Main Icon

باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 173

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبی مَسۡعُوۡدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو اَلْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہِ.( )

عن ابی مسعود عقبۃ بن عمرو الانصاری البدری رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، من دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ.( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابومَسْعُود عُقْبَہ بن عَمر واَنصاری بدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: ’’ جس نےکسی نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کے‏لیےنیکی کرنے والے کی مثل اجر ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

مذکورہ حدیث پاک کا پس منظر:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی’’دلیل الفالِحین شرحِ ریاض الصالحین‘‘ میں مسلم شریف کے حوالے سےمذکورہ حدیث پاک کا پس منظر حضرت سَیِّدُنَا ابومَسْعُود عُقْبَہ بن عَمرو اَنصاریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضورِ اَکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اورعرض کی: ’’ میری سواری تھک گئی ہے، میرے لیے کسی متبادل سواری کا انتظام فرما دیجئے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ میرے پاس تو فی الحال کوئی سواری نہیں ہے۔ ‘‘ ایک صحابی نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!میں اسے اس شخص کے بارےمیں بتا سکتا ہوں جو اسے متبادل سواری دے سکتا ہے۔ ‘‘ توآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نےکسی نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کے‏لیےنیکی کرنے والے کی مثل اجر ہے۔ ‘‘ ( )نیکی پررہنمائی کرنے والے اور نیکی کرنے والے کے اجر کی وضاحت:نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کا ثواب اور خود اس نیکی کو کرنے والے کے ثواب کے برابر ہونے یا نہ ہونے میں علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے مختلف اقوال ہیں : (1) پہلا قول یہ ہے کہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو بھی ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا کہ اس نیکی کرنے والے کو ملے گا لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ دونوں کو مقدار کے اعتبار سے برابر ثواب ملے۔ (2) دوسرا قول یہ ہے کہ ثواب کے ملنے میں دونوں برابر ہیں کہ جس طرح نیکی کرنے والے کو اس عمل کا ثواب ملا اسی طرح نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو بھی ثواب ملالیکن نیکی کرنے والے کے ثواب میں جوزیادتی ہے ، نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس میں شامل نہیں ہے۔ (3) تیسرا قول علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا ہے، فرماتے ہیں کہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کا ثواب خود نیکی کرنے والے کے ثواب کے ہرطرح سے برابر ہوسکتا ہے کیونکہ نیک اعمال پر ثواباللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل وکرم سے عطا فرماتا ہے ، اب اس کی مرضی کہ وہ جسے چاہے جتنا چاہے عطا فرمادے خصوصاً جبکہ نیت بھی بالکل درست ہو کہ اس صورت میں تو اگر بندہ وہ نیکی کسی وجہ سے نہ بھی کرسکا تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا بھی ثواب عطا فرمائے گا۔لہٰذا خود نیکی کرنے والے اور اس نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے یا دیگر لوگوں کے ثواب میں برابری ہونا کوئی بعید نہیں ہے۔پھر اس بات کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا جائے خصوصاً ان احادیث میں جن میں اسی طرح کا مضمون ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: ’’ جس نےروزہ دار کوافطارکرایاتو اس کے‏لیےبھی روزہ دار کی مثل اجرہے۔ ‘‘ ( )بھلائی کی طرف رہنمائی والے اُمور:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیشرح مسلم میں اس حدیث پاک کےتحت فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں بھلائی پر رہنمائی کرنے، اس پرمطلع کرنے اوربھلائی کرنے والےکے ساتھ معاونت کرنے کی فضیلت کو بیان کیاگیاہےنیزا س میں علم سکھانےاورعبادات کے وظائف سکھانے کی فضیلت کا بیان ہے، خصوصاً عابدین میں سے ان لوگوں کو جو اُن وظائف پر عمل کریں ۔ ‘‘ ( )نیکی کی طرف رہنمائی کی مختلف صورتیں :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:مَنْ دَلَّجس نے نیکی کی طرف رہنمائی کی۔