Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 779

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْبَسُوْا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَاِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوْا فِيْهَا مَوْتَاكُمْ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:البسوا من ثيابكم البياض فانها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”سفید لباس پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے کپڑوں میں بہترین ہے اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔“

شرح حدیث

فرشتوں کا لباس:مذکورہ حدیث پاک میں سفید کپڑے پہننے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ”سفید رنگ کا لباس تمام لباس سے افضل ہے، اور یہ ان فرشتوں کا لباس ہے کہ جنہوں نے غزوۂ اُحد کے دن اور اس کے علاوہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مدد کی تھی، حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی سفید لباس زیب تَن فرماتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے اور مُردوں کو سفید کپڑے میں کفن دینے کا حکم ارشاد فرماتے تھے۔“عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”سفید لباس سب سے بہترین لباس ہے کیونکہ اسے رنگنے کی تکلیف نہیں اُٹھانی پڑتی اور اس پر گندگی بھی نہیں لگی رہتی کیونکہ سفید ہونے کی وجہ سے اس پر داغ چھپتا نہیں فورًا ظاہر ہو جاتا ہے اور اسے دور کردیا جاتا ہے اور رنگین کپڑے تکبر اور فخر کے لیے بھی پہنے جاتے ہیں جبکہ سفید کپڑا بہت عام ہوتا ہے اور بآسانی مُیَسَّر آجاتا ہے لیکن جب دنیادار لوگوں نے سفید کپڑے کی چمکائی اور صفائی میں حد سے زیادہ مبالغہ کیا تو زُہد اختیار کرنے والے ایک طبقے نے سفید کپڑے کو ترک کردیا اور انہوں نے سیاہ اور اس جیسے دوسرے کپڑے پہن لیے کیونکہ ان کپڑوں پر داغ واضح نہیں ہوتا اور اسی لیے انہیں بار بار دھونے کی تکلیف بھی نہیں اُٹھانی پڑتی یہی وجہ ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصرف سفید لباس ہی نہیں پہنتے تھے بلکہ طبعیت کے موافق سبز، سرخ، سفید اور دیگر رنگوں کے لباس بھی زیبِ تن فرماتے تھے۔“مذکورہ حدیث پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ تم اپنے مُردوں کو سفید کپڑے میں کفن دیا کرو۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہ حکم اِستحبابی ہے کہ زندوں اور مُردوں کے لیے سفید کپڑامستحب ہے ورنہ عورت میت کے لیے ریشمی، سوتی، سرخ، پیلا ہرطرح کا کفن جائزہے اگرچہ بہترسفید اورسوتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’سفید‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
سفید لباس تمام لباسوں میں افضل ہے اور حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اسے پہننے کی ترغیب دلائی ہے۔
غزوۂ اُحد کے دن حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی مدد کیلئےآنے والے فرشتوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا۔
سفید لباس پہننا مستحب ہے اور یہ رنگین لباس سے بہتر ہے کیونکہ اس پر داغ واضح ہوجاتا ہے اور اسے دھو دیا جاتا ہے جبکہ رنگین کپڑوں پر داغ واضح نہیں ہوتے، رنگین کپڑے تکبر و فخر کے لیے بھی پہنے جاتے ہیں ۔
مُردوں کو سفید کپڑے میں کفن دینا مستحب ہے اور عورت کو ریشمی، سوتی، سُرخ، پیلا یا کسی اور رنگ کا کفن دینا جائز ہے اگرچہ بہترسفید اورسوتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سفید لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 779