Main Icon

پڑوسی کے حقوق کے بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 311

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ الْاَصْحَابِ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰى خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهٖ ، وَخَيْرُ الْجِيْرَانِ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰی خَيْرُهُمْ لِجَارِهٖ.( )

وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : خير الاصحاب عند الله تعالى خيرهم لصاحبه ، وخير الجيران عند الله تعالی خيرهم لجاره.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہے ، تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہیں جو اپنے ساتھی کے لیے اچھے ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہیں جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھے ہوں۔ ‘‘

شرح حدیث

بارگاہِ الہٰی میں اعلیٰ مرتبے والا:اِس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس ساتھی کا ثواب اور مرتبہ زیادہ ہے جو اپنے ساتھی کو نفع پہنچانے اور اس سے اذیت دور کرنے کے معاملے میں اچھا ہے اور بارگاہ ِربُّ العزت میں اس پڑوسی کا اجر و ثواب اور مقام و مرتبہ زیادہ ہے جواپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے۔ ( )
خلاصہ یہ ہے کہ جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے لئے زیادہ بہتر ہو گا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بھی افضل ہوگا اور اس حدیث پاک سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بد ترین ساتھی اور پڑوسی وہ ہے جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے لئے بُرا ہو۔ ( )
ہر ساتھی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے:علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ساتھی کا اطلاق ہر ا س شخص پر ہوتا ہے جس کے ساتھ دینی یا دنیاوی صحبت ہو ، خواہ وہ ادنیٰ درجے کا ہو ، اعلیٰ درجے کا ہو یا مساوی درجے کا ہو ، یونہی سفر کی حالت میں اس کے ساتھ صحبت ہو یااقامت کی حالت میں ہو۔ ‘‘( )
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر ساتھی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اوراس میں ساتھی کی خیر خواہی کرنا ، اس سے اچھا برتاؤ کرنا ، اُسے بری باتوں سے روکنااوراچھی راہ دکھانا سب داخل ہے۔
پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی ضرورت و اہمیت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رہے کہ عبادات اور معاملات دونوں کو درست کرنا ضرور ی ہے ، البتہ عبادات کو درست کرنے سے زیادہ اہم معاملات کو درست کرنا ہے کیونکہ عبادات میں جو کمی کوتاہی رہ جائے گی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے چاہے گا تو معاف فرمادے گا جبکہ حقوق العباد میں اللہ تعالی نے خود ہی یہ اصول بنادیا کہ جب تک صاحب معاملہ معاف نہ کرے وہ بھی معاف نہ فرمائے گا۔ اور معاملات کے حوالے سے دیکھا جائے تو پڑوسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی معاملہ درپیش رہتا ہی ہے کیونکہ اس کا گھر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس لئے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بہت ضروری ہے ، اس کے بچوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھیں جیسا سلوک اپنی اولاد سے کرتے ہیں ویسا ہی اس کی اولاد سے کریں ، اس کی عزت و ذلت کو اپنی عزت وذلت سمجھیں اور جو چیزاس کی عزت پر حرف آنے اور تذلیل کا باعث بنے اسے دور کریں ، یہاں تک کہ پڑوسی اگر کافر بھی ہو تو اس کے بھی دین اسلام میں مقررہ حقوق ادا کئے جائیں۔ بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آتے تھے۔ چنانچہ ،بایزید کے چراغ سے کفر کا اندھیرا دور ہوگیا:حضرت سیدنا بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک پڑوسی یہودی تھا ، وہ اپنے بال بچوں کو گھر میں چھوڑ

کر سفر پر چلا گیا ، رات کے وقت یہودی کا بچہ روتا تھا ، ایک دن آپ نے اس کی ماں سے پوچھا : “ بچہ کیوں روتا ہے؟‘‘ یہودن بولی : ’’گھر میں چراغ نہیں ہے اور بچہ اندھیرے میں گھبراتا ہے۔ ‘‘ اس دن سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روزانہ چراغ میں خوب تیل بھرتے اور اسے روشن کر کے یہودی کے گھر بھیج دیتے ، جب یہودی سفر سے لوٹا اور اس کی بیوی نے یہ واقعہ سنایا تو یہودی بولا : ’’جس گھر میں حضرت بایزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا چراغ آ گیا تووہاں کفر کا اندھیرا کیوں رہے؟‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے سب گھر والوں کے ساتھ مسلمان ہوگیا۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں افضل شخص وہ ہے جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے حق میں بہتر ہے اور بُرا وہ ہے جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے حق میں بُرا ہے۔
(2)ساتھی خواہ دینی ہو یا دنیوی ، ادنیٰ ہو یا اعلیٰ یا مساوی ، بہرصورت اس کے ساتھ اچھا برتاؤ اور اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
(3)عبادات اور معاملات دونوں کی درستی لازم ہے البتہ معاملات کی درستی زیادہ اہم ہے۔
(4)پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے ساتھ میل جول زیادہ ہوتا ہے۔
(5)پڑوسی اگر کافر ہو تو بھی اس کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمیں اپنے ساتھیوں اور پڑوسیوں کے حق میں بہتر بنائے اور ہمیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 311