Main Icon

باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 917

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ كَانَ آخِرُ كَلاَمِهِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ دَخَلَ الْجَنَّةَ.

عن معاذ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم:من كان آخر كلامه لا اله الا اللہ دخل الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا معاذرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس کا آخری کلاملَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔“

شرح حدیث

تلقین کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”دنیا میں موت کے وقت جس کا آخری کلام کلمہ طیبہ ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔اسی لیے ہمارے اصحاب نے فرمایا:”موت کے وقت مرنے والے کو تلقین کرنا چاہیے تاکہ اُس کا آخری کلاملَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہہو۔ “مرتے وقت کلمہ پڑھنے سے بخشش:مُفَسِّرِ شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اگرچہ عمربھرکلمہ پڑھتا رہا،لیکن مرتے وقت کلمہ ضرور پڑھناچاہیے کہ اس کی برکت سے بخشش ہوگی۔مرنے والے کو کلمہ پڑھانا اِسی حدیث پرعمل ہے۔روایت میں تو یہ بھی آیا ہے کہ کلمہ پڑھ کر سوؤ۔یہ حدیث کتاب الایمان کی اس حدیث کی شرح ہے کہ” جس نےلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہکہہ لیا جنتی ہوگیا۔“اسی معنیٰ پر حدیث میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔بعض روایات میں ہے کہ جس کا اول کلام”لَا اِلهَ اِلَّا اللّٰہ“ہو اس کے گناہوں کی معافی ہوگی،لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ بچے کی زبان کلمہ پر کھلے۔ اس سے مراد پورا کلمہ (یعنی:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ)ہے۔‘‘امام ابو زَرعہعَلَیْہِ الرَّحْمَہکو تلقین:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ”آئینہ عبرت“صفحہ47پر ہے: ”علمِ حدیث کے مشہور امام ابو زرعہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرض الموت میں سکراتِ موت اور جانکنی کے عالَم میںبہت سے محدثین حاضر تھے۔ لوگوں کو خیال آیا کہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنی چاہیے مگر حضرت ابوزرعہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی جلالتِ شان کے آگے کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آخر سب لوگوں نے سوچ کر یہ راہ نکالی کہ تلقین والی حدیث کا تذکرہ کرنا چاہیے تاکہ اُن کو کلمہ یاد آجائے۔ چنانچہ محمد بن مسلم محدثرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ابتدا کی اور یہ سنَد پڑھی کہحَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍاتنا پڑھ کر رُعب سے ان کی زبان بند ہوگئی اور اس پر ابوزرعہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے جانکنی کے عالم میں روایت شروع کردی کہحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ آخِرُ كَلامِهِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُاتنا ہی کہنے پائے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی۔مدنی گلدستہ’’کلمہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جس کا آخری کلام کلمہ ٔ طیبہ ہوگا وہ جنتی ہوگا۔
(2) مرنے والے کو کلمہ ٔ طیبہ کی تلقین کرنی چاہیے۔
(3) مرتے وقت کلمہ ضرور پڑھنا چاہیے کہ اِس کی برکت سے بخشش ہوگی۔
(4) بچہ جب بولنا شروع کرے تو کوشش کرکے سب سے پہلے کلمہ پڑھنا سکھانا چاہیے تاکہ اس کے بولنے کا آغاز کلمہ پر ہو۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں مرتے وقت کلمہ پڑھنا نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 917