- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
- حدیث نمبر 95
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ”مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْاٰذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ، وَمَاتَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہُ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ، وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہِ، وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا، وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا، وَاِنْ سَاَ لَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہُ. ( )
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ان اللہ تعالی قال”من عادی لی ولیا فقداذنتہ بالحرب، وماتقرب الی عبدی بشیء احب الی مما افترضت علیہ، وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ، فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ، وبصرہ الذی یبصر بہ، ویدہ التی یبطش بہا، ورجلہ التی یمشی بہا، وان سا لنی لاعطینہ، ولئن استعاذنی لاعیذنہ. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت ِسَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولوں کے سالار شہنشاہ ابرارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرورعطا کروں گااور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا۔ ‘‘
شرح حدیث
ولی کون ہے؟ولی کی کئی تعریفات بیان کی گئی ہیں ۔علامہ سَعْدُ الدین تَفْتَازَانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ ولی وہ ہے جوممکنہ حد تکاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کی صفات کا عارف ہو، ہمیشہ اُس کی عبادت کرتا ہواور ہرقسم کے گناہوں اور ( مباح اشیاء ) کی لذات اورشہوات میں مشغولیت سے بچتا ہو۔ ‘‘ ( )فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ولی وہ مؤمنعَارِفْ بِاللّٰہہے جو طاعات کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہے اور مُحَرَّمات سے بچتا رہے وہ بھیاللہکی رضا کے لیے نہ کہ عزت وشہرت حاصل کرنے کے لیے اور دکھاوے کے لیے ، اس لیے جو شریعت کا پابند نہیں وہ ولی نہیں ہوسکتا اگرچہ ہوا میں اڑے ۔جوگی جے پال حالت کفر میں قادر تھے کہ اپنے حریف پر پتھر برسائیں ، آگ برسائیں ، خود ہوا میں اڑیں ، کیا اس وقت وہ ولی تھے؟ (ہرگز نہیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ) ارشاد ہے: (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ) (پ۹، الانفال:۳۴)اللہکے ولی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥دشمنی اور جنگ سے متعلق دو اہم مدنی پھول:علامہ بدرالدین عینیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہاں دو اہم اور علمی مدنی پھول بیان فرمائے ہیں : (۱) پہلا یہ کہ حدیث پاک میں ہے: ”مَنْ عَادٰی لِی وَلِیًّایعنی جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی۔ ‘‘عَادٰیباب مفاعلہ سے ہے اور باب مفاعلہ کا خاصہ ہے کہ اس میں فعل جانِبَیْن یعنی دونوں طرف سے ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ’’ کوئی شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولی سے عداوت یعنی دشمنی رکھے اور دوسری طرف سے وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکاولی بھی اس سے عداوت یعنی دشمنی رکھے تو اس کے خلاف ربّعَزَّ وَجَلَّکا اعلان جنگ ہے۔ ‘‘ حالانکہاللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی کی شان کسی سے دشمنی رکھنا نہیں بلکہ عداوت یعنی دشمنی سے اجتناب کرنا اور بُردباری سے کام لینا ہے۔ ‘‘ بعض علماء نے اس کا جواب یہ دیا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ولی کی طرف سے جو عداوت یعنی دشمنی ہوتی ہے وہاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے لیے ہوتی ہے جبکہ دوسرے شخص کی طرف سے جو عداوت یعنی دشمنی ہوتی ہے وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے نہیں ۔ ‘‘ ( بلکہ اس کی اپنی ذات کے لیے ہوتی ہے، لہٰذا دونوں طرف کی دشمنی میں فرق ہے۔) علامہ بدر الدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس سوال کے جواب میں اتنے تکلف کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ باب مفاعلہ میں فعل عموماً جانبین سے ہوتا ہے لیکن کبھی ایک جانب سے فعل کے واقع ہونے کے لے بھی آتا ہےجیسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان عالیشان ہے:وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ(پ۴، آل عمران:۱۳۳)ترجمۂ کنزالایمان: اور دوڑو اپنے ربّ کی بخشش کی طرف۔
اس آیت میںسَارِعُوْاباب مفاعلہ سے ہے لیکن یہاں سُرعت (دوڑنے) کا فعل جانبین (ربّ اور بندوں کی طرف) سے نہیں بلکہ فقط بندوں کی طرف سے ہے معنی یہ ہے کہ تم دوڑو۔ ‘‘
(۲) دوسرا یہ کہ حدیث پاک میں ہے: ’’اٰذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ‘‘ یعنی میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اور جنگ جانبین یعنی دونوں طرف سے ہوتی ہے جبکہ مخلوقاللہ عَزَّ وَجَلَّکی قید میں ہے تو وہ اس سے جنگ کیسے کرسکتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں جنگ سے اس کا لازم معنی یعنی جنگی معاملہ مراد ہے کہ میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو جنگی دشمن کرتا ہے۔ ( )
¥اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ولی ہونے کی وجہ سے عداوت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’وَلِیُ اللہسے اس لیے عداوت وعِناد (دشمنی وبغض رکھنا) کہوَلِیُ اللہہے یہ تو کفر ہے۔اسی کا یہاں (حدیث پاک میں ) ذکر ہےاور ایک ہے کسی ولی سے اختلافِ رائے یہ نہ کفر ہے اور نہ ہی فسق۔ ‘‘ ( )
شارح حدیث حضرت علامہ غلام رسول رَضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحدیث پاک کے اس حصے: ’’ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی جو کوئی ولی سے عداوت (دُشمنی) اس لیے کرتا ہے کہ وہ میرا ولی ہے، میں اس سے جنگ کرتا ہوں اور اس کو ہلاک کرتا ہوں اور اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہوں جو اس کو اذیت پہنچاتے رہیں ۔اُس شخص کی یہ رسوائی دنیا میں ہےآخرت کی خرابی اس کے علاوہ ہے۔اللہ تعالٰیمسلمانوں کو ایسی ذلت و رُسوائی سے پناہ دے۔ ‘‘ ( )
¥ولی سے عدا وت کا وبال:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیائمہ کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامکے حوالے سے بیان فرماتے ہیں : ’’ دو قسم کے گناہ گاروں سے ربّعَزَّوَجَلَّنے اِعلانِ جنگ کیا ہے: (۱) سُود خور (۲) اَولیاء کا دشمن ۔یہ دونوں (یعنی سود خوری اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی) بہت بڑے گناہ ہیں کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندے سے جنگ کرنابندے کے بُرے خاتمے پر دلالت کرتاہے اورجس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاِعلان جنگ کر دےوہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ ( )فرائض اور نوافل کی ادائیگی میں فرق:فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیحدیث پاک کی شرح کے تحت فرماتے ہیں : ’’ فرائض کی پابندی اور ادائیگی بہ نسبت نوافل کے افضل ہےاور یہ بالکل ظاہر ہے کہ فرائض اداکرنے میں ثواب کی امید ہے اور ترک میں عذاب کا استحقاق اور نوافل کی ادائیگی میں ثواب کی امید اور ترک پر کوئی گناہ نہیں ۔نیز فرائضمَامُوْربِہٖہیں (یعنی ان کے کرنے کا حکم دیا گیاہے) ان کا کرنے والا تابع فرمان ہے۔اس میں آمر (یعنی حکم دینے والے) کی عظمت ظاہر ہے، اس میں عبودیت کا تذلل بھی ہے۔نیز فرائض اصل ہیں اور نوافل فرع ۔حتی کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ جو (شخص) فرائض ترک کیے (ہوئے) ہواور نوافل ادا کرے تو اس کے سارے نوافل زمین وآسمان کے درمیان مُعَلَّق رہیں گے مقبول نہ ہوں گے۔ اسی لیے علماء نے فرمایا :جس کے فرائض قضا ہوگئے ہوں وہ بجائے نوافل کے فرائض کی قضاکرے۔ ‘‘ ( )