یعنی قول سے، فعل سے، اشارے سےیالکھ کر رہنمائی کی۔عَلَی خَیْرٍیعنی نیکی وبھلائی والے کام پر۔ یعنی علم یاایسے عمل کی طرف رہنمائی کی جس میں اجروثواب ہےتو اس رہنمائی کرنے والے کے ‏لیےبھی اس نیکی کرنے والے کی مثل اجر ہوگا۔ یعنی بھلائی کرنے والے کے اجر میں سے کوئی کمی کیے بغیر رہنمائی کرنے والے کو ثواب ملے گا۔ ‘‘ ( )نیکی کی طرف رہنمائی کی مختلف صورتوں کی مثالیں :(1) ۔۔۔ قول سے رہنمائی کرنے کی مثالیں :اس کی ایک مثال تومذکورہ حدیث پاک میں ہی بیان کی گئی ہے کہ ایک صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دوسرے صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی اپنے قول کے ذریعے رہنمائی کی کہ انہوں نے کسی ایسے شخص کا پتہ بتادیا جو اُن کے لیے سواری وغیرہ کا بندوبست کرسکے۔ اسی طرح کسی شخص نے دوسرے سے مسجد، مدرسے، جامعہ یا کسی بھی نیک مقام کا پتا پوچھا اور اس نے اسے پتا سمجھادیا تو یہ بھی قول کے ذریعے ہی نیکی کی طرف رہنمائی ہے۔اسی طرح کسی شخص کو ایک نیک عمل ، کسی ورد یا وظیفے کے بارے میں علم ہے، اب اس نے اپنے دوسرے بھائی کو بھی وہ وظیفہ بتادیا کہ اس کا اتنا ثواب ہے، غریب کی مدد کرنے کا اتنا ثواب ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کو دُور کرنے کا اتنا ثواب ہے، کسی مسلمان کی خیر خواہی کرنے کا اتنا ثواب ہے وغیرہ وغیرہ تو یہ تمام صورتیں بھی قول کے ذریعے نیکی کی طرف رہنمائی کرنے ہی کی مثالیں ہیں ۔
(2) ۔۔۔ فعل سے رہنمائی کرنے کی مثالیں :ایک شخص کو وضو کرنا نہیں آتا تھا، یانماز پڑھنی نہیں آتی تھی، یاقرآن پڑھنا نہیں آتا تھا، یا بیان کرنا نہیں آتا تھا، نیکی کی دعوت دینا نہیں آتا تھا، انفرادی کوشش کرنا نہیں آتا تھا، وغیرہ وغیرہ اب دوسرے شخص نے اپنےعمل کے ذریعے اسے یہ تمام باتیں سکھادیں تو یہ تمام صورتیں فعل کے ذریعے نیکی کی طرف رہنمائی کرنے ہی کی مثالیں ہیں ۔
(3) ۔۔۔ اشارے سے رہنمائی کرنے کی مثالیں :راستے میں چلتے ہوئےکسی شخص نے پوچھ لیا کہ مسجد، مدرسہ، اجتماع ذکرونعت وغیرہ اسی طرف ہے ؟ تو اشارے سے اسے بتادینا کہ جی ہاں ، اسی طرف ہے، یا کسی اور جگہ کا پتا پوچھا تو اسے اشارے سے بتادیا، یا کسی نے پوچھا کہ فلاں نماز کا وقت ہوگیا ہے تو اسے اشارے سے بتادیا، یا کسی نے پوچھا کہ ہفتہ وار اجتماع شام کو کب شروع ہوجاتا ہے تو اسے اشارے سے بتادیا کہ فلاں وقت شروع ہوجاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ تو یہ تمام صورتیں بھی اشارے سے نیکی کی طرف رہنمائی کرنے کی مثالیں ہیں ۔
(4) ۔۔۔ لکھ کر رہنمائی کرنے کی مثالیں :ایک شخص کو کسی اچھی جگہ جانا تھا، مگر اسے اس جگہ کا مکمل ایڈریس معلوم نہیں تھا، دوسرے شخص نے کسی کاغذ وغیرہ پر لکھ کر اسے پورا ایڈریس سمجھادیا، یا کسی شخص نے دوسرے شخص کو مختلف قسم کے نیکیوں والے اَعمال لکھ کر دے دیے کہ تم اِن تمام اعمال پر عمل کرو گے تو اتنا اتنا ثواب ملے گا، یا کسی شخص کو کوئی شرعی مسئلہ معلوم نہیں تھا دوسرے شخص نے وہ شرعی مسئلہ اسے کاغذ پر لکھ کر دے دیا، یا کسی شخص نے اپنے دوسرے بھائی کو عقائد، احادیث مبارکہ، شرعی مسائل، حکایات وروایات پرمشتمل کتابوں کی فہرست بنادی کہ وہ ان کتب کو خرید کر ان سے استفادہ کرے تو یہ تمام صورتیں بھی لکھ کر نیکی کی طرف رہنمائی کرنے ہی کی مثالیں ہیں ۔
مدنی گلدستہ
’’ احمد ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو بھی نیکی کرنے والے کی مثل اجر ملتا ہے۔نیکی کی طرف رہنمائی کرنےو الے اور نیکی کرنے والے دونوں کواللہ عَزَّوَجَلَّاپنے فضل وکرم سے اجر وثواب عطا فرماتا ہے لہذا رہنمائی کرتے ہوئے یا نیکی کرتے ہوئے اس کے فضل پر ہی نظر کرنی چاہیے۔
(2) اگر کوئی شخص کسی نیک کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ اس نیک کام پر کسی کی رہنمائی کردے کہ ا س طرح
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اس نیکی کرنے والے کی طرح اجر ملے گا۔
(3) کسی بھی نیک کام کی طرف رہنمائی کرنے کے مختلف طریقے ہیں ، قول سے، فعل سے، لکھ کر، اشارے سے جس طرح بھی رہنمائی کی جائے
اللہ عَزَّ وَجَلَّاس پر اجروثواب عطا فرماتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، نیکیوں کی ترغیب دینے، نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنے ، بُرائیوں سے بچنے، دوسروں کو بھی بُرائیوں سے بچانے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 173