- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- حدیث نمبر 632
باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 632
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْس:اِنَّ فِيْكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ :الْحِلْمُ وَالْاَ نَاةُ.
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاشج عبد القيس:ان فيك خصلتين يحبهما الله :الحلم والا ناة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت اشج عبدالقیسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا:”تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّپسند فرماتاہے:حلم اوراطمینان۔“
شرح حدیث
بارگاہِ رِسالت میں حاضری کا اَنداز:حدیثِ مذکورمیں حضرت سیدنا اشج عبد القیسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی دوخصلتوں کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پسندیدہ خصلتیں کہا گیاہے حلم اور وقار۔سیدعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنا اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ خوشخبری اس موقع پر سنائی جب وہ ایک وفد لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ چنانچہ اشعۃ اللمعات میں ہے:عبدالقیس ایک قبیلے کانام ہے،اس قبیلے کے کچھ لوگ وفد کی صورت میں مدینہ منورہزَادَھَا ا للہُ شَرَفاً وَتَعْظِیماًآئے۔ جیسے ہی انہوں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا فوراً سواریوں سے اترکرسفری لباس پہنے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوگئے ۔ان میں شوق ومحبت کے ساتھ اضطراب وہلچل کی کیفیت بھی تھی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے اِس انداز پرسکوت اختیار فرمایا ۔ اشج جن کا نام مُنذر بن عائذ تھا یہ اس قبیلے کے سردار تھے،یہ سواریوں کے پاس ٹھہرے،قوم کا سازوسامان جمع کیا،غسل کر کےعمدہ کپڑےپہنے،پھر اطمینان ووقار کے ساتھ مسجد نبوی میں آئے،دو رکعت نماز ادا کی اور پھر بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے اِس عمل کو خوب سراہااورفرمایا:” اے اشج! تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپسند فرماتاہے حِلم اور اطمینان۔“ جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں یہ خوشخبری سنائی توانہوں نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میری یہ صفات کسبی ہیں یا فطری ؟ فرمایا:” αکسبی نہیں بلکہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا کردہ ہیں۔“یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ اگر میری یہ خوبیاں کسبی ہوتیں تو قابلِ زوال ہوتیں مگر یہ میرے ربعَزَّ وَجَلَّکی عطا کردہ ہیں اور رب کی عطا کبھی زائل نہیں ہوتی،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ہے جس نے مجھے ایسی خصلتیں عطا فرمائیں جنہیں وہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہے۔منہ پر تعریف کرنے کی ممانعت کا جواب:کسی کے منہ پر اُس کی تعریف کرنے کی توممانعت ہے ؟پھر حضرت اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے سامنے ہی ان کی تعریف کیوں کی گئی ؟اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں:(1)حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوان کی یہ خوبیاں وحی کے ذریعے معلوم ہوئیں اور وحی کو چھپانا جائز نہیں اس لئے ان کے سامنے ہی ان کی تعریف کی۔(2) سید عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حضرت اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں علم تھا کہ وہ اپنی تعریف سن کرغرور وتکبر میں مبتلا نہ ہوں گے۔(3)تاکہ وہ اِن خصلتوں پر ہمیشگی اختیار کریں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر بَجا لائیں۔دلیل الفالحین میں ہے: ”حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس آنے والے وفد کے لوگوں سے فرمایا: کیا تم مجھ سے اپنی جانوں اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کرنے کو تیا ر ہو؟ لوگوں نے کہا :ہاں! ہم تیار ہیں۔حضرت سَیِّدُنَا اشجرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماپنے لیے تو بیعت کرتے ہیں لیکن اپنی قوم کی طرف کسی کو بھیج دیتے ہیں،ان میں سے جو ہماری بات قبول کرے گا وہ ہمارا اور جو انکار کرے گا ہم اس سے لڑیں گے۔ یہ سن کرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تو نے سچ کہا، بے شک!تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت پسند ہیں،حلم اوراطمینان۔“
