باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

:حضرتِ سَیِّدُناابومَسْعُود عُقْبَہ بن عَمر واَنصاری بدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: ’’ جس نےکسی نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کے‏لیےنیکی کرنے والے کی مثل اجر ہے۔ ‘‘

عَنْ اَبی مَسۡعُوۡدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو اَلْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 173 ، باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور اُن کے اجروں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا اور ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔ ‘‘

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ دَعَا اِلَی ہُدًی، کَانَ لَہُ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوۡرِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوۡرِہِمْ شَیْئًا، وَمَنْ دَعَا اِلَی ضَلَالَۃٍکَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْئًا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 174 ، باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے غزوۂ خیبر کے دن ارشادفرمایا: ’’ کل میں یہ جھنڈا اُس شخص کودوں گا جس کے ہاتھ پراللہ عَزَّوَجَلَّخیبر فتح فرمائےگا۔ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمبھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانساری را ت یہی سوچتے رہے کہ پتا نہیں صبح آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس کو جھنڈا عطا فرماتے ہیں ۔جب صبح ہوئی تو تمام لوگ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوگئے، ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ کاش یہ جھنڈااُسے دیاجائے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاستفسارفرمایا: ’’ علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ ‘‘ بتایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ فرمایا: ’’ انہیں بلاؤ۔ ‘‘
چنانچہ سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکولایا گیاتو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی آنکھوں میں اپنا لُعاب مبارک لگایا اور دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں اس طرح ٹھیک ہوگئیں گویا کبھی دردتھاہی نہیں ۔پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو جھنڈا عنایت فرمایا۔سَیِّدُنَا مولاعلی شیرخدارَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیامیں کفارسے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ ہماری مثل ( مسلمان ) نہ ہوجائیں ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ نرمی سے جاؤ یہاں تک کہ تم اُن کے میدان میں اُتر جاؤ ، پھراُنہیں اسلام کی دعوت دواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کے بارے میں انہیں آگاہ کرو، خدا کی قسم! اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری وجہ سے کسی ایک کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے‏لیے سُرخ اُونٹوں سے بہتر ہے۔ ‘‘

عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ سَہۡلِ بۡنِ سَعْدٍالسَّاعِدِیِّ، رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ:لَاُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ غَدًارَجُلًا یَفْتَحُ اللہُ عَلَی یَدَیْہِ، یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوۡلَہُ وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوۡلُہُ فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوۡکُوۡنَ لَیْلَتَہُمْ اَ یُّہُمْ یُعْطَاہَا، فَلَمَّا اَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُوۡلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کُلُّہُمْ یَرْجُوۡ ا اَنْ یُّعْطَاہَا، فَقَالَ اَ یْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ؟ فَقِیۡلَ:یَا رَسُوۡلَ اللہِ ھُوَ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ، قَالَ فَاَرْسِلُوۡا اِلَیْہِ، فَاُ تِیَ بِہِ، فَبَصَقَ رَسُوۡلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ، وَدَعَا لَہُ فَبَرَاَ، حَتَّی کَاَنْ لَّمْ یَکُنْ بِہِ وَجَعٌ، فَاَعْطَاہُ الرَّایَۃَ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ اُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یَکُوۡنُوۡا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ:انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ، حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ، وَاَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللہِ تَعَالٰی فِیۡہِ، فَوَاللہِ لَاَنْ یَّہْدِیَ اللہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 175 ، باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ قبیلہ َ اسلم کے ایک نوجوان نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کرعرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں جہادکرنے کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس جہاد کا سامان نہیں ہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا۔ ‘‘ وہ نوجوان اس شخص کے پاس آیا اور کہا کہ ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے آ پ کو سلام ارشاد فرمایا ہے نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ مجھے وہ سامان دے دیں جو آپ نےجہاد کے ‏لیے تیار کیا ہے۔ ‘‘ اس شخص نےاپنی زوجہ سے کہا: ’’ اے فلانی !اس کو وہ سامان دے دو جو میں نے جہاد کے لیے تیارکیا ہے اور اس میں سے کوئی چیز مت رکھنا،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! اگر تم نے اس میں سے کوئی چیز بھی نہ رکھی تو اس میں تیرے‏لیے برکت ہوگی۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ ، اَنَّ فَتًی مِنْ اَسْلَمَ قَالَ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ، اِنِّی اُرِیۡدُ الْغَزْ وَ وَلَیْسَ مَعِی مَا اَتَجَہَّزُ بِہٖ، قَالَ: ائْتِ فُلَانًا، فَاِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ، فَمَرِضَ، فَاَتَاہُ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ: اَعْطِنِی الَّذِی تَجَہَّزْتَ بِہِ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ، اَعْطِیہِ الَّذِی تَجَہَّزْتُ بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی مِنْہُ شَیْئًا، فَوَاللہِ لَا تَحْبِسِیْنَ مِنْہُ شَیْئًا فَیُبَارَکَ لَکِ فِیۡہِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 176 ، باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان