Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 101

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّہَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہِ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِم ٍ:”حُفَّتْ“ بَدَلَ ”حُجِبَتْ“ وَہُوَ بِمَعْنَاہُ، اَیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ھٰذَا الْحِجَابِ، فَاِذَافَعَلَہُ دَخَلَہَا. ( )

عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:حجبت النار بالشہوات، وحجبت الجنۃ بالمکارہ. ( ) وفی روایۃ لمسلم :”حفت“ بدل ”حجبت“ وہو بمعناہ، ای بینہ وبینہا ھذا الحجاب، فاذافعلہ دخلہا. ( )

حدیث ترجمہ

: حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ دوزخ کو شہوتوں سے اور جنت کو تکالیف ومشقتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ”
حُجِبَتْ“کی جگہ”حُفَّتْ“ کا لفظ آیا ہے اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے یعنی ’’ بندے اور جنت و دوزخ کے درمیان یہی (مصیبتیں اور شہوات) حائل ہیں پس جب وہ اِن اَعمال کو کرے گا تو ان میں داخل ہوجائےگا۔ ‘‘

شرح حدیث

جنت و دوزخ کا راستہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے دوزخ کو شہوات سے ڈھانپ دیا ہے یعنی جہنم کی طرف جانے والا راستہ بظاہر بڑا خوشنما دکھائی دیتا ہے ، اس راہ پر چلنا بڑا آسان اور اس سے بچنا نہایت دشوار ہے، اس راہ میں قدم قدم پر نفس کے لیے راحتیں ہیں ، اسی وجہ سے نفس بھی اس راہ پر چلنے میں رغبت رکھتا ہے، لیکن بظاہر خوشنما نظر آنے والا یہ راستہ انسان کو جہنم کی طرف دھکیل دیتا ہے۔جس طرح دوزخ شہوات سے گِھری ہوئی ہے اسی طرح بہشت کو بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے سختیوں اور تکالیف سے ڈھانپا ہے، جنت خود بہت حسین لیکن اس کی طرف جانے والی راہ بہت دشوار و کٹھن ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ دوزخ خود خطرناک ہے مگر اس کے راستے میں بہت سے بناوٹی پھول و باغات ہیں ، دنیا کے گناہ، بدکاریاں جو بظاہر بڑی خوشنما ہیں یہ دوزخ کا راستہ ہی تو ہیں ۔جنت بڑا بار دار باغ ہے مگر اس کا راستہ خار دار ہے جسے طے کرنا نفس پر گراں ہے۔ نماز، روزہ حج، زکوٰۃ، جہاد، شہادت جنت کا راستہ ہی تو ہیں ۔ طاعات پر ہمیشگی شہوت سے علیحدگی واقعی مشقت کی چیزیں ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
جبریل امین کا جنت و دوزخ کا مشاہدہ:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرفو عاً ایک حدیث مروی ہے جس میں اسی مفہو م کی وضاحت موجودہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا کہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّنے جنت اور دوزخ بنائی تو جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامکو جنت کی طرف بھیجا اورفرمایا :اس میں موجود چیزوں کو دیکھو ۔ وہ گئے اور واپس آکر عرض کی: اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھراللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے تکلیفوں سے گھیرنے کا حکم دیا اور دوبارہ جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامکو دیکھنے کے لیے بھیجا۔ اس بار وہ دیکھ کر واپس آئے تو عرض کی: اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ !تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہ ہو سکے گا۔ پھراللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں دوزخ دیکھنے کے لیے بھیجا۔ چنانچہ وہ اسے بھی دیکھنے گئے اور واپس آکر عرض کی:اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم !اس کا حال سننے کے بعد کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ پھراللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے شہوات سے گھیرنے کا حکم دیا اور دوبارہ جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامکو بھیجا۔ اس مرتبہ وہ واپس آئے توعرض کی: اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے کوئی نجات نہ پا سکے گا۔ ( )
¥
