Main Icon

باب:نمازِوِتر كا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1138

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَافَ اَنْ لَّا يَقُوْمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوْ تِرْ اَوَّلَهُ وَ مَنْ طَمِعَ اَنْ يَّقُوْمَ آخِرَهُ فَلْيُوْ تِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَاِنَّ صَلاَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُوْدَةٌ وَذٰلِكَ اَفْضَلُ.

عن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من خاف ان لا يقوم من آخر الليل فليو تر اوله و من طمع ان يقوم آخره فليو تر آخر الليل فان صلاة آخر الليل مشهودة وذلك افضل.

حدیث ترجمہ

حضرت جابر بن عبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولُاﷲصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ رات کے آخری پہر میں نہیں اٹھ سکے گا وہ رات کے ابتدائی حصےمیں وتر پڑھ کر سوجائے اور جس کو امید ہوکہ رات کے آخری حصے میں جاگ جائے گا تو رات کے آخری حصے میں وتر پڑھے کیونکہ اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل وقت ہے۔“

شرح حدیث

رحمت کے فرشتوں کی آمد:مرآۃالمناجیح میں ہے:”یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو آخر شب میں ﷲ کی رحمتیں لے کر اُترتے ہیں،بعض شارِحین نے فرمایا کہ مشہود کے معنیٰ ہیں عظمت کی گواہی دی ہوئی۔“مدنی گلدستہ’’وتر‘‘کے3حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہاور ان کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) وتر کا وقت عشا کے فرض کے بعد سے طلوعِ فجر تک ہے۔
(2) جس کو یہ خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہوسکے گا و ہ رات کی ابتدا میں وتر کی نماز پڑھ لے اور جسے رات کے آخری حصے میں بیدار ہونے کا یقین ہو تو اسےرات کے آخری حصے میں وتر پڑھنا افضل ہے۔
(3) صاحبِ ترتیب کے اگر وتر رہ گئے ہوں اور وہ جان بوجھ کر وتروں کی قضا کئے بغیر فجر پڑھے تو اس کی فجرکی نماز نہ ہوگی۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نمازِ پنجگانہ اور وتر پابندی سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1138