¥کن نوافل سے قرب ِ الٰہی حاصل ہو تا ہے؟حدیثِ مذکور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوافل کے ذریعے بندہ اپنے ربّ کا مُقَرَّب ومحبوب بن جاتا ہے ۔ تو یہاں مطلقاً نوافل مراد نہیں بلکہ وہ نوافل مرادہیں جو فرائض کی ادائیگی کے بعد اضافی طور پر ادا کیے جائیں ۔فرائض کی ادائیگی کے بغیرمحض نوافل کی وجہ سے نہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب مل سکتا ہے نہ وِلایت ۔
فقیہ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینوافل کے ذریعے قرب حاصل کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ فرائض کی کَمَا حَقُّہُ ادائیگی کے بعد نوافل کی ادائیگی کرتا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑے اور نوافل ادا کرے پھر بھی محبوب ہوگا۔ اس لیے کہ جو فرائض چھوڑے گا فاسق ہوگا وہ محبوب کیسے ہوگا؟ نوافل چونکہ بندہ اپنی طرف سے بخوشی ادا کرتا ہے اس لیے نوافل ادا کرنے والا محبت کا مستحق ہوا، اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص خدمت پر نوکر ہے جس کی تنخواہ لیتا ہےاورمتعلقہ خدمت کے سوا کچھ انجام نہیں دیتا وہ مشاہرے کا ضرورمستحق ہے اور وہ ایک اچھا نوکر بھی کہلائے گا مگر دوسرا نوکرمتعلقہ خدمات کے علاوہ مزید اپنی خوشی سے دوسری خدمات بھی انجام دیتا ہے یقیناً مالک اس دوسرے نوکر سے پہلے کی بہ نسبت زیادہ محبت کرے گا۔ ‘‘ ( )
¥فرائض وواجبات کے ساتھ نوافل ادا کرنے والے کی مثال:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ صرف فرائض وواجبات ادا کرنے والوں اور فرائض وواجبات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرنے والوں کی مثال ان دو غلاموں کی طرح ہے کہ جنہیں ان کا مالک پھل لانے کا حکم دے تو ان میں سے ایک پھلوں کو ٹوکری میں رکھ کر پھولوں اور خوشبو وغیرہ سے سجا کر بڑے سلیقے سے اپنے مالک کی خدمت میں پیش کرے۔جبکہ دوسرا جھولی میں پھل لائے اور اپنے مالک کے سامنے زمین پر ڈال دے۔تو ان دونوں ہی غلاموں نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کی لیکن اہتمام سے حکم کی تعمیل کرنے والادوسرے کے مقابلے میں مالک کو زیادہ محبوب ہوگا۔ اسی طرح جو بندہ فرائض کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت فرماتا ہے۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اپنے بندے سے محبت کا انعام:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جباللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے اپنے ذکر اور فرمانبرداری میں مشغول کرکے شیطان کے شر سے محفوظ فرمادیتا ہے، اس کے سب اعضاء کو نیکیوں میں لگا دیتا ہے ۔ قرآنِ پاک کی سماعت اور ذکرِ الٰہی کو اس کا محبوب ترین مشغلہ بنا دیتا ہے۔ گانے باجے اور دیگر لَغْوِیَات کو اس کے نزدیک بہت نا پسندیدہ کر دیتا ہے، پھروہ جاہلوں سے اعراض اور فحش کلامی سے اجتناب کرتا ہے، اپنی نظروں کو حرام اشیاء سے بچاتا ہے، پس اس کا دیکھنا غور وفکر و عبرت پر مبنی ہوتا ہے، وہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی قدرت پر دلیل پکڑتا ہے۔
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’ میں کسی بھی چیز کو دیکھنے سے پہلے اپنے ربّعَزَّوَجَلَّکی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ ‘‘ مخلوق کو دیکھ کر خالق کی قدرت کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کو دیکھ کر ان کے خالق کی تسبیح و تقدیس بیان کرے اور اس کی عظمت کا اقرار کرے، اپنے ہاتھ، پاؤں صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کے مطابق استعمال کرے، کسی فضول کام کی طرف نہ چلے، اپنے ہاتھوں سے کوئی بے کار کام نہ کرے، اس کی حرکات وسَکَنَاتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہوں ، جب بندے کی یہ حالت ہو جائے تو اسے اس کی تمام حرکات وسَکَنَا ت اور افعال پر ثواب دیا جاتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥سالکین کا آخری اور واصلین کا پہلا درجہ:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندے سے محبت کرنا یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ مختلف عبادات کے ذریعےاس کاقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور مختلف مجاہدات کے ذریعے ایک درجے سے دوسرے درجے کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہاللہ عَزَّوَجَلَّاس سے محبت کرنے لگتا ہے، پھروہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلوؤں میں اس طرح گُم ہوجاتاہے کہ جس طرف دیکھتا ہے اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ہی جلوہ نظر آتاہے۔یہ سالکین کا آخری اور واصلین کا پہلادرجہ ہے۔ ‘‘ ( )
¥ربّعَزَّوَجَلَّکا کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں ہونا:حدیث پاک میں فرمایا گیا ’’ میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔۔۔الخ ‘‘ علمائے کرام اور شارحین نے اس کے کئی معنی بیان فرمائے ہیں ۔شارح حدیث علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس کے دو معنی بیان فرمائے ہیں : ’’ (۱) پہلا معنی یہ ہے کہ میں اس کے کان آنکھ اورہاتھ اور پاؤں کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہوں ۔ (۲) دوسرا معنی یہ ہے کہ جب وہ اپنے ہاتھ ، کان یا پاؤں سے کوئی عمل کرتا ہے تو میری یاد اس کے دل میں بسی ہوتی ہے جب وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے تو غیر کے لیے کوئی کام نہیں کرتا۔ ‘‘ ( ) (اس کے سب کام میری رضا کے لیے ہوتے ہیں ۔)عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث اپنے مجازی معنی پر محمول ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندے کی اِس طرح حفاظت فرماتا ہےجیسے بندہ اپنے اعضاء کی خودحفاظت کر تااورانہیں ہلاکت سے بچاتا ہے۔ ‘‘ امام خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’ اِس حدیث میں سمجھانے کے لیے اِس طرح مثال دی گئی ہے اور معنی یہ ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندے کو اِن چار اعضاء ( یعنی ہاتھ، زبان، کان اور پاؤں ) سے ہونے والے نیک اُمور کی پہچان کرا دیتا ہے۔پھر اِن نیک اَعمال کی محبت اِس کے دل میں ڈال کر اِنہیں اِس پرآسان کر دیتا ہےاوراِن اعضاءکو اپنی ناراضی والے کاموں مثلاً بُری باتیں سننا، ممنوع اشیاء کی طرف نظر کرنا ، حرام اشیاء کو پکڑنا، ناجائز اُمور کی طرف چلنا وغیرہ سے محفوظ کر دیتا ہے۔یا پھر اِس پراِس طرح آسانی فرماتا ہے کہ اِس کی دعائیں اور حاجتیں جلدپوری فرماتا ہے۔ ‘‘ ( )ایک اِشکال اور اُس کا جواب:حدیث پاک میں فرمانِ باری تعالی ہے کہ : ’’ میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔وغیرہ جبکہاللہ عَزَّ وَجَلَّتو جسم سے پاک ہے۔ ‘‘ اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فقیہ اعظم، شارح حدیث حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث متشابہات میں سے ہے۔ اس پر اہل سنت کا اتفاق ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّجسم اور جسمانیات سے مُنَزَّہ (پاک) ہے۔ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ اس کا تحقیقی جواب وہی ہے کہ حقیقی مراد کواللہ عَزَّ وَجَلَّجانے یا ا س کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانیں ۔ یہ ارشادِ خدا ہے اور حق ہے اور یہی ہمارا ایمان۔ تاہم علماء نے اس کی مختلف توجیہات بیان کی ہیں :
٭ ……اَوّل یہ ہے کہ (میرا ) بندہ بالکلیہ میرے ساتھ مشغول ہے تو وہ اپنے کان سے صرف اُنہی باتوں کو سنتا ہے جو مجھے پسند ہیں اور اپنی آنکھ سے صرف اُنہی چیزوں کو دیکھتا ہے جن کا دیکھنا مجھے پسند ہے۔ یوں ہی اپنے ہاتھ میں صرف اُنہی چیزوں کو لیتا ہےجن کی میں نے اجازت دی ہے اور وہیں جاتا ہے جہاں جانے کو میں نے اس کے لیے رَوا (یعنی جائز) رکھا ہے۔ اور زبان سے وہی نکالتا ہے جو حق ہے اور وہی سوچتا ہے جو میری مرضی ہوتی ہے ۔