جنت ودوزخ کے پردے:مذکورہ حدیث پاک کے دو جز ہیں : پہلے جزمیں اس بات کا بیان ہے کہ جہنم شہوات سے گِھری ہوئی ہے۔ اور دوسرے جز میں اس بات کا بیان ہے کہ جنت مصیبتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔شارحینِ حدیث نے جنت و دوزخ کے ڈھکے ہونے کی نہایت بہترین شرح فرمائی ہے۔چنانچہعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے فرمایا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ کلام نہایت فصیح و بلیغ ہے اور اتنی خوبصورت مثال ہے کہ جس میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر شے کو جمع فرمایا ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کلام کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی شخص سختی اور تکلیف برداشت کیے بغیر جنت حاصل نہیں کرسکتااور کوئی بھی شخص گناہوں کا مرتکب ہوئے بغیرجہنم کا حقدار نہیں ہوسکتا۔ گویا کہ یہ ایسا ہے کہ جنت اور دوزخ پر دو پردے پڑے ہوئے ہیں تو جو اِن پردوں کو چاک کرے گا و ہی پردے کے پیچھے چھپی ہوئی چیز تک پہنچے گا تو پس جنت پر پڑے ہوئے پردے کو چاک کرنے کا طریقہ سختیوں پر صبرکرنا ہے اورجہنم کے پردے کو چاک کرنے کا طریقہ شہوات کی پیروی کرنا ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدجنت ودوزخ فقط دو2 ٹھکانے:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانِ عبرت نشان شہوت کی مذمت، اس سے بچنے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی فرمانبرداری پر اُبھارنے کے بارےمیں انتہائی جامع مانع اور بلیغ کلام ہے اگرچہ نفوس پر یہ بہت بھاری اور شاق ہے ۔لیکن قیامت کے دن جنت اور دوزخ کے سوا کوئی تیسرا ٹھکانہ نہ ہوگا اور ان میں سے کسی ایک میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا تو پھر مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اُن اعمال کو بجا لائیں جو جنت میں لے جانے والے اور جہنم سے بچانے والے ہوں ۔ اگر چہ یہ کام دشوار ہیں لیکن آگ کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور اسے برداشت کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے۔ ‘‘( )
¥
آتشِ دوزخ کا پردہ :حضرت سَیِّدُنَا شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ آتشِ دوزخ کا پردہ شہوات ہیں ، جب بندہ اُن کا ارتکاب کرتا ہے تو دوزخ تک پہنچ جاتا ہے، اسی طرح جنت سختیوں میں پوشیدہ ہے کیونکہ جب انساناللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر عمل کرتا ہے، شہوات و لذات سے اپنے آپ کو روکتا اور نفس کو اُن سختیوں میں ڈالتا ہے تو اس پردے کو چاک کرکے اس جنت تک پہنچ جاتا ہے جو اُن تکالیف کے پیچھے ہے۔اس حدیث پاک سے ”اَلْعِلْمُ حِجِابُ اللہیعنی علماللہ عَزَّ وَجَلَّکا پردہ ہے۔ ‘‘ کا معنی بھی واضح ہوگیا کہ علم، خدا اور بندے کے درمیان پردہ ہے جب انسان علم کے پردے تک جا پہنچتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے۔ ‘‘( )¥شہوات کی پیروی کا وبال:عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے علامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
الْقَوِی
کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شہوات کی پیروی کرنے والا تقوے سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر شہوات بندے کی سماعت و بصارت چھین لیتی ہیں کہ وہ ان شہوات کو تو دیکھتا ہے لیکن دل پر جہالت و غفلت غالب ہونے کی وجہ سے ان شہوات کے پیچھے بھڑکتی ہوئی جہنم کو نہیں دیکھ پاتا۔ اِس شخص کی مثال اس پرندے جیسی ہے کہ جو چھپے ہوئے جال میں موجود دانے کو تو دیکھتا ہے مگر دل پر اس دانے کی خواہش غالب ہونے کی وجہ سے اس جال کو نہیں دیکھ پاتا جو شکاری نے اسے پھانسے کے لیے بچھایا ہوتا ہے پھر وہ پرندہ اس میں پھنس جاتا ہے۔ ‘‘ ( )شہوات سے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ وہ شہوات جن سے دوزخ کو ڈھانپا گیا ہے وہ حرام شہوات ہیں جیسے شراب پینا، زناکرنا، نامحرم کو دیکھنا، غیبت کرنا اور گانے باجے کے آلات استعمال کرنا اور اُن جیسے دیگر بُرے اَفعال۔وہ شہوات جو حرام نہیں بلکہ مباح ہیں وہ اس میں داخل نہیں لیکن اُن کا کثرت سے کرنا بھی مکروہ ہے کیونکہ کثرت سے مباحات میں منہمک ہونے سے حرام کام میں مشغول ہونے یا دل کے سخت ہونے کا خوف ہےیا پھر بندے کا نیکیوں سے ہٹ کر دُنیوی لذتوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ ‘‘ ( )
