Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 632

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْس:اِنَّ فِيْكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ :الْحِلْمُ وَالْاَ نَاةُ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاشج عبد القيس:ان فيك خصلتين يحبهما الله :الحلم والا ناة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت اشج عبدالقیسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا:”تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّپسند فرماتاہے:حلم اوراطمینان۔“

شرح حدیث

بارگاہِ رِسالت میں حاضری کا اَنداز:حدیثِ مذکورمیں حضرت سیدنا اشج عبد القیسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی دوخصلتوں کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پسندیدہ خصلتیں کہا گیاہے حلم اور وقار۔سیدعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنا اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ خوشخبری اس موقع پر سنائی جب وہ ایک وفد لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ چنانچہ اشعۃ اللمعات میں ہے:عبدالقیس ایک قبیلے کانام ہے،اس قبیلے کے کچھ لوگ وفد کی صورت میں مدینہ منورہزَادَھَا ا للہُ شَرَفاً وَتَعْظِیماًآئے۔ جیسے ہی انہوں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا فوراً سواریوں سے اترکرسفری لباس پہنے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوگئے ۔ان میں شوق ومحبت کے ساتھ اضطراب وہلچل کی کیفیت بھی تھی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے اِس انداز پرسکوت اختیار فرمایا ۔ اشج جن کا نام مُنذر بن عائذ تھا یہ اس قبیلے کے سردار تھے،یہ سواریوں کے پاس ٹھہرے،قوم کا سازوسامان جمع کیا،غسل کر کےعمدہ کپڑےپہنے،پھر اطمینان ووقار کے ساتھ مسجد نبوی میں آئے،دو رکعت نماز ادا کی اور پھر بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے اِس عمل کو خوب سراہااورفرمایا:” اے اشج! تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپسند فرماتاہے حِلم اور اطمینان۔“ جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں یہ خوشخبری سنائی توانہوں نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میری یہ صفات کسبی ہیں یا فطری ؟ فرمایا:” αکسبی نہیں بلکہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا کردہ ہیں۔“یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ اگر میری یہ خوبیاں کسبی ہوتیں تو قابلِ زوال ہوتیں مگر یہ میرے ربعَزَّ وَجَلَّکی عطا کردہ ہیں اور رب کی عطا کبھی زائل نہیں ہوتی،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ہے جس نے مجھے ایسی خصلتیں عطا فرمائیں جنہیں وہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہے۔منہ پر تعریف کرنے کی ممانعت کا جواب:کسی کے منہ پر اُس کی تعریف کرنے کی توممانعت ہے ؟پھر حضرت اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے سامنے ہی ان کی تعریف کیوں کی گئی ؟اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں:(1)حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوان کی یہ خوبیاں وحی کے ذریعے معلوم ہوئیں اور وحی کو چھپانا جائز نہیں اس لئے ان کے سامنے ہی ان کی تعریف کی۔(2) سید عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حضرت اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں علم تھا کہ وہ اپنی تعریف سن کرغرور وتکبر میں مبتلا نہ ہوں گے۔(3)تاکہ وہ اِن خصلتوں پر ہمیشگی اختیار کریں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر بَجا لائیں۔دلیل الفالحین میں ہے: ”حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس آنے والے وفد کے لوگوں سے فرمایا: کیا تم مجھ سے اپنی جانوں اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کرنے کو تیا ر ہو؟ لوگوں نے کہا :ہاں! ہم تیار ہیں۔حضرت سَیِّدُنَا اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماپنے لیے تو بیعت کرتے ہیں لیکن اپنی قوم کی طرف کسی کو بھیج دیتے ہیں،ان میں سے جو ہماری بات قبول کرے گا وہ ہمارا اور جو انکار کرے گا ہم اس سے لڑیں گے۔ یہ سن کرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تو نے سچ کہا، بے شک!تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت پسند ہیں،حلم اوراطمینان۔“
حدیثِ مذکورمیں حلم اوراطمینان کو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پسندیدہ خصلتیں قرار دیا گیاہے۔ لہٰذا اطمینان کی فضیلت اور جلد بازی کی مذمت سے متعلق چند روایات ملاحظہ فرمائیے:جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے:
*
حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے:اَلْاَنَاۃُ مِنَ اللّٰہ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطٰنِیعنی اطمیناناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔*حضرت سَیِّدُنا حَسَن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:مؤمن سنجیدہ وباوقار ہوتا ہے، رات کو لکڑیاں جمع کرنے والے کی طرح نہیں ہوتا (کہ جلدی میں جو ہاتھ آیا اٹھا لیا)۔*حضر ت سَیِّدُنا ذُوالقرنینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہایک فرشتے سے ملے تو کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جس سے میرے ایمان اور یقین میں اضافہ ہو؟ فرشتے نے جواب دیا : جلد بازی سے بچتے رہیے کیونکہ جب آپ جلد بازی سے کام لیں گے تو اپنا حصہ گنوا بیٹھیں گے۔ہدایت یافتہ کون؟کا تِبِ وَحِی حضرت سَیِّدُنا امیر معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےایک خط میں لکھا:” بھلائی کے کاموں میں غور وفکر کرنا زیادہ ہدایت کاسبب ہوتاہے اورہدایت یافتہ وہ ہے جو جلد بازی سے بچے۔ اور نامراد وہ ہے جو وقار واطمینان سے محروم ہو۔مستقل مزاج آدمی ہی اچھے فیصلے تک پہنچتا ہے جبکہ جلدی مچانے والا خطا کرتا ہے یااس سے خطا سرزد ہونے کا اِمکان ہوتاہے،جسے نرمی نفع نہ دے اسے سختی اور بے وقوفی سے نقصان پہنچتا ہے اور جو تجربات سے نفع نہیں اٹھاتاوہ بلند مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔“جلدبازی ندامت کی ماں ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جلد بازی کواُمُّ النَّدَامَۃِیعنی ندامت کی ماں کہا گیاہے کیونکہ جلد باز آدمی سامنے والے کی بات مکمل ہونے سے پہلے بول پڑتاہے، سوال کو اچھی طرح سمجھنے سے پہلے ہی جواب دے دیتا ہے اور غور وفکر کرنے سے پہلے ہی کوئی کام کرنے کا اِرادہ کر لیتا ہے،کسی کو پرکھنے سے پہلے ہی اس سے متاثر ہو کرندامت اٹھا تاہے۔مقولہ ہے کہ”یَدُ الرِّفْقِ تَجْنِی ثَمْرَۃَ السَّلَامَۃِ وَیَدُ الْعُجْلَۃِ تَغْرِسُ شَجْرَۃَ النَّدَامَۃِیعنی بردباری کا ہاتھ سلامتی کا پھل پیدا کرتاہے اور جلد بازی کا ہاتھ ندامت کا درخت اگاتا ہے۔ چنانچہ جو شخص جلد باز ہو ،بُردباراورمتحمل مزاج نہ ہو تو وہ کسی کام میں توقف،تحمل ،بردباری اورضروری غور وفکر سے کام نہیں لےگا بلکہ ہر کام کی انجام دہی میں جلد بازی کا ارتکاب کرے گا اور لغزش کھائے گا اور نقصان اٹھائے گا ، اگر نقصان صرف دنیاوی ہو توکسی حد تک قابل برداشت ہوسکتا ہے لیکن اُخروی نقصان سہنے کی ہمت ہم نا توانوں میں کہا ں کیونکہ دنیا کا نقصان دنیا ہی میں رہ جا ئے گا جبکہ اُخروی نقصان جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں جلا سکتاہے ۔ جلدبازی کے نقصانات اورتحمل واطمینان کے مزید فوائد جاننے کے لئے”دعوتِ اسلامی“ کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ”جلد بازی کے نقصانات“ کا مطالعہ فرمائیے ۔مدنی گلدستہ’’بُردباری‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّحلم اوراطمینان کو پسند فرماتا ہے۔
(2) مؤمن سوچ سمجھ کر اطمینان وسنجیدگی سے کام کرتا ہے۔
(3) مستقل مزاج شخص ہی اچھے فیصلے تک پہنچتا ہے جبکہ جلدی مچانے والا خطاکھاتاہے۔
(4) ہدایت یافتہ وہ ہے جوجلد بازی سے بچے۔
(5) جو آدمی تجربات سے نفع نہ اٹھائے وہ بلند مقام حاصل نہیں کرسکتا۔
(6) بردباری کا نتیجہ سلامتی جبکہ جلدبازی کا نتیجہ ندامت وشرمندگی ہے ۔
(7) جو اطمینان و وقار سے محروم ہے وہ نا کام ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں جلد بازی سے بچنے اور تحمل وبردباری اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 632