Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 641

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاقَالَتْ:مَاخُيِّررَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَينَ اَمْرَيْنِ قَطُّ اِلَّا اَخَذَ اَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ اِثْماً فَاِنْ كانَ اِثْمًا كَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْـتَقَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ في شَيْءٍ قَطُّ اِلَّااَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ تَعَالٰی.

عن عائشةرضي الله عنهاقالت:ماخيررسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين قط الا اخذ ايسرهما ما لم يكن اثما فان كان اثما كان ابعد الناس منه وما انـتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شيء قط الاان تنتهك حرمة الله فينتقم لله تعالی.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہِرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں :حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جب بھی دوکاموں میں اختیاردیاگیا تو آپ نے اُن میں سے زیادہ آسان کو اختیار فرمایاجبکہ وہ گناہ پرمشتمل نہ ہواوراگر وہ گناہ ہوتا توآپ سب سے زیادہ اُس سے دور رہنے والے ہوتے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقا م نہ لیا مگر جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی حرمت کو توڑا جاتا تو آپاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے انتقام لیتے۔

شرح حدیث

تعلیم اُمَّت:عَلَّامَہ عَبْدُ الرَّؤُوْف مُنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں:حضورنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دوکاموں میں سے زیادہ آسان کام کو منتخب فرماناتعلیمِ اُمَّت کے لئے تھا کیونکہ دِینِ اسلام آسانی پر مبنی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: (یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘)(پ۲،البقرۃ:۱۸۵)(ترجمۂ کنزالایمان:اللّٰہتم پر آسانی چاہتا ہے اورتم پردشواری نہیں چاہتا۔)پس اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواُمَّت کےلئے دوسزاؤں میں سے کسی ایک کےانتخاب کااختیاردیتاتوآپ ان میں سے زیادہ آسا ن کو منتخب فرماتےجیساکہ قتالِ کُفّاراورجِزیَہ کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپ جزیہ لینااختیار فرماتے۔اُمَّت کے لیے آسانی وسہولت اختیار فرمانا:عَلَّامَہْ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّآپ کواُمَّت کے لئے عبادت و مجاہدہ یا میانہ رَوی کااختیار دیتا توآپ میانہ روی اختیار فرماتے ۔کفارکے ساتھ صلح اورجنگ میں سے کسی ایک کااختیار ہوتا توصلح پسند فرماتے ۔اسی طرح جب اُمَّت کے لئے کسی چیزکےواجب ومستحب یاحرام ومباح میں اختیار دیاجاتاتوآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہ شےاختیارفرماتےجس میں اُمَّت کے لئے سہولت و آسانی ہوتی ۔اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہ لینا :عَلَّامَہ عَبْدُ الرَّؤُوْف مُنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں:”جب کفارِ نا ہنجارنے رحمتِ عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پتھروں سے لہولہان کر دیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے لئے دعا کی: ”اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!میری قوم کوہدایت عطا فرما۔“اسی طرح جس نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوسختی سےبلایا یا آواز لگائی یا جس نے آپ کی چادر مبارک کو اِس زور سے کھینچا کہ گردنِ اَقدس پر نشان پڑ گئے تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جوابی کاروائی کے بجائےاُسے ما ل سےنوازا۔حدیثِ مذکور حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صبروحلم،قیامِ حق اورتَصَلُّب فِی الدِّینکی واضح دلیل ہےاوریہی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاحُسنِ خُلق ہے کیونکہ اگرحُدُوْدُ اللّٰہکی پاسداری نہ کی جاتی تو دِین میں ضعف آتا اگراپنے نفس کی خاطر انتقام لیا جاتا تو حِلم و صبر کے خلاف ہوتا پس آپ نے دونوں مذموم طرفوں کو چھوڑکرخَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا(یعنی میانہ روی والا کام سب سے بہتر ہے)پر عمل کیا ۔“
¥
مدنی گلدستہ’’عبادت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہ لیا۔
(2) اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام لینا صبر وحِلم کے خلاف ہے۔
(3)
حُدُوْدُ اللّٰہکی پاسداری نہ کی جائے تو دِین میں ضُعف آتا ہے ۔
(4) حضورنبی پاک صاحِبِ لَولَاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواُمَّت کیلئے جب دو چیزوں میں اختیار دیا جاتا تو ان میں زیادہ آسان شے کو پسند فرماتے۔
(5) تمام اُمور میں میانہ روی بہترہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مشکلات سے نجات دے کر دِین ودنیا میں آسانیاں عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 641