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ شہوات سے مراد حرام اُمور ہیں ورنہ جو مباح خواہشات ہیں وہ دوزخ میں داخلے اور جنت میں نہ جانے کا سبب نہیں البتہ مباحات کی کثرت مقامِ قرب و وِلایت سے دُور کردیتی ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ شہوات سے مراد اُن اُمورِ دنیاسے لطف اندوز ہونا ہےجن کی شریعت نے ممانعت فرمائی ہے کیونکہ شہوات کو پورا کرنااُن نیک اَعمال کے چھوٹنے کا باعث ہے جن کو بجالانے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ یہاں شہوات سے مراد حرام خواہشیں ہیں جیسے شراب، زنا، سرور ( گانے باجے) حرام کھیل تماشے۔ اس میں جائز شہوات داخل نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
جنت کو ڈھانپنے والی مصیبتیں :عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں جنت کو ڈھانپنے والی جن مصیبتوں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ اُمور ہیں جن کا مکلف بندے کو حکم دیا گیا ہے۔مثلاً نفس کا خوب کوشش کر کے عبادت کرنا، اس عبادت کی مشقت پر صبر کرنا، اس کوشش پر محافظت کرنا، غصہ پی جانا، برائی کرنے والے کے ساتھ عفو و درگزر کرنا، مصیبت پر صبر کرنا اور اس مصیبت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہنااور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچنا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جنت جن مصیبتوں میں ڈھکی ہوئی ہے ان میں عبادات میں کوشش، نیکیوں پر ہمیشگی، تکلیفوں پر صبر، غصے پر ضبط، عفو و درگزر، بُردباری، صدقہ کرنا، برائی کرنے والےکے ساتھ بھلائی کرنا اور خواہشات سے رُکے رہنا وغیرہ افعال شامل ہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث میں مَکارہ یعنی جنت کو ڈھاکنے والی مصیبتوں سے مراد وہ اُمور ہیں کہ جن کا مکلف بندے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرکےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے اَوامِر یعنی جن کاموں کو اس نے کرنے کا حکم دیا ہے ان پر عمل کرے اور نواہی یعنی جن کاموں سے اس نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرے۔مثلاً اچھی طرح سے عبادت کرنا اور اس پر قائم رہنااور بُرے کاموں سے قولی اور فعلی طور پر بچنا۔ ( )مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ مصیبتوں سے مراد عبادات کی اطاعات کی مشقتیں ہیں ، لہٰذا اس میں خود کشی ومال برباد کرنا داخل نہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
”عبادات“کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) نیکیاں کرنا اور نیکی کے راستے پر چلنا انتہائی دشوار لیکن اس کی منزل روشن ہے اور وہ جنت ہے، جبکہ گناہوں کا راستہ نہایت آسان لیکن اس کا ٹھکانہ بہت بُرا ہے اور وہ جہنم ہے۔
(2) خواہشاتِ نفس کی پیروی کا لطف فقط چند گھڑیوں کا ہے مگر ان کی وجہ سے ملنے والا عذاب بہت سخت اور طویل عرصے کاہے۔جبکہ شریعت کی اِتباع میں پہنچنے والی تکلیف عارضی ہے لیکن اس کی جزا میں ملنے والی راحت دائمی ہے۔
(3) عبادت کی مشقت اٹھانا اگرچہ نفس پر گِراں ہے لیکن انہیں ترک کر کے ملنے والا عذاب اس مشقت سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔
(4) خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا تقوے سے محروم ہوجاتا ہے اور تقویٰ ہی ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتا ہے۔
(5) مباحات کی زیادتی سے بھی گریز کرنا چاہیےکہ اس سے دل سخت ہونے، حرام کاموں میں پڑنے اور
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قرب سے دُوری کا اندیشہ ہے۔
(6) جنت کا حجاب وہ تکلیفیں ہیں جو نیک اَعمال سے پہنچتی ہیں نہ کہ وہ تکالیف ہیں جو گناہ کرتے ہوئے بندے کو پہنچتی ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے سےمحفوظ فرمائے، خواہشاتِ نفس پر چلنے کے انجام یعنی جہنم سے محفوظ فرمائے، ہمیں عبادات کی مشقتیں اٹھانے اور اُن پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، نیز ان کے انجام یعنی جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 101