- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- حدیث نمبر 571
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : لَا حَسَدَ اِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ،رَجُلٌ اٰتَاهُ اللهُ مَالًا، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الحَقِّ، وَرَجُلٌ اٰتَاهُ اللهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا.
عن عبد الله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : لا حسد الا في اثنتين،رجل اتاه الله مالا، فسلطه على هلكته في الحق، ورجل اتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناعبد اللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’رشک دو بندوں کے علاوہ کسی پر جائز نہیں۔ ایک وہ جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا فرمایا اوروہ اسے اچھے کاموں میں خرچ کرتاہو۔ دوسرا وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حکمت عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور لوگوں کو سکھاتا ہو۔‘‘
شرح حدیث
مال کو اسکےحق میں خرچ کرنے کی اَقسام:شرح ابن بطال میں ہے :” بعض علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامفرماتے ہیں: مال کو اس کے حق میں خرچ کرنے کی تین قسمیں ہیں:(1) اپنی ذات پر خرچ کرنا۔یعنی کنجوسی ا وراسراف سے بچتے ہوئے اپنے اہل وعیال اور جن کانفقہ اس پر لازم ہے ان پر بغیر تنگی اور اِسراف کے خرچ کرنااور یہ خرچ کرنا،صدقہ وخیرات اورتمام نفلی صدقات سے افضل ہے۔ فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے :”جو مال تورضائے الٰہی کے لئے خرچ کرے اس پر تجھے اجر دیا جائے گا حتی کہ اس لقمے پر بھی جو تو اپنی زوجہ کو کھلاتا ہے۔‘‘(2) زکوٰۃ اور دیگر حقوقِ واجبہ کی ادائیگی میں خرچ کرنا۔ ایک قول ہے کہ جس نے زکوٰۃ اد اکر دی اسے بخیل نہیں کہا جاسکتا(یعنی اگر وہ نفلی صدقات نہ دیتا ہوتو بھی اُسے بخیل نہیں کہا جاسکتا)۔(3)دُور کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانااور نفلی صدقات وغیرہ میں خرچ کرنا۔پس یہ مستحب نفقات ہیں اور اِن پر اجر دیا جاتا ہے۔فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ”مفلسوں اورفقیروں کے لیے کوشش کرنے والا راہِ خدا کے مجاہد کی طرح ہے۔‘‘ تو جس نے اِن تین قسموں میں اپنا مال خرچ کیا، اس نے اپنے مال کواس کے حق میں خرچ کیا اور اس کی جگہ پر رکھا تو ایسا بندہ واقعی قابل رشک ہے۔اسی طرح وہ بندہ جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے علم وحکمت عطا فرمائی اور وہ اسے دوسروں کو سکھاتا ہے تو وہ نبیوں کا وار ث ہے ،کیونکہ وہ تو مرجائے گا مگر تا قیا مت اسے اُن لوگوں کا اجر ملتا رہے گا جنہیں ا ُس نے علم وحکمت کی تعلیم دی اور اُنہوں نے اُس پر عمل کیا ۔ پس تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے شخص پر رشک کریں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّجسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے ۔“حسداوررشك كی تعريف واَقسام:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکورمیں حسد کے الفاظ ہیں، عموماً حسد سے مراد وہ حسد ہوتا ہے جو شرعاً مذموم ہے یعنی اپنے بھائی کے پاس کسی نعمت کو دیکھ کر اس کے زوال کی تمنا کرنا ۔ لیکن یہاں حدیث پاک میں حسد سے مراد رشک ہے یعنی اپنے بھائی کے پاس کسی نعمت کو دیکھ کر اس کے زوال کی تمنا کیے بغیر یہ چاہنا کہ اس جیسی نعمت مجھے بھی مل جائے، اسےغِبْطہکہتے ہیں۔ دراصل یہ حسد کی ہی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک مذموم اور دوسری محمود ہے۔ چنانچہ شرح نووی میں ہے:”علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے فرمایا:’’حسدکی دو قسمیں ہیں:حقیقی اور مجازی۔حقیقی یہ ہے کہ کسی نعمت والے کی نعمت کا زوال چاہنا اور یہ بالاجماع حرام ہے ۔مجازی حسد کو غبطہ یعنی رشک کہا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی کی نعمت دیکھ کر اس جیسی نعمت کی تمنا کرنااور اس کی نعمت کا زوال نہ چاہنا۔