Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1055

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَن اُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ لَا اَعْلَمُ اَحَدًا اَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَكَانَتْ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فَقيلَ لَهُ:لَوْ اِشْتَرَيْتَ حِمَارًا لِتَرْكَبَهُ في الظَّلْمَاءِ وَفِي الرَّمْضَاءِقَالَ:مَا يَسُرُّنِي اَنَّ مَنْزِلِي اِلٰى جَنْبِ الْمَسْجِدِ اِنِّي اُرِيْدُ اَنْ يُّكْتَبَ لِيْ مَمْشَايَ اِلَی الْمَسْجِدِوَرُجُوعِيْ اِذَارَجَعْتُ اِلٰى اَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ.

عن ابي بن كعب رضی اﷲ عنہ قال:كان رجل من الانصار لا اعلم احدا ابعد من المسجد منه وكانت لا تخطئه صلاة فقيل له:لو اشتريت حمارا لتركبه في الظلماء وفي الرمضاءقال:ما يسرني ان منزلي الى جنب المسجد اني اريد ان يكتب لي ممشاي الی المسجدورجوعي اذارجعت الى اهلي فقال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم:قد جمع الله لك ذلك كله.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اُبَی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ایک انصاری تھے، میں نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ کوئی مسجد سے دُور رہتا ہو۔ان کی کوئی جماعت فوت نہ ہوتی تھی ۔ اس سے کہا گیا :’’تم کوئی گدھا وغیرہ کیوں نہیں خریدلیتےکہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرو۔‘‘اس نے کہا: ’’مجھے تویہ بھی پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو کیونکہ میں چاہتاہوں کہ میرامسجد کی طرف آنااور مسجد سے گھر کی طرف جانا لکھا جائے ۔‘‘حضور نبی رحمتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے یہ سب تیرے ‏لیے جمع فرمادیاہے۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیثِ پاک میں بھی مسجد کی طرف جانے کا تذکرہ ہے۔یقیناً بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے گھر مسجد سے دور ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کی بھرپور سعی کرتے ہیں اور یقیناً بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کے گھر مساجد کے بہت قریب ہوں مگرپھر بھی بِلا وجہِ شرعی اُن کی جماعت بلکہ نماز تک قضا ہوجاتی ہو۔مسجد کی طرف جانے سے متعلق4فرامین مصطفےٰ:(1)لوگوں میں نماز کازیادہ ثواب پانے والاوہ ہے جو بہت دور سے چل کر آتا ہے پھروہ جو اس کے بعد زیادہ دور سے چل کر آتا ہے۔(2)مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اورمسجد کی طرف کثرت سے آمدو رفت اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا گناہوں کو اچھی طرح دھودیتا ہے۔(3) کیا میں تمہاری ایسے عمل کی طرف راہنمائی نہ کروں جس کے سبباﷲ عَزَّ وَجَلَّگناہ مٹاتا اور درجات بلند فرماتا ہے؟صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:ضرور ارشاد فرمائیے۔فرمایا:دُشواری کے وقت کا مل وضو کرنا، مسجد کی طرف کثرت سے جانا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظارکرنا، پس اس کا ثواب ایسا ہے جیسے اسلامی سرحد کی حفاظت کرنا۔(4)جب تم میں سے کوئی کامل وضو کرے پھروہ نَمازکی طرف چلے تو اس کا دایاں قدم اٹھنےسےپہلےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے ‏لیے نیکی لکھ دیتا ہے اور بایاں قدم رکھنےسے پہلے اُس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔اب چاہے تم میں سے کوئی مسجدکے قریب رہے یا دُور۔پھراگروہ مسجد میں حاضر ہو اور باجماعت نَماز ادا کرے تواس کی مغفرت کردی جا تی ہے اور اگر وہ مسجد میں حاضر ہواور کچھ رکعتیں نکل چکی ہوں اور بقیہ نماز مکمل کرلی تو اس کی بھی مغفرت کردی جائے گی اوراگر وہ مسجدمیں جماعت کی نیت سے حاضر ہوا لیکن جماعت ہوچکی تھی (پھر اس نے تنہا نَماز ادا کر لی ) تو اس کی بھی مغفرت کردی جا تی ہے۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1055