Main Icon

باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1074

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:سَاَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ؟ قَالَ:الصَّلَاةُ عَلٰی وَقْتِهَا،قلتُ:ثُمَّ اَيٌّ؟ قَالَ:بِرُّ الْوَالِدَيْنِ،قُلْتُ:ثُمَّ اَيٌّ؟ قَالَ:الْجِهَادُ فِی سَبِيلِ اللهِ.

عن ابن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ قال:سالت رسول الله صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم اي الاعمال افضل؟ قال:الصلاة علی وقتها،قلت:ثم اي؟ قال:بر الوالدين،قلت:ثم اي؟ قال:الجهاد فی سبيل الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدناعبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں کون سا عمل افضل ہے؟ ارشادفرمایا:’’وقت پرنماز ادا کرنا۔‘‘میں نے عرض کی:’’پھر کون سا؟“فرمایا:’’والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔‘‘میں نے عرض کی:’’پھر کون سا ؟‘‘فرمایا:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘

شرح حدیث

وقت پر نمازاداکرنےکی فضیلت:حدیث ِمذکورمیں وقت پر نماز پڑھنے کوافضل عمل قرار دیا گیاہے ۔ اس سے نماز کی اہمیت وافضیلت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننیکیوں کے معاملے میں بہت زیادہ حریص ہوا کرتے تھے،اس لئے وہ مختلف اعمال کےثواب سے متعلق بارگاہِ رسالت میں سوال کیا کرتے پھر جس عمل کی فضیلت معلوم ہوجاتی اس پر دل وجان سے عمل کرتے۔ان کا سوال محض جواب چاہنے کے لئے نہیں بلکہ عمل کرنے کے لئے ہوا کرتاتھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وقت پر نماز اداکرنا ،والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور راہِ خدا میں جہاد کرنا افضل ترین اعمال ہیں۔ خیال رہے کہ احادیثِ مبارکہ میں افضل عمل کے بارے میں مختلف اقوال بیا ن کئے گئے ہیں،کہیں نماز کو افضل عمل قرا ر دیا گیا ،کہیں والدین کی خدمت کو، کہیں جہاد کو، یہ اختلا ف سا ئلین ومَواقع کے مختلف ہونے کی وجہ سےہے،نبی مکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےجہاں جس چیز کی ضرورت محسوس فرمائی ،موقع کےاعتبارسےجسےاہم جانا، سائل کے لئے جس عمل کو زیادہ اچھاسمجھا اسےافضل قرار دےدیا۔ پس جہاں نمازکی اہمیت ووقعت بیان کرنا چاہی وہاں نمازکوافضل عمل قراردیا۔جہاں جہاد کی ضرورت محسوس فرمائی وہاں جہاد کو افضل عمل بتایا،اورجہاں والدین کی عظمت بیان کرنا چاہی وہاں ان کی خدمت کوافضل عمل قرار دیا۔
مرآۃ المناجیح میں ہے:”ہمیشہ نمازیں وقتِ
مُسْتَحَبَّہپراداکرنا(افضل عمل ہے۔)علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایمان کے بعدنماز کا درجہ ہے۔ ان کی دلیل یہی حدیث ہے۔جن روایتوں میں جہادکو نمازسے پہلے بیان کیا گیا وہ بعض ہنگامی حالات میں ہے ،جب جہاد فرضِ عین ہوچکا ہواور دشمن کی یلغار بڑھ گئی ہو،ورنہ ظاہرہے کہ جہاد نماز ہی کے لئے ہوتا ہے۔یا یوں کہا جائے کہ سائلین کے لحاظ سے حضور کے جواب مختلف ہوئے،کسی کے لئے جہاد افضل تھا،کسی کے لئے غریبوں کو کھاناکھلانا،کسی کے لیے زبان کی حفاظت،کسی کے لئے چھپ کر خیرات۔لہٰذااحادیث متعارض نہیں۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’ایمان کے بعدمذکورہ بالاتینوں اعمال افضل ہیں۔نماز دِین کا ستون ہے۔جواس کی فضیلت جاننے کے باوجوداسےضائع کرےوہ دیگردینی اُمور کوبہت زیادہ ضائع کرنےوالا ہوگا۔جووالدین کی خدمت ترک کردےوہحقوقُ اﷲکابھی بہت زیادہ تارک ہوگا۔ جوباوجودِ قدرت فرض جہاد ترک کر دے وہ قُربِ الٰہی پانے والے بہت سے اعمال کاتارک ہوگا۔ الحاصل ان تین اعمال کاپابنددیگر اعمالِ صالحہ کا بھی پابند ہوگااورانہیں ضائع کرنے والادیگر اعمال کو بھی بہت زیادہ ضائع کرنے والاہوگا۔‘‘نمازوں کا پابند جہنم سے آزاد:مروی ہےکہ”جس نے اچھی طرح وضو کرکے رکوع وسجود کی صحیح ادائیگی کے ساتھ وقت پر پانچوں نمازیں ادا کیں اوراس بات کا اعتراف کیا کہ یہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا مجھ پر حق ہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے جسم کو جہنم پرحرام فرما دے گا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1074