٭ …… ثانی: میں اس کو اس کے تمام مقاصد عطا فرماتا ہوں گویا وہ اپنے مقاصد کو اپنے جوارِح (یعنی اعضاء) سے حاصل کرلیتا ہے۔ یہ توجیہ حدیث کے آخر ی حصے ”اِنْ سَاَ لَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہُ“ (اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور ضرور اسے دوں گا) کے مطابق ہے۔
٭ ……ثالث:میں اس کی مدد فرماتا ہوں جیسے اس کے اعضاء اس کے کام میں لگے رہتے ہیں ۔
٭ …… رابع: اس حدیث میں مصدر (سمع و بصروغیرہ) بمعنی مفعول ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ میں اس کا مسموع ہوجاتا ہوں کہ وہ صرف میرا ذکر سنتا ہے اورمیری یاد سے لذت پاتا ہے اور مجھ سے مناجات میں اُنسیت پاتا ہے اور ہاتھ اُنہی چیزوں کی طرف بڑھاتا ہے جس میں میری رضا ہے اور وہیں جاتا ہے جہاں جانا مجھے پسند ہے۔
٭ ……خامس: علمائےمُعْتَمِدِیْننے اس بات پر اتفاق کیاکہ یہ کنایہ ہے بندے کی مدد اور اعانت کرنے سے۔تمثیلاً (بطور مثال) فرمایا کہ جیسے کوئی دشمن کسی پر حملہ کرے تو بے اختیار اس کے جوارِح (یعنی اعضاء) اس کی حمایت کرتے ہیں اسی طرح بلاتمثیل میں اپنے بندے کی مدد فرماتاہوں اگرچہ وہ درخواست نہ کرے ۔ اس میں بعض معنی بعض کی طرف راجع ہیں لیکن بنظرِ دقیق کچھ فرق بھی ہے۔
٭ …… سادس :اِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِینے سورۂ کہف کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہاللہ تعالٰیاس کی قوت سماعت اتنی قوی کردیتا ہے کہ وہ بلند و پست، نزدیک و دور کی آواز یں سنتا ہےاور اس کی آنکھ میں اتنی نورانیت پیدا فرمادیتا ہے کہ قریب و بعید کی سب چیزیں دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ میں اتنی قوت پیدا فرمادیتا ہے کہ نرم اور سخت، ہمواراور پہاڑ اور دُور و نزدیک میں تصرف کرتا ہے۔
٭…… سابع:مراد یہ ہے کہ جس قدر جلد اس کا کان سنتا ہے اور اس کی آنکھ دیکھتی ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں چلتا ہے اس سے بھی جلد میں اپنے ایسے بندوں کی حوائج کو پورا کرتا ہوں ۔
٭…… ثامن: بعض متاخر صوفیہ نے فرمایا کہ یہ تعبیر ہے مقام فنا اور محو سے جو سلوک کی انتہائی غایت ہے۔ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک کی شرح سے معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاولیائے کرام کو اتنی قوت و طاقت عطا فرماتا ہے کہ وہ بہت دُور و نزدیک کی بات سن لیتے ہیں اور دُور دَراز کی چیزوں کو بھیاللہ عَزَّوَجَلَّکے نور سے دیکھ لیتے ہیں اور طویل فاصلے لمحوں میں طے کرلیتے ہیں ۔چنانچہ،
¥دِنوں کا سفر لمحوں میں طے کرلیا:حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن جعفررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں بصرہ میں پانچوں نمازیں مقامی مسجد میں پڑھا کرتا تھا جو ”مَسْجِدُ الخَشَّابِیْنیعنی لکڑیاں بیچنے والوں کی مسجد“ کے نام سے معروف تھی اور اس کے امام مغرِب سے تعلق رکھتے تھے، ان کو ابوسعید کہا جاتا تھا، یہ نیکی کے کاموں میں مشہور تھے اور مسجد میں نمازِ فجر کے بعد بیان کیا کرتے تھے۔ ایک سال میں حج کے لیے روانہ ہوا، وہ شدید گرمی کاسال تھا۔ عام طور پررات کو میں اپنے رفقاء سے آگے نکل جاتا اور سو جاتا پھر میرے دوست مجھے آملتے، ایک رات اسی طرح میں راستے سے ہَٹ کر سویا ہوا تھا کہ قافلہ آگے نکل گیا اور میرے دوستوں کو میری خبر تک نہ ہوئی، میں سویا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔جب بیدار ہواتو میں نہیں جانتا تھاکہ یہ کون ساراستہ ہے، میں نے اپنے ربّعَزَّوَجَلَّسے عرض کی:اے میرے مولیٰعزَّوَجَلَّ! تو مجھے کہاں لے آیا اور اپنے گھر سے بھی دُور کردیا، بہرحال میں چلتا رہا یہاں تک کہ تھک گیا، گرمی بھی شدید تھی ، میں زندگی سے مایوس ہو گیا اورریت کے ٹیلے پر موت کا انتظار کرنے لگا۔اچانک میں نے دیکھا کہ ایک شخص مجھے پکار رہاہے، میں کھڑا ہوا، دیکھا تو وہ ہمارے امام مسجد حضرتِ سیِّدُناشیخ ابو سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدتھے۔ انہوں نے پوچھا: کیاآپ بھوکے ہیں ؟ میں نے عرض کی:جی ہاں ۔ توانہوں نے مجھے ایک گرما گرم روٹی دی ، میں نے کھائی تو میری سانس بحال ہوگئی، مجھے پیاس لگی تو انہوں نے مجھے ایک چمڑے کا تھیلا دیاجس میں شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈاپانی تھا ۔ میں نے پیا اور چہرے کو بھی دھویا تومیری تازگی اورراحت لوٹ آئی۔