حدیثِ مذکورمیں حلم اوراطمینان کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پسندیدہ خصلتیں قرار دیا گیاہے۔ لہٰذا اطمینان کی فضیلت اور جلد بازی کی مذمت سے متعلق چند روایات ملاحظہ فرمائیے:جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے:
*حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے:اَلْاَنَاۃُ مِنَ اللّٰہ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطٰنِیعنی اطمیناناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔*حضرت سَیِّدُنا حَسَن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:مؤمن سنجیدہ وباوقار ہوتا ہے، رات کو لکڑیاں جمع کرنے والے کی طرح نہیں ہوتا (کہ جلدی میں جو ہاتھ آیا اٹھا لیا)۔*حضر ت سَیِّدُنا ذُوالقرنینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہایک فرشتے سے ملے تو کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جس سے میرے ایمان اور یقین میں اضافہ ہو؟ فرشتے نے جواب دیا : جلد بازی سے بچتے رہیے کیونکہ جب آپ جلد بازی سے کام لیں گے تو اپنا حصہ گنوا بیٹھیں گے۔ہدایت یافتہ کون؟کا تِبِ وَحِی حضرت سَیِّدُنا امیر معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےایک خط میں لکھا:” بھلائی کے کاموں میں غور وفکر کرنا زیادہ ہدایت کاسبب ہوتاہے اورہدایت یافتہ وہ ہے جو جلد بازی سے بچے۔ اور نامراد وہ ہے جو وقار واطمینان سے محروم ہو۔مستقل مزاج آدمی ہی اچھے فیصلے تک پہنچتا ہے جبکہ جلدی مچانے والا خطا کرتا ہے یااس سے خطا سرزد ہونے کا اِمکان ہوتاہے،جسے نرمی نفع نہ دے اسے سختی اور بے وقوفی سے نقصان پہنچتا ہے اور جو تجربات سے نفع نہیں اٹھاتاوہ بلند مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔“جلدبازی ندامت کی ماں ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جلد بازی کواُمُّ النَّدَامَۃِیعنی ندامت کی ماں کہا گیاہے کیونکہ جلد باز آدمی سامنے والے کی بات مکمل ہونے سے پہلے بول پڑتاہے، سوال کو اچھی طرح سمجھنے سے پہلے ہی جواب دے دیتا ہے اور غور وفکر کرنے سے پہلے ہی کوئی کام کرنے کا اِرادہ کر لیتا ہے،کسی کو پرکھنے سے پہلے ہی اس سے متاثر ہو کرندامت اٹھا تاہے۔مقولہ ہے کہ”یَدُ الرِّفْقِ تَجْنِی ثَمْرَۃَ السَّلَامَۃِ وَیَدُ الْعُجْلَۃِ تَغْرِسُ شَجْرَۃَ النَّدَامَۃِیعنی بردباری کا ہاتھ سلامتی کا پھل پیدا کرتاہے اور جلد بازی کا ہاتھ ندامت کا درخت اگاتا ہے۔ چنانچہ جو شخص جلد باز ہو ،بُردباراورمتحمل مزاج نہ ہو تو وہ کسی کام میں توقف،تحمل ،بردباری اورضروری غور وفکر سے کام نہیں لےگا بلکہ ہر کام کی انجام دہی میں جلد بازی کا ارتکاب کرے گا اور لغزش کھائے گا اور نقصان اٹھائے گا ، اگر نقصان صرف دنیاوی ہو توکسی حد تک قابل برداشت ہوسکتا ہے لیکن اُخروی نقصان سہنے کی ہمت ہم نا توانوں میں کہا ں کیونکہ دنیا کا نقصان دنیا ہی میں رہ جا ئے گا جبکہ اُخروی نقصان جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں جلا سکتاہے ۔ جلدبازی کے نقصانات اورتحمل واطمینان کے مزید فوائد جاننے کے لئے”دعوتِ اسلامی“ کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ”جلد بازی کے نقصانات“ کا مطالعہ فرمائیے ۔مدنی گلدستہ’’بُردباری‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّحلم اوراطمینان کو پسند فرماتا ہے۔
(2) مؤمن سوچ سمجھ کر اطمینان وسنجیدگی سے کام کرتا ہے۔
(3) مستقل مزاج شخص ہی اچھے فیصلے تک پہنچتا ہے جبکہ جلدی مچانے والا خطاکھاتاہے۔
(4) ہدایت یافتہ وہ ہے جوجلد بازی سے بچے۔
(5) جو آدمی تجربات سے نفع نہ اٹھائے وہ بلند مقام حاصل نہیں کرسکتا۔
(6) بردباری کا نتیجہ سلامتی جبکہ جلدبازی کا نتیجہ ندامت وشرمندگی ہے ۔
(7) جو اطمینان و وقار سے محروم ہے وہ نا کام ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں جلد بازی سے بچنے اور تحمل وبردباری اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 632