Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1053

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ غَدَا اِلَى الْمَسْجِدِ اَوْرَاحَ اَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُ لًا كُلَّمَا غَدَا اَوْرَاحَ.

عن ابی هريرة رضی اﷲ عنہ:ان النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال:من غدا الى المسجد اوراح اعد الله له في الجنة نز لا كلما غدا اوراح.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جوشخص صبح یاشام مسجد جاتا ہےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے صبح و شام جنت میں مہمانی کا سامان تیار فرماتاہے۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیثِ پاک میں اُن خوش نصیبوں کے لئے جنتی مہمان نوازی کی خوشخبری ہےجومسجدجاکر پابندی کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔مسجد جانے کی فضیلت کسے حاصل ہوگی؟عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حدیثِ مذکور کے ظاہر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی وقت مسجد آئےتو مُطلَقاًاسے فضیلت حاصل ہوگی لیکن یہ فضیلت اسی کے ساتھ خاص ہے کہ جو عبادت کی غرض سے مسجد میں آئے خاص طور پر نماز پڑھنے کے لیے۔‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جومسلمان مسجد میں کسی بھی وقت نماز،اِعتکاف،تلاوتِ قرآن یا حُصُولِ علم کے لئے جائےتو اسے مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی۔مسجداﷲ عَزَّ وَجَلَّکا گھر ہےتو جواس میں آئے گااﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت عطا فرمائے گا کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر کرم فرمانے والا ہےاوروہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔‘‘
¥صبح وشام نُزل (مہمانی)کی وضاحت:
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”صبح شام سے مراد ہمیشگی ہےیعنی جوہمیشہ نماز کے لیےمسجد میں جانے کا عادی ہوگا اسے ہمیشہ جنتی رِزق ملے گا۔”نُزُل(مہمانی)“اس کھانے کو کہتے ہیں جومہمان کی خاطرپکایا جائے،چونکہ وہ پُرتَکلُّفہوتا ہے اور میزبان کی شان کے لائق،اس لئےجنتی کھانے کو”نُزُل“ فرمایا گیا،ورنہ جنتی لوگ وہاں مہمان نہ ہوں گے مالک ہوں گے۔‘‘مسجد میں آنے کی ایک نیت:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس جانب اشارہ ہے کہ مسجد گویا مہمان خانہ ہے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس میں آنے والوں کو اپنی عطا سے محروم نہیں کرتا کہ وہ کریم اس سے پاک ومُنَزَّہ ہےکہ اپنے مہمان کو محروم کرے ۔مسجدمیں آنے کی ایک نیت یہ بھی ہے کہ جب مسجد میں داخل ہو تواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عطاؤں کے وصول کرنے کی نیت بھی کرے۔مدنی گلدستہ’’مسجد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) عبادت کی نیت سے مسجد جانے والے کے لئے
اﷲ عَزَّ وَجَلَّجنت میں مہمانی کا سامان تیار فرماتا ہے۔
(2) مسجد
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا گھر ہےتو جواس میں آئے گااﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت عطا فرمائے گا ۔
(3) نُزل اس کھانے کو کہتے ہیں جومہمان کی خاطرپکایا جائے۔
(4) مسجدمیں آنے کی ایک نیت یہ بھی ہے کہ جب مسجد میں داخل ہو تو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عطاؤں کے وصول کرنے کی نیت بھی کرے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پابندی کےساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے اور مسجد جانے کی فضیلت سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1053