Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1056

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:خَلَت الْبِقاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَاَرَادَ بَنُوْ سَلِمَةَ اَنْ يَّنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ:بَلَغَنِيْ اَنَّكُم تُريْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ قَالُوْا: نَعَم يَارَسُولَ اللَّهِ قَدْ اَرَدْنَاذٰلِكَ فَقَالَ:بَنِيْ سَلِمَةَدِيَارَكُم تُكْتَبْ آ ثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آ ثَارُكُمْ فَقَالُوْا:مَا يَسُرُّنَا اَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا.

عن جابر رضی اﷲ عنہ قال:خلت البقاع حول المسجد فاراد بنو سلمة ان ينتقلوا قرب المسجد فبلغ ذلك النبي صلی اﷲ علیہ وسلم فقال لهم:بلغني انكم تريدون ان تنتقلوا قرب المسجد؟ قالوا: نعم يارسول الله قد اردناذلك فقال:بني سلمةدياركم تكتب ا ثاركم دياركم تكتب ا ثاركم فقالوا:ما يسرنا انا كنا تحولنا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ مسجدِ نبوی کے نزدیک کچھ جگہ خالی ہوئی تو بنو سلمہ نے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کاارادہ کیا ۔ یہ بات نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک پہنچی توان سے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہےکہ تم مسجدکے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟“انہوں نے عرض کی :جی ہاں یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ارادہ تو یہی ہے۔ارشاد فرمایا:اے بنوسلمہ ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں،اپنے گھروں ہی میں رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ۔ یہ سن کرانہوں نے عرض کی :”اب ہمیں وہاں سے منتقل ہونا پسند نہیں۔“

شرح حدیث

بنو سلمہ کی جماعت سے محبت اور جذبہ اطاعت:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’بَنُو سَلِمہانصار کا ایک قبیلہ تھا۔ان کے گھر مسجد سے بہت دورتھے۔یہ رات کے گُھپ اندھیرے ، بارش اور سخت سردی میں بھی باجماعت نماز کی کوشش کیا کرتے تھے ۔انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہوجانے کا ارادہ کیا تو سرکارِمدینہصَلَّی اﷲ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اس بات کو ناپسند فرمایاتاکہ مدینہ کے اَطراف خالی نہ ہوں اور دور سے چل کر آنا ان کے لئے کثرتِ ثواب کا سبب بنے ۔‘‘مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ان لوگوں نے یہ کوشش نہ کی کہ اپنے محلے میں الگ مسجد بنالیں،بلکہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے پیچھے نماز کے لئے اپنے گھرچھوڑدینا اورمحلہ خالی کردینا گواراکرلیا۔( انہیں حکم ہواکہ تم اپنے گھروں ہی میں رہو تمہارے نقشِ قدم) تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے لیے( لکھے جائیں گے ) کیونکہ مسجدکی طرف ہرقدم عبادت ہے یاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اورعلما کی تصانیف میں لکھاجائے گا۔واعظین اس پر وعظ کریں گے۔جوتمہارے واقعات سن کر دورسے مسجد میں آیا کریں گے،ان سب کا ثواب تمہیں ملاکرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجد سے دور ہونا متقی کے لئےباعثِ ثواب ہے کہ وہ دور سے جماعت کے لئےآئے گا مگر غافلوں کے لئےثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے۔لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ”منحوس وہ گھر ہے جس میں اذان کی آواز نہ آئے۔“ یعنی غافلوں کے لیے دوریٔ گھرنحوست ہے۔‘‘جتنی مشقت زیادہ اتنا ہی ثواب زیادہ:عمدۃُالقاری میں ہے:’’مسجد تک جانے میں قدموں کی کثرت ثواب کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔جس کا گھر مسجد کے قریب ہواوروہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے مسجدجائے حتّٰی کہ اس کے قدم اس شخص کے قدموں کے برابر ہوجائیں جس کا گھرمسجدسے دور ہے۔تو کیا یہ دونوں فضیلت میں برابر ہوں گے؟امام طَبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’یہ دونوں فضیلت میں برابر ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی اس روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ’’میں حضرت سَیِّدُنَا زید بن ثابترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ مسجد گیا توانہوں نے چھوٹے چھوٹے قدم رکھے اورفرمایا :میں چاہتا ہوں کہ ہمارے قدم مسجد کی طرف زیادہ ہوں۔‘‘علامہ بدرُالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغنیفرماتے ہیں:’’میں کہتا ہوں:اگرچہ یہ حدیث زیادہ قدموں کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے مگراس سےفضیلت میں برابری لازم نہیں آتی کیونکہ آسانی سے اُٹھائے جانے والے قدموں کا ثواب ،مشقت سے اُٹھائے جانے والے قدموں کے ثوا ب کے برابر نہیں ہو سکتا۔حدیثِ مذکور میں یہ بھی بیان ہوا کہ جب اَعمال میں اِخلاص ہوتواُس کے اَثرات نیکیوں کے طورپر لکھے جاتے ہیں۔ جوکثرتِ ثواب کا اِراداہ رکھتاہوتواس کے‏لیے مسجد سے دُور سکونت اختیارکرنا بہتر ہے۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1056