Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 639

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَوْصِنِيْ قَالَ:لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ مِرَارًا قَالَ: لَا تَغْضَبْ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم:اوصني قال:لا تغضب فردد مرارا قال: لا تغضب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ایک شخص نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:مجھےنصیحت کیجئے۔ارشادفرمایا:”غصہ نہ کرو۔“اس نے کئی مرتبہ یہی سوال کیا ،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”غصہ نہ کرو۔“

شرح حدیث

غصہ نہ کرنے سے کیا مراد ہے؟فتح الباری میں ہے:”علّامہ خطّابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِینے فرمایا :”غصہ نہ کرو۔“ کا مطلب یہ ہے کہ غصے کے اسباب اور اس کے اثرات سے بچو۔ پس یہاں نفسِ غُصّہ سے منع نہیں کیاگیا کیونکہ وہ توطبعی وفطری شے ہے ۔ بعض نے فرمایا کہ شاید سائل کا مزاج بہت تیز اورطبیعت میں غصہ زیادہ تھا اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہرایک کو اس کی طبیعت کے مطابق جواب ارشاد فرماتے تھے اسی لئے اسے غصہ ترک کرنے کا حکم دیا ۔حضرت سَیِّدُنَا اِبْنِ تِیْنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْمُبِیْنفرماتے ہیں:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس فرمانِ عالی میں دنیا و آخرت کی بھلائیاں جمع فرمادیں ہیں کیونکہ غُصّہ قطعِ تعلقی، نرمی سے دوری، مدِ مُقابل کی ایذارَسانی اوردِین میں کمی کا باعث بنتاہے۔“عمدۃالقاری میں ہے:حضرت سَیِّدُنَا عَلَّامَہ اَبُوسَعِیْدعَبْدُاللّٰہبِن عُمَر بَیْضَاوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب یہ دیکھا کہ انسان کے اندر جتنی بھی برائیاں پیدا ہوتی ہیں وہ نفسانی خواہشات اور غصے کی وجہ سے ہوتی ہیں اسی لئےجب سائل نے یہ سوال کیا کہ آپ ایسی چیز کی طرف راہنمائی کریں جس کی وجہ سے وہ بُرے کاموں اور بُری باتوں سے رُک جائے اور غصے سے بھی رُک جائے جس کا نقصان اور بوجھ سب سے زیادہ ہے اور جب وہ غصہ پر قابو پالے گا تو باقی بری صفات پر قابو پانا اس کیلئے آسان ہوگاتو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے غصہ نہ کرنے کا ارشادفرمایا۔مدنی گلدستہ’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بے جاغُصّہ قطعِ تعلقی، نرمی سے دوری، مدّ ِمُقابل کی ایذارَسانی اوردِین میں کمی کا باعث ہے ۔
(2) حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپوچھنے والوں کواُن کی طبیعت کےمطابق حسبِ حال جواب ارشادفرمایا کرتے تھے۔
(3) انسان کے اندر جتنی بھی برائیاں پیدا ہوتی ہیں وہ نفسانی خواہشات اور غصے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
(4) جو غصے پر قابو پالے گا اس کے لیے دیگر برائیوں پر قابو پانا آسان ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بے جا غصہ کرنے سے بچائے اور نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 639