Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 787

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عائشۃ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ اَسْوَدَ.

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت خرج رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ذات غداة وعليه مرط مرحل من شعر اسود.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک صبح سیاہ اون سے بنی ہوئی چادر پہن کر باہر تشریف لائے جس پر کجاووں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔“

شرح حدیث

اُون کا کپڑا سب سے پہلے کس نے پہنا؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ بالوں یعنی اون کا لباس اور سیاہ رنگ کا لباس پہننا جائز ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ غیر جاندار چیز کی تصویر بنانا جائز ہے۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہمفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اُون اور بالوں کے کپڑے انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنت ہے۔سب سے پہلے سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ کپڑے پہنے۔ حدیث میں ہے کہ اون کے کپڑے پہن کر اپنے دلوں کو منور کرو کہ یہ دنیا میں مذلّت ہے اور آخرت میں نور ہے اور صوف یعنی اون کے کپڑے، اولیائے کاملین اور بزرگانِ دین نے پہنے اور ان کو صوفی کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صوف یعنی اون کے کپڑے پہنتے تھے۔ اگرچہ ان کے جسم پر کالی کملی ہوتی، مگر دل مَخْزَنِ اَنوارِ اِلٰہی اور مَعْدِنِ اَسرارِ نامتناہی ہوتا، مگر اس زمانے میں اون کے کپڑے بہت بیش قیمت ہوتے ہیں اور ان کا شمار لباسہائے فاخرہ میں ہوتا ہے، یہ چیزیں فقرا اور غربا کو کہاں ملیں، انھیں تو امرا و رؤسا استعمال کرتے ہیں۔“مدنی گلدستہ’’صوفی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے سیاہ اون سے بنی ہوئی ایسی چادر بھی استعمال فرمائی ہے کہ جس پر اونٹوں کے کجاووں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔
(2) اون اور سیاہ رنگ کا ایسا لباس پہننا جائز ہے کہ جس پر غیر جاندار چیز کی تصویر بنی ہوئی ہو۔
(3) اون اور بالوں کے کپڑے انبیائےکرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنت ہے۔ سب سے پہلے سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ کپڑے پہنے۔
(4) صُوف یعنی اون کے کپڑے، اولیائے کاملین اور بزرگانِ دِین نے پہنے اور ان کو صوفی کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صُوف یعنی اون کے کپڑے پہنتے تھے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سادہ لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائےاور غیر شرعی فیشن والے لباس سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 787