- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 174
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ دَعَا اِلَی ہُدًی، کَانَ لَہُ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوۡرِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوۡرِہِمْ شَیْئًا، وَمَنْ دَعَا اِلَی ضَلَالَۃٍکَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْئًا. ( )
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من دعا الی ہدی، کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذلک من اجورہم شیئا، ومن دعا الی ضلالۃکان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لا ینقص ذلک من آثامہم شیئا. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور اُن کے اجروں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا اور ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔ ‘‘
شرح حدیث
ہدایت کی اقسام:اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث پاک کےتحت فرماتے ہیں کہ ہدایت یعنی رہنمائی کی دوقسمیں ہیں : (1) وہ ہدایت جو منزلِ مقصود تک پہنچا دے۔ (2) مطلق ہدایت چاہیے وہ مقصود تک پہنچائے یانہیں اور حدیث پاک میں اِسی مطلق ہدایت کا ذکر ہےکہ جس میں فقط اَعمالِ صالحہ کی طرف رہنمائی کی جائے۔حدیث میں ”ھُدًی“ (ہدایت) کا لفظ نکرہ آیا ہے اور عربی زبان میں نکرہ لفظ قلیل وکثیر، عظیم وحقیر سب کو شامل ہوتاہے۔ہدایت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کواللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف بلایاجائےاور نیک اعمال پر رہنمائی دی جائےاور ہدایت کاادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کو مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی ہدایت دی جائے۔ ( )خوش قسمت اور بد قسمت لوگ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں دراصل دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہے، پہلے وہ لوگ جو نیکی و بھلائی والے کاموں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جبکہ دوسرے وہ لوگ جو گناہ وبرائی والے کاموں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔پہلی قسم کے لوگ نہ صرف اپنے اس نیک کام کا اجروثواب پاتے ہیں بلکہ اُن کی رہنمائی پر جتنے لوگ نیکیوں والے کام کرتے رہیں گے اُن تمام لوگوں کے اجر کے برابر انہیں بھی اجر ملتا رہے گا، جبکہ دوسری قسم کے لوگوں کو نہ صرف اپنےاس بُرے کام کا گناہ ملے گا بلکہ ان کے گمراہ کرنے سے جتنے لوگ اس گمراہی پر چلتے رہیں گے ان تمام کا بھی گناہ ان کو ملتا رہے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
تو کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ:جو دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنتے ہیں ، دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں ، نیکی کی دعوت دیتے ہیں ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی طرف، صدقات وخیرات کی طرف،ذکر اللہکی طرف بلاتے ہیں ، تلاوت قرآن کی ترغیب دیتے ہیں ، لوگوں کو ذکر ودُرُودِپاک پڑھنے کی ترغیب دِلاکر ان کی زبانوں کو ذکر ودُرُود سے تر کردیتے ہیں ، خدمت خلق پر لگادیتے ہیں ، لوگوں کو اپنے ہمسایوں کے حقوق پورا کرنے پر لگادیتے ہیں ، ماں باپ کی خدمت کی دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں ، اپنے بیوی بچوں کے حقوق پورا کرنے کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں ،حقوق اللہوحقوق العباد کی ادائیگی کے متعلق بتاتے ہیں ، تو یہ اس لیے بھی خوش قسمت ہیں کہ ان کو اپنے اس عمل کا توثواب ملے گاہی لیکن ان کی اس دعوت کی وجہ سے جوجولوگ عمل کرتے رہیں گے ان تمام کے اجرکے برابر بھی ان کو اجر ملتا رہے گا۔
