- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”سفید لباس پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے کپڑوں میں بہترین ہے اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔“
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْبَسُوْا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَاِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوْا فِيْهَا مَوْتَاكُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 779 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا سَمُرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”سفید لباس پہنا کرو کیونکہ یہ نہایت ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔“
عَنْ سَمُرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِلْبَسُوا الْبَيَاضَ فَاِنَّهَا اَطْهَرُ وَاَطْيَبُ وَكَفِّنُوْا فِيْهَا مَوْتَاكُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 780 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا براءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیانہ قد تھے اور میں نے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سُرخ حُلہ میں دیکھا تو میں نے آپ سے زیادہ حسین کبھی کوئی نہ دیکھا۔“
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوْعًا وَلَقَدْ رَاَيْتُهُ فِیْ حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَاَيْتُ شَيْئًا قَطُّ اَحْسَنَ مِنْهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 781 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوجُحَیْفَہوہب بنعبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مکہ مکرمہ میں دیکھا،آپ وادیٔاَبْطَحْمیں چمڑے کے سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے، حضرت سَیِّدُنَا بلالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُآپ کے وضو کا پانی لے کر باہر تشریف لائے، تو کسی کو اس کے چھینٹے نصیب ہوئے اور کسی نے وہ پانی حاصل کرلیا اتنے میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسُرخ جوڑا پہنے باہر تشریف لائے گویا کہ میں اِس وقت بھیرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں، پھر آپ نے وضو فرمایا اور حضرت بلالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اذان دی، میں اُن کے منہ کی طرف دیکھنے لگا، وہ منہ کو دائیں جانب پھیر کرحَیَّ عَلَى الصَّلَاةِکہتے اور بائیں جانب پھیر کرحَیَّ عَلَى الفَلَاحِکہتے تھے، پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے ایک نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، آپ کے آگے سے کُتے اور گدھے گزر رہے تھے لیکن انہیں روکا نہیں جاتا تھا۔“
عَنْ اَبِیْ جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:رَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْاَبْطَحِ فِیْ قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ اَدَمِ فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوْئِهِ فَمِنْ نَاضِحٍ وَنَائِلٍ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ فَتَوَضَّاَ وَاَذَّنَ بِلَالٌ فَجَعَلْتُ اَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا يَقُوْلُ يَمِيْنًا وَشِمَالًا:حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ ثُمَّ رُكِزَ تْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ لَا يُمْنَعُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 782 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو رِمثہ رَفاعہ تیمیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ آپ پر سبز رنگ کے دو کپڑے تھے۔“
عَنْ اَبِیْ رِمْثَةَ رَفَاعَةَ التَّیْمِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ اَخْضَرَانِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 783 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفتح مکہ کے روز (مکہ معظمہ میں)داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ عما مہ تھا۔“
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 784 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید عَمرو بن حُرَیْثرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”گویاکہ میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ رہا ہوں آپ پر سیاہ عمامہ شریف تھا اور آپ نے اس کے دونوں کنارے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے تھے۔“اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو خطبہ دیا اور آپ کے سر پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: كَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ اَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 785 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوسحول کے بنے ہوئے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ۔“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ:كُفِّنَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ ثَلَاثَةِ اَثْوَابٍ بِيْضٍ سَحُوْلِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيْهَا قَمِيْصٌ وَلَا عِمَامَةٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 786 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک صبح سیاہ اون سے بنی ہوئی چادر پہن کر باہر تشریف لائے جس پر کجاووں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔“
عَنْ عائشۃ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ اَسْوَدَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 787 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا مغیرہ بن شعبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں ایک رات سفر میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ تھا، آپ نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ پس آپ سواری سے نیچے تشریف لائے اور ایک طرف چل پڑے یہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہوگئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ پر پانی ڈالا اور آپ نے چہرۂ انور دھویا، آپ اونی جبہ زیب تن کیے ہوئے تھے،(چونکہ جبہ تنگ تھاتو)آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سے بازو باہر نہ نکال سکے لہٰذا آپ نے جبہ کے نیچے سے نکال کر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا، پھر میں آپ کے موزے اُتارنے کے لیے نیچے جھکا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو میں نے انہیں وضو کرکے پہنا ہے اور پھر آپ نے ان پر مسح فرمایا۔“ایک روایت میں ہے کہ ”آپ نے تنگ آستین والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا۔“اور ایک روایت میں ہے کہ ”یہ واقعہ غزوۂ تبوک میں پیش آیا۔“
عَنِ الْمُغَيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:كُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيْ مَسِيْرٍ فَقَالَ لِيْ:اَمَعَكَ مَاءٌ؟ قُلْتُ:نَعَمْ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى فِيْ سَوَادِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَاَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْاِدَاوَةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوْفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ اَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتّٰى اَخْرَجَهُمَا مِنْ اَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَاْسِهِ ثُمَّ اَهْوَيْتُ لِاَنْزَعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ:دَعْهُمَا فَاِنِّيْ اَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.وَفِيْ رِوَايَةٍ:وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ: اَنَّ هٰذِهِ القَضِيَّةَ كَانَتْ فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 788 ، باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان