهْلَ اْلقُرْآنِ.

عن علي رضي الله عنه قال:الوتر ليس بحتم كصلاة المكتوبة ولكن سن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ان الله وتـر يحب الوتـر فاوتروا يا اهل القرآن.

حدیث ترجمہ

امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ،شیرِخداکَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:”وتر فرض کی طرح حتمی اورقطعی نہیں لیکن رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وتر جاری کر کے ارشاد فرمایا:”بے شک!اﷲ عَزَّ وَجَلَّوتر( اکیلا)ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو۔“

شرح حدیث

ﷲتعالیٰ کے وِترہونےکی وضاحت:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”عربی میں وِتر فرد عدد کو کہتے ہیں جو تقسیم نہ ہوسکے اکیلا ہو،ربّ تعالیٰ عدد سے پاک ہے۔اس کے وتر ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ وہ ذات و صفات اور اَفعال میں اکیلا ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے، نہ اس کے صفات افعال قابلِ تقسیم،اسی معنیٰ سے اسے واحد اور احد کہتے ہیں لہٰذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ وتر و شَفْع (جفت)ہونا عدد کے حالات ہیںﷲ تعالیٰ عدد سے پاک ہے۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اﷲ عَزَّ وَجَلَّاکیلا ہے اور وِتر کو پسند کرتا ہے یعنی وتر نماز کو پسند کرتا ہے کہ اس پر ثواب دے گا اور اسے قبول کرے گا یا یہ مراد ہے کہ جوبندہ دنیا سے الگ ہو کر صرف ربّ کا ہو رہےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے پسند فرماتا ہے۔“اے قرآن ماننےوالو! وِتر پڑھا کرو:” اے قرآن ماننے والے مسلمانو! نمازِ وتر پڑھا کرو اس پر بہت ثواب ہے یا اے قرآن ماننے والو! دنیا سے منقطع ہو کر ربّ کے ہو رہو۔بعض لوگوں نے اس حدیث کی بنا پر کہا کہ وتر ایک رکعت ہے کیونکہ یہاں وتر کو ﷲ تعالیٰ سے نسبت دی گئی ﷲ تو ایک ہے وتر بھی ایک ہونی چاہیے مگر یہ بات بہت کمزور ہے کیونکہ یہاں مناسبت صرف وتر یعنی طاق ہونے میں ہے اور طاق تو تین بھی ہیں ایک ہونے میں نسبت نہیں، ورنہ رب تعالیٰ اجزا سے پاک ہے اور وتر نماز اگرچہ ایک رکعت ہی ہواجزا والی ہے۔“
¥مدنی گلدستہ
’’سنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) ربّ تعالیٰ عدد سے پاک ہے۔اس کے وتر ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ وہ ذات و صفات اور افعال میں اکیلا ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے،نہ اس کے صفات اَفعال قابِلِ تقسیم،اسی معنیٰ سے اسے واحد اور اَحَد کہتے ہیں۔
(2) وتر کی تین رکعتیں ہیں ایک نہیں ۔
(3) جوبندہ دنیا سے الگ ہو کر صرف ربّ کا ہو رہے
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے پسند فرماتا ہے ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں وترپڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1132