اور کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ:جو دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ بنتے ہیں ، جن کی وجہ سے معاشرے میں بدعقیدگی و بے حیائی پھیلی، بُرائی پھیلی، بدنیتی پھیلی، خیانت وبددیانتی پھیلی، دھوکہ اور فراڈ پھیلا، لوگ فلموں اور ڈراموں کی طرف مائل ہوئے، گانے باجوں پر لگ گئے یا دیگر گناہوں میں لگ گئے تو یہ اس لیے بھی بدقسمت ہیں کہ اِن کو اپنے اِس بُرے عمل کا تو گناہ ملے گا ہی لیکن اِن کے سکھانے یا بُرے کاموں کی طرف رہنمائی کرنے کے سبب جو لوگ گناہوں میں مبتلا ہوتے رہیں گے اُن تمام لوگوں کا گناہ اِن لوگوں کو بھی ملتا رہے گا اور اُن عمل کرنے والوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔انبیاء، صحابہ ، اولیاء، علماءکی شان وعظمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظام اور علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامان تمام مقدس ہستیوں کے نامۂ اعمال میں ثواب دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکی ہدایت ورہنمائی سے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عمل کیا، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ہدایت ورہنمائی سے تابعین، ان کی ہدایت ورہنمائی سے تبع تابعین اور ان کی رہنمائی سےاولیائے عظام وعلمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے عمل کیا اور ان حضرات کی ہدایت ورہنمائی سے قیامت تک لوگ برابر عمل کرتے رہیں گے اور اُن تمام لوگوں کے اعمال کا ثواب اِن تمام مقدس ہستیوں کو بھی ملتا رہے گا۔چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِیْ قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مِرْقَاۃ شرحِ مِشْکاۃمیں فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک سےمعلوم ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکا ثواب اپنی اُمَّت کےاعمال کی زیادتی کےاعتبارسےبہت زیادہ ہےجس کاکوئی شماراورحدنہیں ، اسی طرح سابقین واوّلین مہاجرین وانصارصحابۂ کرام کےثواب کاکوئی اندازہ نہیں ، اسی طرح دیگرسلف وصالحین اور علماء ومجتہدین کی اپنے بعد میں آنے والوں اوران کی اتباع کرنے والوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بے شمار نیکیاں ہیں ، اسی حدیث پاک سے ہمیں متقدمین کی متاخرین پرہرطبقے میں فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘( )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کےتحت لکھتےہیں کہ یہ حکم نبیصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماور اُن کے صدقہ سے تمام صحابہ، ائمہ مجتہدین، علماء متقدمین و متاخرین سب کو شامل ہے۔ مثلًا اگرکسی کی تبلیغ سے ایک لاکھ نمازی بنیں تو اس مبلغ کو ہر وقت ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہوگا۔اور ان نمازیوں کو اپنی اپنی نمازوں کا ثواب۔اس سےمعلوم ہوا کہ حضور کا ثواب مخلوق کے اندازے سے وراءہے، ربّ فرماتا ہے: (وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ (۳)) (پ۲۹، القلم :۳) (ترجمۂ کنزالایمان:اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے۔) ایسےہی وہ مصنفین جن کی کتابوں سےلوگ ہدایت پارہےہیں قیامت تک لاکھوں کاثواب انہیں پہنچتارہےگا۔ ‘‘ ( )علم وحکمت کے مدنی پھول:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور سے اخذ کردہ اس نفیس نکتے سے علم وحکمت کے درج ذیل کئی مدنی پھول حاصل ہوئے:
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے وطفیل ہم سب کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اَحکام نازل فرمائے اور آپ نے اپنے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو وہ اَحکام تعلیم فرمائے، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے تابعین کو، تابعین نے تبع تابعین اور اِس طرح پوری اُمَّت مُسْلِمَہ تک آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فیضان عام پہنچا، نیز قیامت تک جو جو لوگ دین اِسلام واَحکامِ شَرْعِیَّہ پر عمل کرتے رہیں گے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ثواب اور درجات میں بے حد وبے شمار اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات ظاہری کم وبیش تریسٹھ 63سال ہے، لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کسی بھی اُمَّتی کی عمر اگر ہزاروں سال بھی ہوجائے اور وہ عمر بھر نیکیاں ہی نیکیاں کرتا رہے تب بھی ثواب میں کسی بھی صورت آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برابر ہرگز ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ لہٰذا بعض گمراہ لوگوں کا یہ عقیدہ رکھنا کہ ’’ بسااوقات اُمَّتی اَعمال وثواب میں نبی سے بڑھ جاتے ہیں ۔ ‘‘ سراسر باطل ومردود اور قرآن وسنت کے بالکل خلاف ہے۔
(2) اسی طرح کوئی شخص ہزاروں سال تک عبادت وریاضت کرتا رہے لیکن صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے ثواب تک ہرگزنہیں پہنچ سکتا کہ وہ بھی بالواسطہ اِن ہی مقدس ہستیوں کے سبب نیک اعمال میں مصروف ہے اور اُس کا دن بدن نیک اعمال کرناجیسے اُس کے نامۂ اعمال میں نیکیوں کے اضافے کا سبب ہے ویسے ہی اُن تمام کے نامۂ اَعمال میں بھی نیکیوں کا باعث ہے جن کی ہدایت ورہنمائی سے اُسے عبادت وریاضت کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی۔
(3) حضرت سَیِّدُنَا امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ، حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن ادریس شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، حضرت سَیِّدُنَا امام مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقاور حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاِن چاروں ائمہ نے اُمّتِ مُسْلِمَہ کے لیے قرآن وحدیث سے بالتفصیل اَحکامِ شَرْعِیَّہ اَخذ کیے، لہذا اِنہیں تو اِن کے اِس نیک عمل کا ثواب ملے گا ہی لیکن قیامت تک جوجو لوگ اُن کے اَخذ کردہ مسائل پرعمل کرتے رہیں گے اُن تمام کاثواب انہیں بھی ملتا رہے گا۔ اِن چاروں ہستیوں بالخصوص امام اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجو تابعی بھی ہیں ، اِن کے خلاف زبان طعن دراز کرنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے تو انہیں وہ مقام ومرتبہ عطا فرمایا کہ قیامت تک ان کے نامۂ اَعمال میں نیکیوں اور ثواب کا خزانہ جمع ہوتا رہے اور اِن پر طعن کرنے والے اپنے نامۂ اعمال میں گناہوں کے اَنبار لگارہے ہیں ، کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی سیرتِ طَیِّبَہ کو بطریق اَحسن بیان کرتے ہیں ، اُس پر عمل کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ثواب میں اضافہ کرتے ہیں اور کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جومَعَاذَ اللہاِن مقدس ہستیوں کے خلاف زبانِ طعن دراز کرکے رحمت الٰہی سے دُوری جیسی نحوست میں مبتلا ہوتےہیں اور اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بے ادبی، بے ادبوں کی صحبت سے محفوظ فرمائے، نیک اور باادب لوگوں کی اچھی صحبت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدگناہ کی طرف رہنمائی کرنےوالے کی توبہ!کسی بُرے وگناہ والے عمل کی طرف رہنمائی کرنے والا شخص اگر اپنے اس عمل سے توبہ کرلے تو اب اُسے اُس عمل کا گناہ نہیں ملے گا کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ، اِسی طرح نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر بُرائی میں مبتلا ہوجائے تو اُس کے ثواب کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ کسی گناہ کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر خود اس گناہ سے توبہ کرلے ، اگرچہ دیگر لوگ اس پر عمل کرتے رہیں تو کیا اس کی توبہ سے بُرائی کی طرف رہنمائی کرنے کا گناہ معاف ہوجائےگا؟ کیونکہ توبہ پچھلے گناہوں کو مٹادیتی ہے، یا معاف نہیں ہوگا؟ کیونکہ توبہ کی شرط یہ ہے کہ مظلوم کی لی ہوئی چیز اسے لوٹائی جائے اور گناہ کو چھوڑ دیا جائے جبکہ یہاں جس گناہ کی طرف رہنمائی کی گئی تھی وہ تو باقی ہے اور ا س کی نسبت اس شخص کی طرف ہی ہے، گویا اس شخص نے مظلوم کا حق نہیں لوٹایا، نہ ہی گناہ سے رُجوع کیا۔ اس کے جواب میں علامہ ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں کہ ظاہر یہی ہے کہ اس کا گناہ معاف ہوجائے گا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ اس کی توبہ صحیح نہیں ، حالانکہ ایسا قول کسی نے نہیں کیا ۔جہاں تک مظلوم کا حق لوٹانے کی بات ہے تو اگر ممکن ہے تو لوٹا دے اور حتی المقدور جتنا ممکن ہو گناہ ترک کر دے۔