- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- حدیث نمبر 564
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اِنّی مَجْهُوْدٌ، فَاَرْسَلَ اِلٰى بَعْضِ نِسَائِه فَقَالَتْ: وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِيْ اِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ اَرْسَلَ اِلٰى اُخْرٰى فَقَالَتْ مِثْلَ ذٰلِكَ، حَتّٰى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذٰلِكَ: لَا وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِيْ اِلَّا مَاءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُضِيْفُ هٰذَا اللَّيْلَةَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ اِلٰى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِاِمْرَ أتِهِ: اَكْرِمِيْ ضَیْفَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِيْ رِوَايَةٍ: قَالَ لِاِمْرَأته هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: لَا اِلَّا قُوْتَ صِبْيَانِي، قَالَ: عَلِّلِيْهِمْ بِشَيْءٍ وَ اِذَا اَرَادُوْا الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيْهِمْ وَاِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَاَطْفِئِي السِّرَاجَ وَاَرِيْهِ اَنَّا نَاكُلُ، فَقَعَدُوْا وَاَكَلَ الضَّيْفُ وَبَاتَا طَاوِيَيْنِ، فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ: لَقَدْ عَجِبَ اللهُ مِنْ صَنِيْعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: انی مجهود، فارسل الى بعض نسائه فقالت: والذي بعثك بالحق ما عندي الا ماء، ثم ارسل الى اخرى فقالت مثل ذلك، حتى قلن كلهن مثل ذلك: لا والذي بعثك بالحق ما عندي الا ماء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يضيف هذا الليلة؟ فقال رجل من الانصار: انا يا رسول الله، فانطلق به الى رحله، فقال لامر اته: اكرمي ضیف رسول الله صلى الله عليه وسلم. وفي رواية: قال لامرأته هل عندك شيء؟ فقالت: لا الا قوت صبياني، قال: علليهم بشيء و اذا ارادوا العشاء فنوميهم واذا دخل ضيفنا فاطفئي السراج واريه انا ناكل، فقعدوا واكل الضيف وباتا طاويين، فلما اصبح غدا على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: لقد عجب الله من صنيعكما بضيفكما الليلة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی:’’میں بھوکا ہوں۔‘‘ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی کو پیغام بجھوایا تو انہوں نے جواب دیا :’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میرے پاس پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسری زوجہ ٔمحترمہ کی طرف پیغام بجھوایا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، یہاں تک کہ تمام اَزواجِ مُطَہَّرَات نے یہی جواب دیا کہ :’’اس ذات کی قسم جس نےآپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘حضور تاجدارِرِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حاضرین سے فرمایا :’’ آج رات اس شخص کی کون مہمان نوازی کرے گا ؟‘‘ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کی:’’یارسولَاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں کروں گا۔‘‘∞پھر وہ اس شخص کو لے کر گھر چلے گئے اور اپنی زوجہ سے فرمایا: ’’رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مہمان کی عزت کرنا۔‘‘ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے اپنی زوجہ سے استفسار فرمایا: ’’کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟‘‘تو انہوں نے جواب دیا کہ :’’سوائے بچوں کے کھانے کے کچھ نہیں ۔‘‘فرمایا: ’’بچوں کو کسی چیز سے بہلادینا اور جب بچے کھانے کا کہیں تو انہیں سلا دینا اور جب مہمان آئے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا کہ ہم اس کے ساتھ کھا رہے ہیں۔‘‘ جب سب کھانے کے لئے بیٹھے تو مہمان نے کھا یا اور ان دونوں مقدس ہستیوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔اگلے دن صبح جب وہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ تم دونوں نے رات کو جو اپنے مہمان کے ساتھ (حُسْنِ سلوک)کیا وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت پسند آیا ہے۔‘‘بعض روایات میں یوں ہے کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوطلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’رات فلاں فلاں کے گھر میں عجیب معاملہ پیش آیا،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان لوگوں سے بہت راضی ہے۔‘‘ اور پھر سورۂ حشر کی یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹)(پ۲۸، الحشر:۹)ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنی جانوں پر اُن کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔
شرح حدیث