اگر یہ رشک دُنیوی اُمور میں ہوتو مباح ہے اوراگر نیکیوں میں ہو تو مستحب اور حدیث سے مراد یہ ہے کہ مذکورہ دو خصلتوں کے سوا اور کسی شےمیں رشک اچھا نہیں۔‘‘صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدرَشک کی تین اقسام:رشک کبھی واجب ہوتا ہےکبھی مستحباورکبھی جائز ۔ تفصیل یہ ہےکہ رشک دینی نعمتوں پر ہوگایا دنیاوی نعمتوں پر۔ پھردینی نعمت اگر ایسی ہو جس کاحاصل کرنا واجب ہے تو اس نعمت پر رشک کرنا واجب ہے جیسے باجماعت نماز اور رمضان کے روزوں کی پابندی وغیرہ ، کیونکہ اگریہ اُن نعمتوں پر رشک نہیں کرتا تواِس کامطلب ہےکہ بے نمازی اور روزہ خور رہنے پر خوش ہےجس سے گنا ہ پر راضی رہنا لازم آئے گا اور یہ حرام ہےاور اگر اس دینی نعمت کاتعلق فرائض وواجبات سے نہیں بلکہ فضائل سے ہےتو اس پر رشک مستحب ہے جیسےذِکرُاللّٰہکرنا ، دُرُودِ پاک پڑھنا ، نوافل کی ادائیگی ، راہِ خدا میں خرچ کرنا اور سنتوں بھرے اِجتماعات میں شرکت کرنا وغیرہ اوراگروہ نعمت ایسی ہے جسے حاصل کرنا جائز ہے جیسے نکاح کرنا تو اُس میں رشک کرنا جائز ہے یوں ہی اگررشک دنیاوی نعمتوں میں ہو جیسے خوبصورت مکانات ، کپڑے ، گاڑیاں اور زیورات وغیرہ تو ایسا رشک جائز ہے البتہ اس طرح فضائل میں کمی ضرور آتی ہے کیونکہ اس طرح کی چیزیں زُہد، توکل اور رضا کے خلاف اور اعلیٰ درجات کے حُصُول میں رکاوٹ ہیں تاہم گناہ کا باعث نہیں۔اچھے کاموں میں خرچ کرنے والا مالدار:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور میں اُسی بندےکو قابل رشک کہا گیا ہے جو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اپنامال خرچ کرے ۔بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کی کئی قسمیں ہیں۔ حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَاامام محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِینےاس کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں، جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: (1)پہلی قسم:مال اپنےاوپر خرچ کرےخواہ عبادت میں یا عبادت پر مدد حاصل کرنے کے لئے۔ عبادت میں اس طرح مثلاً: حج یا جہادمیں خرچ کرے کیونکہ یہ دونوں عبادتیں بغیر مال کے ادا نہیں ہوسکتیں اور یہ دونوں کام اُصول عبادات میں سے ہیں اور فقیر آدمی ان دونوں فضیلتوں سے محروم ہوتا ہے۔ عبادت پر مدد حاصل کرنے میں اس طرح کہ وہ کھانے ، لباس، رہائش، نکاح اور دیگر ضروریات زندگی پر مال خرچ کرے کیونکہ یہ بنیادی ضرورتیں ہیں اور جب تک یہ پوری نہیں ہوتیں دل ان میں مشغول رہتا ہے اور دِین کے لئے فارغ نہیں ہوپاتا اورجو چیز عبادت تک پہنچنے کا ذریعہ بنے وہ بھی عبادت ہوتی ہے،لہٰذا دِین پر مدد حاصل کرنے کے لیے دنیا سے بقدر ِ ضرورت لینا دِینی فوائد میں سے ہے لیکن عَیّاشی اور حاجت سے زائد لینا اس میں شامل نہیں کیونکہ یہ محض دنیاوی فوائدمیں سے ہے۔(2)دوسری قسم:وہ مال جو لوگوں پر خرچ کیا جائے۔اس کی چار قسمیں ہیں:(۱)صَدَقہ کرنا (۲)مُرَوَّت کے طور پر دینا (۳)عزت کی حفاظت کے لئے دینا اور (۴)خدمت کی اجرت دینا۔*جہاں تک صدقہ کی بات ہے تو اس کا ثواب کسی پر مخفی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا نیک عمل ہے جویہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےغضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔*جہاں تک مروت کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ مال دار اور مُعَزز لوگوں کی مہمان نوازی کرنا، انہیں تحفے تحائف دینا اور ان کی مدد وغیرہ کرنا،اسے صدقہ نہیں کہیں گے کیونکہ صدقہ وہ ہوتا ہے جومحتاجوں کو دیا جائے۔مگر یہ دینی فوائد میں سےضرور ہے کیونکہ اس طرح آدمی بھائی اوردوست بنالیتاہے نیز سخاوت کی صِفَت سے مُتَّصِف ہوکر سخی لوگوں کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہےاور وہی شخص سخاوت کی صفت سے موصوف ہوتا ہے جو لوگوں کے ساتھ اِحسان اور مروت کا سلوک کرتا ہےاور مروت سے پیش آنا بھی بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہےکیونکہ بہت سی رِوایات میں تحفے تحائف دینے،مہمان نوازی کرنے اوربغیر فقر وفاقہ کی قیدکے دوسرے کو کھانا کھلانے کے بارے میں بھی فضائل مروی ہیں۔*عزت بچانے کے لئے مال خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اس لئے مال خرچ کرے تاکہ شُعراء کی ہَجْو(یعنی طعن وتشنیع)سے بچے اور کمینے لوگوں کے شر سے محفوظ رہے۔یہ اگرچہ دنیا کا فوری حاصل ہونے والا نفع ہے لیکن اس کا دینی فائدہ بھی ہے۔سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس چیز کے ذریعے بندہ اپنی عزت بچائے اس پر اسے صدقہ کا ثواب دیا جاتا ہے۔‘‘اور یہ خرچ کرنا دِینی کیوں نہ ہو جبکہ اس کے ذریعے غیبت کرنے والے کوغیبت کے گناہ سے اور عداوت کرنے والے کو انتقام اور بدلہ لینےکی صورت میں حُدودِ شَرع توڑنے سےروکاجا رہا ہے۔(یہ الگ بات ہے کہ جس کو دیا جارہا ہے اس کے حق میں یہ مال رشوت کے حکم میں ہے۔)*جہاں تک خدمت کے بدلے اُجرت دینے کی بات ہے تو یہ بھی اَجَرو ثواب سے خالی نہیں کیونکہ آدمی کو اپنے اسباب کی تیاری میں جن کاموں کی حاجت ہوتی ہے وہ بہت زیادہ ہیں اگر وہ خود ہی تمام کام انجام دینے لگے تودقت ہوجائے گی اورراہِ آخرت پرچلنااس کے لئے مشکل ہوجائے گااور ذکر وفکر جو سالِکیْن کے لئے اعلیٰ مقامات میں سے ہے اس کی بجا آوری نہ ہوسکےگی۔ ظاہر ہے جس کے پاس مال نہیں ہوگا وہ اپنے کام تنہاانجام دینے پر مجبور ہوگامثلاً:غلہ خریدنا اوراسے پیسنا، گھر کی صفائی کرنایہاں تک کہ جس کتاب کی اسے ضرورت ہوگی اسے خودہی لکھنا ہوگاجبکہ جو کام دوسروں کے ذریعے ہوسکتے ہیں،اس سے انسانی غَرَض پوری ہوجاتی ہے اب اگروہ اس میں مشغول ہوتاہے تویہ اس کے لئے خسارے کا باعث ہے کیونکہ علم کا حصول اور اس پرعمل کرنا اور ذکرو فکر میں مشغول رہنا یہ ایسےکام ہیں جودوسروں کے ذریعے نہیں ہوسکتے، لہٰذا ان کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں وقت ضائع کرنا نقصان کا باعث ہے۔(3) تیسری قسم:مال کسی متعین آدمی پر خرچ نہ ہوبلکہ اس سے عام فائدہ حاصل ہو۔ مثلاً:مساجِد، پُل،مسافر خانے اور بیماروں کے لئےہسپتال وغیرہ بنانا، راستے میں پانی کی سبیلیں لگانااور اس کے علاوہ اچھے مقاصِد کے لئے زمین وَقْف کرنا یہ ایسے صَدَقاتِ جارِیہ ہیں جو آدمی کو مرنے کے بعد بھی نفع پہنچاتے ہیں اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے ایسے لوگوں کے حق میں مُدَّتَوں دعائے خیر کرتے ہیں ،اس سے بڑھ کر اور کیا خیر کا کام ہوگا؟حکمت کے ساتھ فیصلہ کرنے اور سکھانے والا:حدیثِ مذکورمیں اسےبھی قابلِ رشک قراردیاگیا جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حکمت عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرےاور لوگوں کواس کا درس دے ۔یہاں حکمت سے کیا مراد ہے؟ اس میں بہت اقوال ہیں۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مطلق علم ہے کہ جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے علم عطا فرمایا، اس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اور اسے دوسروں کو سکھایا۔بعض نے کہا: حکمت سے مراد سنت ہے،بعض علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے فرمایا کہ یہاں حکمت سے مراد قرآنِ پاک ہے یعنی وہ بندہ جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن پاک کا علم عطا فرمایا، وہ اسی قرآن کے ذریعے فیصلہ کرے اورلوگوں کو قرآن سکھائے۔ حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’رشک صرف دو آدمیوں پر جائز ہے: ایک وہ جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن سکھایا اور وہ دن رات اس کی تلاوت کرتا ہے۔ دوسرا وہ جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا فرمایا اور وہ اسے اچھے کاموں میں خرچ کرتا ہے۔‘‘صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 571