پھر انہوں نے مجھ سے کہا: میرے پیچھے چلو۔ میں تھوڑی دیر تک آپ کے پیچھے چلا تو مکہ مکرمہ جا پہنچا۔ انہوں نے کہا:یہیں ٹھہر جاؤ، تین دن بعد تمہارے دوست یہاں پہنچ جائیں گے۔پھر مجھے ایک روٹی دے کر چلے گئے میں نے اس روٹی کا ایک ہی لقمہ کھایا تو سَیر ہو گیا۔ میں نے وہ روٹی تین دن اپنے پاس رکھی یہاں تک کہ میرے رُفقاء آگئے۔ جب میں نے عرفہ میں وقوف کیا تو حضرتِ سیِّدُناشیخ ابو سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکو ایک چٹان کے قریب دعامیں مشغول کھڑے ہوئے دیکھا۔میں نے سلام عرض کیا، آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فارغ ہوکر سلام کا جواب دیا اورپوچھا: کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟ میں نے عرض کی:دعا فرما دیں ۔ انہوں نے دعا کی، پھر ہم پہاڑسے اُتر آئے۔ اس کے بعد آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمجھے نظر نہ آئے۔ میں حج ادا کرکے بصرہ واپس آگیا اور گھر میں رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو حضرتِ سیِّدُناشیخ ابو سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکے پیچھے مسجد میں صبح کی نماز پڑھی۔ جب آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنماز سے فارغ ہوئے تو میں نے سلام اور مصافحہ کیا۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مجھ سے مصافحہ کیا اور میرے ہاتھ کو دَبایا۔میں سمجھ گیا کہ راز کو ظاہر نہیں کرنا۔ مسجد کا مؤذن آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بہت خدمت کیا کرتا تھا، میں نے اس سے ایّامِ حج میں مسجدسے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکی عدم موجودگی کے متعلق پوچھا تو اس نے قسم کھائی کہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے پانچوں نمازیں اسی مسجد میں ادا فرمائیں ہیں تو میں نے جان لیاکہ یہ بزرگ، انسانوں کے سردار اَبدال (اولیاء اللہکےا یک اعلیٰ گروہ) میں سے ہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ ولیاللہ‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنا دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنے والا دراصلاللہ عَزَّ وَجَلَّکا دشمن ہے، اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہےاور جس کے خلاف خود ربّعَزَّ وَجَلَّاعلانِ جنگ فرمادےیہ اس کے بُرےخاتمے اور دنیا وآخرت میں کامیاب نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے ان کے ولی ہونے کی وجہ سے عداوت یعنی دشمنی رکھنے کو علمائے کرام نے کفر لکھا ہے۔
(4) فرائض کی ادائیگی ربّعَزَّ وَجَلَّکو بہت محبوب ہے، جبکہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی ادائیگی بھی ربّعَزَّ وَجَلَّکے قرب کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
(5) فرائض کی ادائیگی کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے بلکہ مُعَلَّق رہتے ہیں ، لہذا فرائض کی ادائیگی پہلے کرنا بہت ضروری ہے۔
(6) جو نوافل فرائض کی ادائیگی کے بعد اداکیے جائیں وہی قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
(7) جس بندے سے ربّعَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے اسے خلافِ شرع کاموں سے محفوظ فرمادیتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی پابند بنائے اور ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے اور اپنے اولیاء کی دشمنی اور بغض سے محفوظ فرمائے، ہمیں فقط ان کی محبت نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 95