Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 781

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوْعًا وَلَقَدْ رَاَيْتُهُ فِیْ حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَاَيْتُ شَيْئًا قَطُّ اَحْسَنَ مِنْهُ.

عن البراء رضی اللہ عنہ قال: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم مربوعا ولقد رايته فی حلة حمراء ما رايت شيئا قط احسن منه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا براءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیانہ قد تھے اور میں نے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سُرخ حُلہ میں دیکھا تو میں نے آپ سے زیادہ حسین کبھی کوئی نہ دیکھا۔“

شرح حدیث

سُرخ کپڑے پہننے کا حکم:مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنا براءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سُرخ جوڑے میں دیکھا۔ ”یہاں سرخ سے مراد خالص (معصفریعنی کُسُم میں رنگا ہوا )سرخ نہیں کہ مردوں کے لیے خالص (مُعَصْفَر)سرخ لباس ممنوع ہے بلکہمُخَطَّطْ بِالْاَحْمَرْ(سرخ دھاری والا)مراد ہے یعنی اس کپڑے میں سُرخ خطوط بھی تھے اور ہرے بھی اور کپڑا ریشمی نہ تھا سوتی تھا۔ حُلہ سوتی کپڑے کا بھی ہوتا ہے یہ حُلہ یمنی تھا حضور(صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کو یمنی لباس محبوب تھا۔“
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”(مُعَصْفَریعنی کُسُم کا رنگا ہوا)سُرخ رنگ والا کپڑا اکثر فقہاء کے نزدیک ممنوع ہے، جس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ سیدِ عالَمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سرخ حُلّہ پہنا تھا یعنی اِزار اور چادر سرخ پہنے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ اس میں سُرخ غیرمُعَصْفَر(یعنی کُسُم کے علاوہ کسی اور چیز سے رنگے ہوئے) دھاگے تھے۔ خطابی نے کہا دھاگے کو سرخ رنگ دے کر کپڑا بُنا جائے تو وہ منع نہیں، ممنوع وہ ہے جو بُننے کے بعد سرخ رنگ کیا جائے۔ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جس کپڑے میں سرخ کے علاوہ اور رنگ مثلاً سیاہ و سفید ہو تو حرج نہیں، جن اَحادیث میں سرخ رنگ کا کپڑا پہننا مذکور ہے اس کا محمل یہ ہے کہ اس میں سرخ لکیریں تھیں خالص سرخ نہ تھا۔“
اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت،مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”کُسُم( ) کا رنگا ہوا سرخ اور کیسر( ) کا (رنگا ہوا) زرد (کپڑا)جنہیں مُعَصْفَر ومُزَعْفَر کہتے ہیں مَرد کو پہننا ناجائز وممنوع ہے اور ان سے نماز مکروہِ تحریمیاور خالص سرخ غیرمُعَصْفَر میں اِضطرابِ اَقوال ہے (یعنی مختلف اقوال ہیں)اور صحیح ومُعْتَمَد جواز بلکہ علامہ حسن شرنبلالی (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ)نے فرمایا : اس کا پہننا مستحب۔ حق یہ کہ اَحادیثِ نہی (یعنی جن اَحادیث میں منع ہے)سرخمُعَصْفَر(یعنی کُسُم سے رنگے ہوئے کپڑے)کے بارے میں ہیں۔ جیسے حدیث اِبنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَااور اَحادیث جواز(یعنی جن احادیث میں اجازت ہے)سرخ غیرمعصفر میں اورحضور اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا سرخ جوڑا پہننا بیانِ جواز کے لئے ہے۔“مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قد مبارک درمیانہ تھا۔”یہ فرمان ترکیبی ہے یعنی قریبًا درمیانہ تھے کیونکہ حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمقدرے طویل قد تھے۔‘‘مدنی گلدستہ’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
حُلّہ میں دو کپڑے ہوتے ہیں، ایک اِزار اور ایک چادر۔
حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو حلہ زیبِ تن فرمایا تھا وہ یمنی حلہ تھا اور وہ پورا سرخ نہیں تھا بلکہ اس پر سرخ اور ہرے رنگ کی دھاریاں تھیں اور اس کا کپڑا سوتی تھا۔
نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیمنی لباس کو پسند فرمایا کرتے تھے۔
حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدرمیانہ قامت ہیں، نہ آپ کا قد زیادہ لمبا نہ پست بلکہ قدرے طویل ہے۔
مَردوں کے لیے کُسُم سے رنگا ہواسرخ لباس پہننا منع ہے اور اس میں نماز مکروہِ تحریمی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کے مطابق لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 781