Main Icon

باب: راز داری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 685

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مِنْ اَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَاللهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الرَّجُلُ يُفْضِيْ اِلٰى الْمَرْاَۃِ وَتُفْضِىْ اِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا.

عن ابی سعيد الخدري رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان من اشر الناس عندالله منزلة يوم القيامة، الرجل يفضي الى المراۃ وتفضى اليه ثم ينشر سرها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”قیامت کے دناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بد ترین وہ شخص ہوگا جو عورت سے ہمبستری کرے اور عورت اس کے ساتھ ہم بستر ہوپھر وہ اُس کے راز کی تشہیر کرے۔“

شرح حدیث

رازدوسروں کو بتانے سے مراد:اِمَامْ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اس حدیثِ پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ مرد جب اپنی بیوی سے ہمبستری کرے تو اس دوران ہونے والی باتیں اور معاملات یونہی ہمبستری کی کیفیت کسی کو بتاناحرام ہےاور جہاں تک صِرف جماع کے ذِکر پر اکتفا کرنے کی بات ہے اگراس میں کوئی فائدہ اور ضرورت نہ ہو تو ایسا کرنا مروت کے خلاف اور مکروہ ہے۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور آخرت کے دِن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔“البتہ کسی فائدے یا حاجت کے سبب کوئی بات بیان کرنے میں حرج نہیں ۔مثلاً عورت نے مَرد کے خلاف صُحبت سے عاجز ہونےکا دعویٰ کیا تو مَرداپنی صفائی میں صحبت کا تذکرہ کرسکتا ہے۔‘‘عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیحدیثِ پاک کے ا س حصہ”پھر اس کا راز دوسروں کو بتائے۔“ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”یعنی اس شخص اور عورت کے درمیان جو باتیں ہوئی ہیں جن کا چھپانا اس پرشرعاً یا عرفا ً لازم تھا یہ وہ باتیں دوسروں کو بتا تا پھرے یا عورت میں کوئی جسمانی عیب ہے یہ وہ عیب کسی کو بتا ئے یا عورت کے وہ محا سن اوروں کو بتا ئے کہ جن کا چھپا نا اس پرشرعاًیا شرافت کی وجہ سےلازم تھا۔ حضرت ابن مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہتو یہاں تک فرماتے ہیں کہ شوہر اور بیوی ان میں سے ہر ایک کے افعال و اقوال دوسرے کے پاس امانت ہوتے ہیں تو اگر ان میں سے کسی نے کوئی ایسی بات بیان کی کہ جس کا بیان کرنا دوسرے کو ناپسند ہو تو اس نے اس امانت میں خیانت کی۔منقول ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو کسی نے کہا کہ تم کس وجہ سے بیوی کو طلاق دے رہے ہو ؟ اس نے کہا :میں کس طرح اپنی بیوی کے عیب تمہیں بتا دوں ؟ پھر جب اس نے طلاق دے دی تو اُس سے کہا گیا:اب تو وہ تمہاری بیوی نہیں ہے لہٰذا اب بتا دو کہ تم نے اسے طلاق کیوں دی؟اس نے کہا : وہ عور ت غیر ہوچکی مجھے کسی غیر کے عیوب بتانے کا کیا حق ہے ۔
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانبیوی کا راز دوسروں کو بتانے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:یا تو اپنی بیوی کے خفیہ عیوب لوگوں کو بتائے یا اس کا حسن اس کی خوبیاں لوگوں کو بتائے یا صحبت کے وقت کی گفتگو،اس وقت کے حالات لوگوں سے کہتا پھرے جیسا کہ عام آزاد نوجوانوں کا دستور ہے کہ شب اول کی باتیں اپنے دوستوں کو بے تکلف بتاتے ہیں۔ زوجہ کی راز کی باتیں دوسروں کو بتانا بہت بڑی خیانت ہے۔ چنانچہ،بدترین خیانت کی وضاحت:مرآۃ المناجیح میں ہے:”خیانت صرف مال کی ہی نہیں ہوتی بلکہ مال ، راز اور عصمت وغیرہ سب میں ہوتی ہے بلکہ مال میں خیانت سےبدرجہا بدتر راز داری میں خیانت ہے۔“عورت کی خامی کسی کو نہ بتائے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عورت چھپانے کی چیز کو کہتے ہیں اور عورت کو عورت کہنے کی وجہ یہی ہے کہ یہ چھپانے کی چیز ہےلہٰذا پنی زوجہ کے راز کو دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کیا جائے بلکہ زوجہ کے عیوب اور ان کی خامیوں پر بھی پردہ ڈالا جائے ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا اَنَس بِن مالِکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بے شک عورتوں میں جہالت اور خامی ہوتی ہے تو تم ان کی جہالت کو خاموشی سے برداشت کرو اور ان کی خامیوں کو گھروں کے اندر چھپائے رکھو۔