صحابی رسول کی 7نیکیوں کا بیان:حدیث مذکور میں جس خوش نصیب صحابی رسول کا ذکر خیر ہے، ان کی کنیت ابوطلحہ اور نام حضرت سَیِّدُنا زید بن سہل انصاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہے۔ اس حدیث پاک میں حضرت سیدنا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی 7عظیم نیکیوں کا بیان ہے: (1)آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا بارگاہِ رسالت میں حاضر رہنااور یہ نیکیوں میں سے سب سے عظیم نیکی ہے۔(2)رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ترغیب پر مہمان نوازی جیسی عظیم نیکی میں سبقت کی۔(3)رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے جس نیکی یعنی مہمان نوازی کااظہار کیا اسے پایۂ تکمیل تک بھی پہنچایا۔(4)اپنی اس نیکی میں اپنے گھروالوں کوبھی شامل کرنا یہ بھی نیکی ہے ۔(5) مہمان کی بہتر انداز میں مہمان نوازی کے لیے چراغ بجھانے کا اچھا مشورہ دینا ۔(6) بچوں کو سلادیناتاکہ بچے کھانانہ مانگیں اور مہمان سیرہو کر کھا لے۔(7)اہل وعیال کا کھانا مہمان پر ایثار کرنا ۔“پردے کے بارے میں ایک اہم مسئلہ:حدیثِ مذکور سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابوطلحہ زید بن سہل اَنصاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی زوجہ محترمہ بھی اُن کے اور مہمان کے ساتھ کھانے میں شریک تھیں۔ شارِحِینِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ تَعَالٰینے اِس کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں:(1) اس وقت تک پردے کا حکم نازل نہ ہواتھا اس لئے وہ مہمان کےساتھ کھانے میں شریک ہوئیں ۔(2) وہ عمر رسیدہ (یعنی بڑی عمر کی بوڑھی خاتون)تھیں اس لئے مہمان سے پردہ نہیں کیا۔“دوسرے دن کے لیے کھانا بچا کر نہ رکھنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ کسی بھی اُمُّ المؤمنینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکے گھر سے رات کو کھانا برآمد نہ ہوا،یہ ان مقدس ہستیوں کی سادگی اور دنیا سےدوری کی بہت واضح دلیل ہے یہ بھی معلوم ہواکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشانۂ اقدس میں اگلے دن کےلئے کھانا بچاکر نہ رکھا جاتاتھا ، جو میسرآتا تناول فرما لیتے پھر اگلے وقت کے لئےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کرتے۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں: ’’ہم نے کبھی بھی مسلسل تین دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حالانکہ کھا سکتے تھے مگر (کھانے کے بجائے) ایثار کردیا کرتے تھے۔‘‘عظیم الشان ایثار کا مظاہرہ:حدیثِ مذکورمیں بیان ہواکہ ان حضرات نے بچوں کے لیے رکھا ہوا کھانا مہمان کو کھلا دیا ۔ محقق علی الاطلاق،خاتم المحدثین،حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’وہ بچے بھوکے نہیں تھے ،مگر بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بغیر بھوک کے بھی کھانا مانگتے ہیں اس لئے ان کے لئے کھا نا رکھا گیا تھا ورنہ اگر وہ بھوکے ہوتے تو مہمان سے پہلے انہیں کھلانا واجب ہوتا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ واجب ترک کرتے۔پس ثابت ہواکہ ان کا بچوں کے بجائے مہمان کو کھلانا غیر شرعی کام نہیں تھا بلکہ عظیم الشان ایثار کا مظاہرہ تھا جس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن میں اُن کی تعریف بیان فرمائی ۔‘‘آیات واَحادیث کا محمل اور اِیثار کا معیار:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور اور دیگروہ تمام آیات واحادیث جن میں راہِ خدا میں اپنی محبوب شے خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ان آیات واحادیث کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ بندہ اپنے کھانے، پینے، پہننے، کپڑے دواؤں کے لیے کچھ نہ رکھے اور نہ ہی اپنے ماں باپ اور اہل وعیال کے لیے کچھ رکھے اور ضرورت مندوں میں اپنا مال تقسیم کرتا پھرے ، خواہ وہ خود، اس کے ماں باپ یا اس کے اہل وعیال فاقوں سے مرتے رہیں یا وہ اپنا تمام مال اس طرح خرچ کرڈالے کہ اسے اب دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنا پڑے۔ بلکہ اِن آیات واَحادیث کا صحیح محمل یہ ہے کہ بندہ سب سے پہلے اپنے اوپر، پھر اپنے گھروالوں، اہل وعیال، ماں باپ وغیرہ پر مال خرچ کرے، پھر اپنے دیگر رشتہ داروں اور پھر دیگر لوگوں پر خرچ کرے۔یعنی پہلے ان کے تمام حقوق اچھی طرح ادا کرے، تمام حقوقِ واجبہ کی صحیح طرح ادائیگی کے بعد جواضافی مال بچے تواس میں سے اپنے پسندیدہ اورمحبوب مال کو دوسروں پر ایثار کرے۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’سب سے پہلے اپنے آپ سے ابتدا کرو اور اس پر صدقہ کرو، اگر بچ جائے تو اپنے گھروالوں پر خرچ کرو، اگر بچ جائے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو ، اگر پھر بھی بچ جائے تو اب اپنے سامنے اوردائیں بائیں جو لوگ ہیں ان پرخرچ کرو۔‘‘اسی طرح حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُناابوطلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ’’یارسولَاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے آیت مبارکہ میں ارشاد فرمایا ہے:’’∞تمہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔“اور مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ پسندیدہ ”بَیْرُحَاء “ کا باغ ہے تو میں یہ ربّ تعالیٰ کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں اور میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں اس نیکی کے جمع ہونے کی امید کرتا ہوں،یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اب آپ اس باغ کا جوچاہیں کریں۔