Main Icon

پڑوسی کے حقوق کے بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 303

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا زَالَ جِبْرِيْلُ يُوصِيْنِيْ بِالْجَارِ حَتّٰى ظَنَنْتُ اَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.( )

وعن ابن عمر وعائشة رضي الله عنهما ، قالا : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا ابن عمر اور ام المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث ہی بنا دیں گے۔ “

شرح حدیث

پڑوسی کو وارث بنائے جانے کا گمان:اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام پڑوسی کے ساتھ احسان کرنے اور اس سے اذیت کو دور کرنے سے متعلق مسلسل مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم پہنچاتے رہے (تاکہ میں اسے امت تک پہنچا دوں ) ، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ پڑوسی کو وارثوں میں شامل کردیں گے اور میراث میں اسے شریک کردیں گے۔ ( )
پڑوسی کون ہے؟یاد رہے کہ اس حدیث پاک میں مذکور’’پڑوسی‘‘عام ہے ، لہذا پڑوسی خواہ مسلمان ہو یاکافر ، عابدہو یا فاسق ، دوست ہو یا دُشمن ، پردیسی ہو یا ہم وطن ، نقصان پہنچانے والا ہو یا نفع دینے والا ، رشتہ دار ہو یا اجنبی ، اس کا گھر قریب ہو یا دور سب ہی اس میں داخل ہیں۔ ( )حقوق کے اعتبار سے پڑوسیوں کی اقسام:واضح رہے کہ پڑسیوں میں اگرچہ سب ہی داخل ہیں لیکن حقوق کے اعتبار سے ان میں فرق ہے جیساکہ حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’پڑوسی تین ہیں : (1)وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے اور حق کے اعتبار سے ادنی پڑوسی ہے۔ (2)وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں۔ (3)وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں اور یہ حق کے اعتبار سے افضل پڑوسی ہے۔ بہر حال وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے تو یہ وہ مشرک پڑوسی ہے جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں صرف حق پڑوس ہے۔ جس کے دو حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جو رشتہ دار نہیں ، اس کے لئے حقِ اسلام اور حق پڑوس ہے۔ وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جس کے ساتھ رشتہ داری ہو ، اس کے لئے حقِ اسلام ، حقِ جوار اور رشتہ داری کا حق ہے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) پڑوسی کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آئیے ، کیونکہ اِسلام میں پڑوسی کے تفصیلی حقوق بیان فرمائے گئے ہیں۔

(2) پڑوسی کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا کہ مجھے اس کے وارث بنائے جانے کا گمان ہوا۔
(3) پڑوسی میں ہر طرح کے افراد داخل ہیں ، کسی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔
(4) حقوق کے اعتبار سے پڑوسیوں کی تین اقسام ہیں ، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جس پڑوسی کا جتنا زیادہ حق ہو اس کے ساتھ اتنے ہی زیادہ اچھے طریقے سے پیش آئیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمیں اپنے پڑوسیوں کے حقوق اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 303