پس جب اس نےتوبہ کرلی اور گناہ سے نادم ہوگیاتوگناہ کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا جیسا کہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرنےوالااگربرائی میں مبتلا ہوجائےتوپھراس کےلیےبھلائی کی طرف رہنمائی کا ثواب منقطع ہوجاتاہے۔اسی طرح کثیرکفار اسلام سے قبل گمراہی کی طرف بلاتے تھےلیکن اسلام لانے کے بعد اُن کےگناہ معاف ہوگئےتوتوبہ کا معاملہ بھی اسی طرح ہےبلکہ اس سےبھی زیادہ قوی ہے۔ کیونکہ حدیث پاک میں ہےکہ گناہ سےتوبہ کرنےوالا ایساہے جیسےاس نےگناہ کیاہی نہیں ۔ ‘‘ ( )کھوٹا سکہ چلانے کا گناہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص پہلے پہل کوئی بُرا طریقہ ایجاد کرے گا تو قیامت تک جتنے لوگ اس طریقے پر عمل کریں گے ، ان سب کا گناہ اس شخص کے اَعمال نامے میں لکھا جائے گا۔ اسی وجہ سے بعض بزرگ فرماتے ہیں : ’’ ایک کھوٹا روپیہ دھوکے سے چلادینا سو کَھرے روپوں کی چوری سے کہیں بدتر ہے۔ ‘‘ کیونکہ سو روپے کی چوری ایک ہی گناہ ہے جو کہ چرانے والے کی اپنی ذات تک محدود رہتا ہے کہ فقط اسے اپنی ہی چوری کا گناہ ملے گا لیکن ایک کھوٹے روپے کا چلا دینا ایک ایسامستقل گناہ ہے جو اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک یہ کھوٹا روپیہ لوگوں کے ہا تھوں میں آتا جاتا رہے گا۔ لہٰذا اس برے عمل یعنی کھوٹے سکے کو رواج دینے والے کی زندگی میں اُس کے مرنے کے بعد لوگوں کا جو کچھ نقصان اس کھوٹے روپیہ کی وجہ سے ہوا وہ سب گناہ اِس شخص کے اَعمال نامے میں لکھے جاتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ کھوٹا روپیہ فنا ہو جائے۔ ’’ اچھے ہیں وہ لوگ جن کے مرنے پر ان کے گناہ بھی مرجاتے ہیں اور افسوس ہے اس شخص پر جو کہ خود تو مر جائے لیکن اس کے گناہوں کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہے۔ ‘‘ ( )لوگوں کوگمرا ہ کرنے کی سزا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر گناہ کا معاملہ فقط گناہ کرنے والے اور ربّعَزَّ وَجَلَّکے درمیان ہوتو ایسا گناہ ندامت، اس گناہ سے توبہ اور آئندہ نہ کرنے کے عہد سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمعاف فرمادے گا، لیکن اگر کسی شخص نے ایسا گناہوں بھرا طریقہ ایجاد کیا کہ جس پر لوگ چل پڑے اور گناہوں میں مبتلا ہوئے توایسے گناہ سے ندامت، اس گناہ سے توبہ اور آئندہ نہ کرنے کے عہد کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ بندہ جن جن لوگوں کو اس گناہ سے روک سکتا ہے اُن کو بھی روکے، یا اپنے اس ایجاد کردہ گناہوں بھرے طریقے کو ختم کرنے کی حتی المقدور کوشش کرےتواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس گناہ سے مکمل معافی مل جائے گی، بصورت دیگر لوگوں کو گناہوں میں مبتلا کرنے کے سبب ہوسکتا ہے کہ اس کی توبہ کو ربّعَزَّ وَجَلَّقبول نہ فرمائے۔ چنانچہ،
حضرتِ سیِّدُنا خالدرَبَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسے منقول ہے ، بنی اسرائیل کے ایک شخص نے شریعت کا علم حاصل کیا اور پھر اس دینی علم کی وجہ سے دُنیوی دولت اور شہرت طلب کرتا رہا ، اس کی ساری زندگی اسی کام میں گزر گئی۔ جب بُڑھاپاآیا، موت کے سائے گہرے ہوئے اور سفرِدنیا ختم ہونے لگا تو اسے اپنی غَلَطی کا خُوب اِحساس ہوا۔ اس نے اپنے آپ کو مخاطَب کرکے کہا: ’’ تو نے دین میں جو بِگاڑ پیدا کیا ہے لو گ تو اس سے ناواقف ہیں لیکن تیرا کیا خیال ہےکیااللہ عَزَّ وَجَلَّبھی تیرے اس بِگا ڑ سے بے خبر ہے؟ وہ وَحْدَہُ لَاشَریکذات تو ہرہر شے سے واقف ہے، اب تیری موت قریب آگئی ہے، تیرے لیے بہتر ہے کہ جلدازجلد اپنی بد اَعمالیوں سے توبہ کر لے۔ ‘‘ چنانچہ اس اسرائیلی عالِم نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ کی اور اپنی ہَنْسلی گلےکی ہڈی میں زنجیر ڈال کراپنے آپ کومسجد کے ستون سے باندھ دیا اور کہا : ’’ میں اس وقت تک اپنے آپ کوآزاد نہیں کروں گا جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہوجائے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے میری توبہ قبول فرمالی ہےاور اگر میری توبہ قبول نہ ہوئی تو اسی حالت میں اپنی جان دے دوں گا۔ جب اس نے اس طرح اِلتَجا کی تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس وقت کے نبیعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ: ’’ اس اسرائیلی عالِم سے کہہ دو کہ اگر تیرا گناہ ایسا ہوتا جو صرف میرے اور تیرے درمیان تک مَحدُود ہوتا تومیں تیری توبہ قبول کرلیتا لیکن جن لوگوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیاحال ہوگا ؟ تو نے انہیں گمراہ کرکے جہنم میں داخل کروادیا اب میں تیری توبہ ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ ‘‘ ( )دیگرلوگوں کے اعمال کی جزا یا سزاکے متعلق اہم وضاحت:مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث اس آیت کےخلاف نہیں : (لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ (۳۹)) (پ۲۷، النجم:۳۹)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔ ‘‘ کیونکہ یہ ثوابوں کی زیادتی اس کے عملِ تبلیغ کا نتیجہ ہے۔ ’’ جس نے گمراہی کی طرف بلایا۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں کہ: ’’ اس میں گمراہیوں کے مُوجِدین مُبَلِّغین سب شامل ہیں تا قیامت ان کو ہر وقت لاکھوں گناہ پہنچتے رہیں گے۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں : (عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-) (پ۳، البقرۃ:۲۸۶)ترجمۂ کنزالایمان:’’ ∞اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی۔ ‘‘ کیونکہ یہ اس کےاپنےفعل یعنی تبلیغ شر کی سزا ہے۔ ( )
¥مدنی گلدستہ
جنت کے 8دروازوں کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو ان تمام لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اس کی رہنمائی سے نیکی کرتے رہیں گے، اسی طرح برائی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو ان تمام لوگوں کا بھی گناہ ملے گا جو اس کی رہنمائی سے گناہ کرتے رہیں گے۔
(2) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو رہنمائی کرنے کا ثواب مل جائے گا اب جس کی رہنمائی کی وہ نیکی کرے یا نہ کرے۔
(3) بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی ہدایت ورہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں اور بہت بدقسمت ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی گمراہی وبربادی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کوئی بھی اُمَّتی آپ کے اعمال وثواب کے برابر ہر گز نہیں ہوسکتا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نامۂ اعمال میں قیامت تک بے حدوبے حساب ثواب داخل ہوتا رہے گا۔
(5) صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے عظام، چاروں ائمہ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے ثواب میں بھی قیامت تک اضافہ ہوتارہے گا کہ ان کی رہنمائی سے لوگ اَحْکَامِ شَرْعِیَّہ وغیرہ پر عمل کررہے ہیں اور تاقیامت کرتے رہیں گے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ(6) کسی بُرے عمل کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر اس سے توبہ کرلے، اس بُرے عمل کو روکنےیا اس رہنمائی کے سبب بُرے اَعمال کرنے والوں کو حتی المقدور روکنے کی کوشش کرے تو اباِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے اُس سابقہ بُرے طریقے پر رہنمائی کرنے کا گناہ نہیں ملے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ(7) بندے کو چاہیے کہ اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتا رہے کہ کسی بھی گناہ کی سچی پکی توبہ کرنے سے اُس گناہ کے وبال سے نجات مل جاتی ہے۔
(8) کتنے اچھے ہیں وہ لوگ جن کے انتقال کے ساتھ ہی ان کے گناہ بھی مرجاتے ہیں اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو خود تو مرجاتے ہیں لیکن ان کے گناہوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں لوگوں کوبھلائی والے کاموں کی طرف بلانے، علم دین سکھانےاور گناہوں سے بچانے کی توفیق عطافرمائےاور ہمیں ایسے تمام اعمال کی طرف رہنمائی کرنے سے محفوظ فرمائے جو ہمارے لیے گناہ جاریہ کا سبب ہوں ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 174