Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 635

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُوْنُ في شَيْءٍ اِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا شَانَهُ.

عن عائشةرضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:ان الرفق لا يكون في شيء الا زانه ولا ينزع من شيء الا شانه.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”نرمی جس چیز میں ہو اسے زینت دیتی ہے اورجس چیز سے نکال لی جائے اسے عیب دار کردیتی ہے ۔ “

شرح حدیث

مذکورہ اَحادیث میں نرمی کی وضاحت:مذکورہ بالاتینوں حدیثوں میں نرمی کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔پہلی حدیث پاک میں فرمایا گیا کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّمخلوق پر مہربان ہےکہ اُن پر نرمی فرماتاہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔مخلوق پر مہربان ہونے سے مراد یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنافرمانوں کوسزا دینے میں جلدی نہیں فرماتابلکہ اُن میں سے جن کے مقدر میں سعادت مندی لکھی ہے انہیں توبہ کی توفیق دیتاہے اور بدبخت کو ڈھیل دیتا ہے۔دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنرمی برتنے پر وہ اِنعام دیتاہے جو نرمی کے علاوہ کسی اورچیز پر نہیں دیتا۔ یعنی نرمی برتنے والے کی دنیا میں بھی خوب اچھائی اور تعریف کی جاتی ہے اور آخرت میں بھی بہت زیادہ اجرو ثواب ملے گا اور سختی کرنے والے کا معاملہ اس کے برعکس ہوگا یعنی نہ تو وہ دنیا میں قابلِ تعریف ہوگا نہ آخرت میں اجر پائے گا ۔تیسری حدیث میں فرمایا گیاکہ نرمی جس چیز میں ہو اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سےنکال لی جائے اسے عیب دار کر دیتی ہے۔یعنی نرمی سے اُمور کی تکمیل ہوتی ہے جبکہ سختی سے بنے ہوئے کام بھی بگڑجاتےہیں ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
ہے فلاح و کامرانی نرمی اور آسانی میں
ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
مرآۃ المناجیح میں ہے:”
اللّٰہتعالیٰ رفیق یعنی کریم و رحیم ہے کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم نہیں دیتا،گناہ بخشتا ہے،وہ چاہتا ہے کہ میرے بندے بھی اپنے ماتحتوں، اپنے ساتھیوں پر رحیم وکریم ہوں۔خیال رہے کہاللّٰہتعالیٰ کو عام محاورہ میں رفیق کہنا جائز نہیں یہ لفظ اسماءِ الٰہیہ میں سے نہیں ہےیہاں حدیثِ مذکور میں یہ لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نرمی سےدنیاوآخرت کے وہ کام بن جاتے ہیں جو سختی سے نہیں بنتے،اکثر سختی سے دوست دشمن بن جاتے ہیں،بنتے ہوئے کام بگڑ جاتے ہیں جبکہ نرمی سے دشمن دوست ہو جاتے ہیں اور بگڑتے ہوئے کام بن جاتے ہیں۔اگر حقیر آدمی کے دل میں نرمی ہوتووہ عزیز بن جاتا ہےاور عظیمُ الشان آدمی کے دل میں سختی ہو تو وہ حقیر ہوجاتا ہے۔لوہا نرم ہوکراوزار بنتا ہے،سونا نرم ہوکر زیور، زمین نرم ہوکر قابلِ کاشت ہوتی ہے، اِنسان نرم ہوکر ولی بن جاتا ہے۔“نرمی کے متعلق تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)’’جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اُسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصے سے محروم رکھا گیا اُسے بھلائی کے حصے سے محروم رکھا گیا۔‘‘(2)’’نرمی برکت اورسختی نحوست ہے۔‘‘(3)’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک محبوب ترین دِل وہ ہیں جو زیادہ نرم،زیادہ پاک اور زیادہ مضبوط ہوں کہ مسلمان بھائیوں کے لیے نرم،گناہوں سے زیادہ پاک اور دِین میں زیادہ مضبوط ہوں۔