‘‘∞سرکارِ دوعالَم نُوْرِمُجَسّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ تو نفع دینے والا مال ہے، تم نے اس کے متعلق جو کہا ہے میں نے سن لیا ہے اب تم ایسا کرو کہ اسے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔‘‘ پھر سَیِّدُنَاابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے وہ باغ اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردیا۔“خاتونِ جنت کا عظیم الشان ایثار:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۴۴صفحات پرمشتمل شیخ طریقت، امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے تحریری بیان پرمشتمل رسالے ’’مدینے کی مچھلی‘‘ صفحہ۲۴ پر ہے:”راکبِ دوش مصطفےٰ،سَیِّدُ الْاَسْخِیَاء، امام ہمام سَیِّدُنَا امام حسن مجتبیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ایک روز ایک وقت کے فاقے کے بعد ہمارے یہاں کھانے کی ترکیب بنی، میرے با با جان مولا مشکل کشا، علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور میرے چھوٹے بھائی حضرت امام حسینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکھانے سے فارغ ہوچکے تھے مگر امی جان سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے ابھی نہیں کھایا تھا، انہوں نے جونہی روٹی پر ہاتھ بڑھایا کہ دروازے پر ایک سائل نے صدادی: ’’اے بنتِرسولاللّٰہ! میں دووقت کا بھوکا ہوں، میرا پیٹ بھر دیجئے۔‘‘امی جانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے فوراً کھانے سے ہاتھ روک لیا اور مجھے حکم دیا کہ ’’جاؤ! یہ کھانا سائل کو پیش کردو، مجھے تو ایک وقت کا فاقہ ہے اور اس نے دووقت سے نہیں کھایا۔‘‘اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین
بھوکے رہ کے خود اوروں کو کھلا دیتے تھے …… کیسے صابر تھے محمد کے گھرانے والےکھلانے پلانے کا عظیم الشان ثواب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! سیدہ خاتون جنترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے فاقے کے باوجود اپنا کھانا ایثار فرمادیا، افسوس! اہلِ بیتِ نبوت سے محبت کا دم بھرنے کے باوجود ہم اپنی ضرورت توکُجا ، بچا کھچا کھانا بھی کسی کو پیش کرنے کے بجائے آئندہ کے لیے فریج میں رکھ چھوڑتے ہیں۔ یقین مانیے! بھوکوں کو کھانا کھلانا اور پیاسوں کو پانی پلانا بڑے ثواب کا کام ہے۔اس ضمن میں دو فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ ہوں: (1)’’جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھلائے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بروزِ قیامت جنت کے پھل کھلائے گا اور جو کسی مسلمان کو پیاس میں پانی پلائے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بروزقیامت مُہر والی پاک وصاف شراب پلائے گا اور جو مسلمان کسی بے لباس مسلمان کو کپڑا پہنائے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا۔‘‘(2)’’جو کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھلاکرسیر کردے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت میں اس دروازے سے داخل فرمائے گا جس میں سے اس جیسے لوگ ہی داخل ہوں گے۔‘‘
کھلانے پلانے کی توفیق دے دے …… پئے شاہ کرب و بلا یا الٰہی
¥مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) مہمان نوازی کرنا اور اس کی ترغیب دلانا حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(2) مہمان ربّ تعالیٰ کی رحمت ہے، اسے اپنے اوپر بوجھ سمجھنے کی بجائے اس کی اچھی طرح سے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے رضائے الٰہی کے لیے تواضع کرنی چاہیے۔
(3) نیکیوں میں سبقت کرنا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(4) شریعت نے جوحقوق بندے پر واجب کئے ہیں ان کی ادائیگی کے بعد جو مال بچے اس میں سے اپنے پسندیدہ مال کو خرچ کرنا اور دیگر لوگوں کے لیے ایثار کردینا بہت فضیلت والا کام ہے۔
(5) گھر میں کوئی مہمان آجائے اور بچے بھوکے ہوں، وہ کھانا مانگیں تو والدین پر واجب ہے کہ انہیں کھانا پہلے دیں ورنہ وہ گناہگار اور جہنم کے حق دار ہوں گے۔
(6) اِسلام اِیثار وخیرخواہی ودیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہمددری کا درس دیتا ہے، لہٰذا مشکل حالات میں جس قدر ممکن ہو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے۔
(7) حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے اہل بیت اطہار نے اپنی پوری زندگی نہایت سادگی ، دنیا سے بے رغبتی اور مشکلات پر صبر کرتے ہوئے گزاردی۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں مہمان نوازی کرنے، مہمانوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے، اپنے گھروالوں کے تمام حقوق ادا کرنے اور ایثار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 564