Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 788

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمُغَيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:كُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيْ مَسِيْرٍ فَقَالَ لِيْ:اَمَعَكَ مَاءٌ؟ قُلْتُ:نَعَمْ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى فِيْ سَوَادِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَاَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْاِدَاوَةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوْفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ اَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتّٰى اَخْرَجَهُمَا مِنْ اَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَاْسِهِ ثُمَّ اَهْوَيْتُ لِاَنْزَعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ:دَعْهُمَا فَاِنِّيْ اَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.وَفِيْ رِوَايَةٍ:وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ: اَنَّ هٰذِهِ القَضِيَّةَ كَانَتْ فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ.

عن المغيرة بن شعبة رضی اللہ عنہ قال:كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة في مسير فقال لي:امعك ماء؟ قلت:نعم فنزل عن راحلته فمشى حتى توارى في سواد الليل ثم جاء فافرغت عليه من الاداوة فغسل وجهه وعليه جبة من صوف فلم يستطع ان يخرج ذراعيه منها حتى اخرجهما من اسفل الجبة فغسل ذراعيه ومسح براسه ثم اهويت لانزع خفيه فقال:دعهما فاني ادخلتهما طاهرتين ومسح عليهما.وفي رواية:وعليه جبة شامية ضيقة الكمين.وفي رواية: ان هذه القضية كانت في غزوة تبوك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا مغیرہ بن شعبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں ایک رات سفر میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ تھا، آپ نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ پس آپ سواری سے نیچے تشریف لائے اور ایک طرف چل پڑے یہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہوگئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ پر پانی ڈالا اور آپ نے چہرۂ انور دھویا، آپ اونی جبہ زیب تن کیے ہوئے تھے،(چونکہ جبہ تنگ تھاتو)آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سے بازو باہر نہ نکال سکے لہٰذا آپ نے جبہ کے نیچے سے نکال کر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا، پھر میں آپ کے موزے اُتارنے کے لیے نیچے جھکا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو میں نے انہیں وضو کرکے پہنا ہے اور پھر آپ نے ان پر مسح فرمایا۔“ایک روایت میں ہے کہ ”آپ نے تنگ آستین والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا۔“اور ایک روایت میں ہے کہ ”یہ واقعہ غزوۂ تبوک میں پیش آیا۔“

شرح حدیث

حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکا زمین پر پہلا لباس:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اون کے تنگ آستین والا شامی جبہ زیب تن فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ تنگ آستین والا جبہ روم کا تھا۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانان دونوں روایتوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”بعض روایات میں ہے کہ حضورِ اَنور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے شامی جبہ پہنا، چونکہ اس زمانہ میں شام روم کا ماتحت تھا اس لیے ملک شام کو بھی روم کہہ دیا جاتا تھا یا مطلب ہے کہ بنا ہوا روم کا تھا سِلا ہوا شام کا بہرحال احادیث میں تعارض نہیں۔ یہ کپڑا اونی ہوتا تھا موٹا بنا ہوا بہت سادہ۔ حضرات صوفیا کرام بھی اکثر صوف یعنی اونی کپڑے پہنتے ہیں اس لیے انہیں صوفی کہا جاتا ہے یعنی صوف پہننے والے حضرت آدم و حوا نے زمین پر آکر پہلے اونی کپڑا پہنا۔ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَاماکثر صوف پہنتے اور درختوں کے پھل وغیرہ کھاتے تھے، جہاں شام آجاتی سو رہتے تھے۔ خواجہ حَسَن بصری فرماتے ہیں کہ میں نے ستر بدری صحابہ سے ملاقات کی سب کا لباس صوف یعنی اُون کا تھا، فقہا فرماتے ہیں کہ سفر میں تنگ آستین کی قمیص افضل ہے اور گھر کھلی آستین کی قمیص بہتر ہے۔صحابہ کرام کی آستین ایک بالشت چوڑی ہوتی تھیں۔“کفار کے بنائے ہوئےکپڑے پہننے کا حکم:ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:”حضورکی آستین خوب کشادہ ہوتی تھیں یہ تنگ آستینوں والا جبہ کسی جہاد میں غنیمتًاآیا ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہواکفار کے بنائے ہوئے کپڑے اور دوسرے ملک کی وضع کا لباس پہننا جائز ہے، ان کپڑوں پرخواہ مخواہ ناپاک ہونے کا وہم نہ کرو۔ حضرت عمر فاروق نے حَیرہ کے حُلے پہننے سے ممانعت فرمائی اورفرمایاسناگیاہے کہ وہ لوگ کپڑے پیشاب سے دھوتے ہیں، ابی ابن کعب نے عرض کیا کہ عہدنبوی میں یہ جوڑے ہم نے بھی پہنے ہیں اورحضورنے بھی تب آپ نے اپنا حکم واپس لیا۔ دوسری قوم کا لباس پہننا جائز ہے بشرطیکہ وہ کفاریافساق کی علامت نہ ہو۔“حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ جبہ اس قدر تنگ تھا کہ اس سے بازو باہر نکالنا مشکل ہوگئے تو آپ نے انہیں جبہ کے نیچے سے نکال کر دھویا۔ ”نیچے قمیض اورتہبندبھی تھا، ورنہ بے پردگی ہوتی۔ اس سے معلوم ہواکہ بیک وقت کرتہ واسکٹ اچکن وغیرہ چند کپڑے پہنناجائزہے۔“مدنی گلدستہپنجتن پاک کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضرت آدم و حوا
عَلَیْہِمَا السَّلَامنے زمین پر آنے کے بعد سب سے پہلے اون کا کپڑا پہنا۔
(2) فقہا فرماتے ہیں کہ سفر میں تنگ آستین کی قمیص افضل ہے اور گھر کھلی آستین کی قمیص بہتر ہے۔
(3) صحابہ کرام کی آستین ایک بالشت چوڑی ہوتی تھی۔
(4) کفار کے بنائے ہوئے کپڑے اور دوسرے ملک کا لباس پہننا جائز ہے جبکہ وہ ان کی علامت نہ ہو۔
(5) بیک وقت کرتہ، واسکٹ اور اچکن وغیرہ چند کپڑے پہنناجائزہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں شریعت کے مطابق لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائےاور غیر شرعی لباس سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 788