‘‘شفقت ونرمی کی تاثیر:حضرت سیِّدُنامحمد بن زکریا غَلابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:میں ایک رات حضرت سیِّدُناابنِ عائشہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس حاضر ہوا وہ نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد مسجد سے نکل کر اپنے گھر کا ارادہ رکھتے تھے، اچانک نشے میں مدہوش ایک قریشی نوجوان آپ کے راستے میں آیا جو ایک عورت کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہا تھا، عورت نے مدد کے لئے پکارا تو لوگ اس نوجوان کو مارنے کے لئے جمع ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنا ابنِ عائشہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس نوجوان کو دیکھ کر پہچان لیا اور لوگوں سے کہا:”میرے بھتیجے کو چھوڑ دو۔“ پھر آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”اے میرے بھتیجے!میرے پاس آؤ۔“تو وہ نوجوان شرمندہ ہونے لگا، تب آپ نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا یا پھر اس سے فرمایا:”میرے ساتھ چلو۔“ چنانچہ وہ آپ کے ساتھ چلنے لگا حتی کہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے گھر پہنچ گیا۔آپ نے اپنے ایک غلام سے فرمایا:”آج رات اسے اپنے پاس سلاؤ، جب اس کا نشہ دور ہو تو جو کچھ اس نے کیا ہے وہ اسے بتا دینااور اسے میرے پاس لانے سے پہلے جانے مت دینا۔“جب اس کانشہ دورہوا تو خادم نے اسے سارا ماجرا بیان کیا جس کی وجہ سے وہ بہت شرمندہ ہوا اور رونے لگا اور واپس جانے کا ارادہ کیا تو غلام نے کہا:حضرت کا حکم ہے کہ تمہیں ان کے پاس لے جاؤں۔غلام اس نوجوان کو آپ کے پاس لے آیا، آپ نے اس نوجوان سے فرمایا: ”کیا تجھے اپنی ذات سے شرم نہیں آئی؟ کیا تجھے اپنی شرافت سے حیا نہ آئی؟کیا تو نہیں جانتا کہ تیرا والد کون ہے؟ تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈر اور جن کاموں میں لگا ہوا ہے انہیں چھوڑ دے۔“وہ نوجوان اپنا سر جھکا کر رونے لگا پھر اس نے اپنا سر اٹھا کر کہا:میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے عہدکرتاہوں جس کے بارے میں قیامت کے دن مجھ سے سوال ہو گاکہ آیندہ کبھی میں(نشہ آور) نبیذ نہیں پیوں گا اور نہ ہی کسی عورت پر دست درازی کروں گا اور میں ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:میرے قریب آؤ۔ پھر آپ نے اس کے سر پر بوسہ دے کر فرمایا:”اے میرے بیٹے!تو نےتوبہ کر کےبہت اچھا کیا۔“اس کے بعد وہ نوجوان آپکی مجلسوں میں شریک ہونے لگا اور آپ سے حدیث شریف لکھنے لگا۔یہ سب آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی نرمی کی برکت تھی۔ پھر آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”لوگ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں حالانکہ اُن کی نیکی بُرائی بن جاتی ہے لہٰذا تم اپنے تمام اُمُور میں نرمی کواختیار کروکہ اس سے تم اپنے مقاصد کو پا لو گے۔“مدنی گلدستہ’’شفقت ونرمی‘‘کے9حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنرمی فرمانے والا ہے اورنرمی کو پسند فرماتا ہے۔
(2) نرمی جس چیز میں ہو اسے زینت دیتی ہے اور جس سے نکالی جائے اسے عیب دار کردیتی ہے۔
(3) جو برکتیں نرمی کی بدولت ملتی ہیں وہ کسی اور چیز کی وجہ سے نہیں ملتیں ۔
(4) نرمی کی وجہ سےحقیر آدمی بھی ہر دلعزیزبن جاتا ہےجبکہ سختی کی وجہ سے باعزت شخص بھی حقیر و ذلیل ہو جاتا ہے۔
(5) نرمی کے سبب اُمور کی تکمیل ہوتی ہے جبکہ سختی سےبنے ہوئے کام بھی بگڑ جاتےہیں۔
(6) نرم مزاج دنیا میں بھی لائق تعریف ہے اورآخرت میں بھی بہت زیادہ اجر وثواب کا مستحق ہے ۔
(7) اچھے اَخلاق اور اچھے پڑوس کی وجہ سے گھر آباد ہوتے ہیں اور عمروں میں اضافہ ہوتاہے ۔
(8) نرمی میں برکت اور سختی میں نحوست ہے۔
(9) کسی کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آنا اس کی زندگی سُدھار سکتاہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نرمی کی دولت عطا کرے اور سختی وترش روئی سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 635