“راز ظاہر کرنے کا وبال:منقول ہے کہ ایک بادشاہ بڑی عیش وعشرت سے شاہانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام خِضَر تھا، وہ بہت مُتّقِی وپرہیز گار تھا۔ ایک دن بادشاہ کےبھائی نے اس سے کہا: اب آپ کی عمر بہت ہوگئی ہے ، آپ کا بیٹا خضر حکومت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ، آپ خضر کی شادی کرادیں تاکہ اس کی اولاد میں سے کوئی آپ کا جانشین بن کر تختِ شاہی سنبھال لے۔ بادشاہ نے اپنے بیٹے کو بلا کر شادی کی بات کی تو اس نے اِنکار کردیا لیکن بادشاہ کے اصرار پر ایک دوشیزہ سے اس کی شادی کردی گئی۔ شہزادے نے اپنی بیوی سے کہا:مجھے عورتوں میں کچھ رغبت نہیں، اگر تو چاہے تو میرے ساتھ رہ اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کر، تیرا نان ونفقہ شاہی خزانے سے ادا کیا جائے گا۔لیکن ہمارے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہوسکے گا ، اگر اس بات پر راضی ہے تو میرے ساتھ رہ اور اگر چاہے تو میں تجھے طلاق دے دیتاہوں؟سعادت مند بیوی نے کہا: میرے سرتاج! آپ سے دوری مجھے گوارا نہیں،میں آپ کے ساتھ رہ کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکیعبادت کرو ں گی۔ شہزادے نے کہا:اگر یہی بات ہے تو میرا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا ،اگر تو میرا راز چھپائے گی تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتجھے اپنے حفظ وامان میں رکھے گا اور اگر میرا راز فاش کرے گی تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتجھے ہلاکت میں مبتلا کردے گا ۔ اس نے یقین دہانی کرادی۔دونوں میاں بیوی دن راتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں مشغول رہنے لگے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو بادشاہ نےدونوں کو بلا کرپوچھ گچھ کی تو دونوں نے جواب دیا کہ اولاداللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے ہوتی ہے، جب وہ چاہے گا اولاد عطا فرمائے گا۔بالآخر بادشاہ نے شہزادے سے پہلی بیوی کو طلاق دلواکر ایک بیوہ عورت سے شادی کرادی جس کی پہلے شوہرسے اولاد تھی۔شہزادے نے اپنی دوسری بیوی سے بھی وہی عہد لیا لیکن سال گزرنے پر اس نے بادشاہ کے سامنے شہزادے کا راز فاش کردیا۔ بادشاہ یہ سن کر بہت غصہ ہوا ، اس نے خادم بھیج کر شہزادے کو بلوایا ، لیکن شہزادہ وہاں سے بھاگ گیا۔ تین سپاہی اس کے پیچھے گئے تو شہزادہ مل گیا۔ سپاہیوں نے بادشاہ کے پاس لے جانا چاہا تو اس نے جانے سے انکار کردیا ۔ دو سپاہی لے جانے پر بضد رہے توتیسرے نے کہا: شہزادے پر سختی نہ کرو، اگر ہم اس وقت اسے بادشاہ کے پاس لے گئے تو ہوسکتا ہے کہ بادشاہ غصہ میں آ کر اپنے اس نیک بیٹے کو قتل کروا دے۔ بہتری اسی میں ہے کہ شہزادے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ دونوں سپاہی تیسرے کی بات سے متفق ہوگئے اور شہزادے کو وہیں چھوڑ کر بادشاہ کے پاس پہنچے۔بادشاہ نے شہزادے کے متعلق پوچھا: تودونوں سپاہیوں نے تیسرے کا راز فاش کرتے ہوئے کہا: عالی جاہ! ہم نے تو اسے پکڑ لیا تھا لیکن ہمارے رفیق نے اسے چھڑوا دیا۔ بادشاہ نے غصہ میں آکر تیسرے سپاہی کو قید میںڈال دیا۔ پھر بادشاہ شہزادے کے متعلق سوچنے لگا، اچانک اس نے دونوں سپاہیوں کو بلوایا جب وہ سامنے آئے تو کہا:” تم دونوں نے میرے بیٹے کو خوفزدہ کیا اسی لئے وہ مجھ سے دور چلاگیا ،اے جَلَّاد! انہیں پکڑ کر لے جا اور ان کے سر قلم کردے۔“پھر شہزادے کی دوسری بیوی کو بلوایا اور کہا:” تونے میرے بیٹے کا راز فاش کیا تیری وجہ سے وہ مجھ سے دور چلا گیا اگر تو اس کے راز کو چھپاتی تو آج وہ میری آنکھوں کے سامنے ہوتا، اے جلاد! اسے بھی قتل کردے۔ “پھر بادشاہ نے تیسرے سپاہی اور شہزادے کی مُطَلَّقَہ کو بلایا اور کہا: ”تم دونوں جہاں چاہو جاؤ، میری طر ف سے تم آزاد ہو۔“مدنی گلدستہ”عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) میاں بیوی میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسر ے کا راز کسی کو نہ بتائیں ۔
(2) انسان کوچاہیے کہ وہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
(3) کسی فائدے یا ضرورت وحاجت کے سبب صحبت کا تذکرہ کرنے میں حرج نہیں۔
(4) میاں بیوی میں سے ہر ایک کے اَفعال و اَقوال دوسرے کے پاس امانت ہوتے ہیں ۔
(5) بیوی کے راز دوسروں پر ظاہر کرنا بد ترین خیانت ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے گھر کے راز کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 685