Main Icon

باب : استقامت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 85

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ عَمْرٍو، وَقِیْلَ:اَبِیْ عَمْرَۃَ سُفْیَانَ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُلْ لِّی فِی الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَاأَسْئَلُ عَنْہُ اَحَدًاغَیْرَکَ، قَالَ:قُلْ: اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ. ( )

عن ابی عمرو، وقیل:ابی عمرۃ سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ قال: قلت:یا رسول اللہ! قل لی فی الإسلام قولا لاأسئل عنہ احداغیرک، قال:قل: امنت باللہ ثم استقم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوعَمْرو یاابوعَمْرہ سُفیان بنعبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اِسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیے کہ پھر آپ کے علاوہ کسی اور سے اس کے متعلق نہ پوچھوں۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کہو:میںاللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لایا۔ پھر اس پر ثابت قدم رہو۔ ‘‘

شرح حدیث

تکمیلِ اسلام والی بات:شَرْحُ الطِّیْبِیمیں ہے: ’’ یعنی مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ذریعے اِسلام مکمل ہو جائے، اسلامی باتوں کی طرف رہنمائی ہو اوراُس کے حقوق کی حفاظت ہو اور آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’قُلْ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْیعنی کہو:میںاللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لایا اور پھر اس پر قائم رہو۔ ‘‘اِسْتَقِمایسا لفظ ہے جو تمام اَحکامات پر عمل کرنے اور تمام ممنوعہ کاموں سے رُک جانے کو جامع ہے کیونکہ بندہ حکم عدولی کی وجہ سے صراطِ مستقیم سے دُور ہوجاتا ہے جب تک دوبارہ تعمیلِ حکم نہ کرے۔ اِسی طرح ممنوعہ کام کے اِرتکاب سے بھی صراطِ مستقیم سے دُور ہوجاتا ہے جب تک توبہ نہ کرے ۔ ‘‘ ( )
¥
ربّ تعالی پر ایمان لانے کا معنی:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّپر ایمان لانے سے مراد سارے عقائد اِسلَامیَّہ ماننا ہیں ۔ لہٰذا اِس میں توحید و رسالت حشر و نشر، ملائکہ جنت دوزخ سب پر اِیمان لانا داخل ہے، جیسے کسی کو اپنا باپ مان کر اُس کے سارے اَہلِ قرابت کو اپنا عزیز ماننا پڑتا ہے کہ اُس کا باپ ہمارا دادا ہے، اُس کی اولاد ہمارے بھائی بہن، اُس کے بھائی ہمارے چچا تائےاور اِستقامت سے مراد سارے اَعمالِ اِسْلَامِیَّہ پر سختی و پابندی سے عمل کرنا ہے، لہٰذا یہ حدیث اِیمان و تقویٰ کی جامع ہے اور اِس پر عامل یقیناً جنتی ہے۔ ‘‘ ( ) قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے فرمایا: ’’ یہ حدیث پاک حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جامع کلمات میں سے ہے۔ ‘‘ ( )اِستقامت کے متعلق اَقوالِ بزرگانِ دین :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا : ’’ رِسالہ قشیریہ میں ہے کہ اِستقامت ایسا درجہ ہے جس سے اُمور کی تکمیل اور نیکیوں کا حصول ہوتا ہے ۔جو اِسے اختیار نہ کرے اُس کی کوشش ضائع ہو جاتی ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اِستقامت کی طاقت صرف اکابر ہی رکھتے ہیں کیونکہ اِستقامت یہ ہے کہ انسان اپنے معمولات اور رَسم و رَواج کو چھوڑ کر اپنے آپ کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے اَحکامات کے مطابق کرلے۔ اِسی ‏لیے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ استقامت پر رہو اور تم ہر گز اُس کا اِحاطہ نہیں کر سکتے۔ ‘‘ علامہ واسطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اِستقامت ایسا وصف ہے جس کے پائے جانے سے اچھائیاں مکمل ہوتی ہیں اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے خوبیاں خامیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔ ‘‘ ( )ربّتعالٰیکے نزدیک پسندیدہ عمل:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!استقامت سے کیا جانے والا کام شریعت کو محبوب ہے ۔احادیثِ مبارَکہ میں ایسے عمل کی خوب ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہرَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیاکہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک پسندیدہ عمل کونسا ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ عمل جواستقامت کے ساتھ ہو اگر چہ تھوڑا ہو۔ ‘‘ ( )ایک رات میں ختمِ قرآن:ہمارے بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے اعمالِ صالحہ پر کیسی استقامت اختیار کی، اس کااندازہ اس حکایت سے لگائیے۔چنانچہ کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، امامِ اعظم حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن ثابتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقنے تیس 30سال تک روزانہ ہر رات ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کیا۔ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ آپ رات کو خوفِ خدا کے باعث اِس قدر روتے کہ ہمسائے آپ پر رحم کرتے اور جس جگہ آپ کا وصال ہوا وہاں آپ نے سات ہزار 7000مرتبہ قرآن شریف ختم فرمایا تھا۔ ( )اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ
’’ اِیمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لانے سے مراد سارے عقائد اِسْلَامِیَّہ پر ایمان لاناہے۔
(2) اُمور کی تکمیل کے ‏لیے استقامت بہت ضروری ہے۔
(3) قلیل دائمی عمل ، کثیر عارضی عمل سے بہتر ہے ۔
(4) استقامت وہ طاقت ہے کہ جس کی بدولت مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتے ہیں ۔
(5) استقامت اختیار کرنا نیک بندوں کا شیوہ ہے کیونکہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندے جو عمل خیرشروع کردیں اس پر مرتے دم تک استقامت اختیار کرتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی بزرگانِ دین کے صدقے استقامت کی دولت عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 85