- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: راز داری کا بیان
باب: راز داری کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”قیامت کے دناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بد ترین وہ شخص ہوگا جو عورت سے ہمبستری کرے اور عورت اس کے ساتھ ہم بستر ہوپھر وہ اُس کے راز کی تشہیر کرے۔“
عَنْ اَبِیْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مِنْ اَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَاللهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الرَّجُلُ يُفْضِيْ اِلٰى الْمَرْاَۃِ وَتُفْضِىْ اِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 685 ، باب: راز داری کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنی صاحبزادی حضرت حفصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے بیوہ ہونے کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت عثمان بن عفانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی اور میں نے حضرت حفصہ (کے معاملے) کو ان پر پیش کیاتو میں نے ان سے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح آپ سے کردوں ؟حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا کہ میں اس بارے میں سوچ کر بتاؤں گا۔حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نے چند روز انتظار کیا پھر انہوں نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا کہ میں نے سوچا ہے کہ مجھے ابھی نکاح نہیں کرنا چاہیے۔پھرمیں نے حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات کی اور کہا :اگر آپ چاہیں تو میں اپنی صاحبزادی حفصہ کا نکاح آپ سے کردوں؟حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے خاموشی اختیا ر کی اور کوئی جواب نہیں دیا۔ان کے اس طرزِ عمل کا مجھے حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے بھی زیادہ دکھ ہوا کچھ روز گزرے تو حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے لئے حضرت حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے ان کو آپ کے نکاح میں دے دیا پھر میری حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا:جب آپ نے اپنی صا حبزادی حفصہ کا نکاح مجھ سے کرناچاہا تو میں نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا تھا شاید آپ کو یہ بات ناگوار گزری ؟میں نے کہا: ہاں۔تو انہوں نے کہا : مجھے آپ کی بات قبول کرنے سے کوئی چیز مانع نہ تھی مگرمجھے معلوم تھا کہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکا ذکر فرماچکے تھے میں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا راز فاش نہیں کر سکتا تھا البتہ اگر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ اِرادہ تر ک فرمادیتے تو پھر میں ا نہیں اپنے نکاح میں قبول کرلیتا۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا اَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ حِيْنَ تَاَيَّمَتْ بِنْتُہُ حَفْصَةُ قَالَ لَقِيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ اِنْ شِئْتَ اَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ؟قَالَ سَاَنْظُرُ فِيْ اَمْرِيْ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِیَنِیْ فَقَالَ قَدْ بَدَا لِيْ اَنْ لَا اَتَزَوَّجَ يَوْمِيْ هٰذَا فَلَقِيْتُ اَبَا بَكْرٍ الصِّدِّیْق رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَقُلْتُ اِنْ شِئْتَ اَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ؟فَصَمَتَ اَبُوْ بَكْرٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَلَم ْيَرْجِعْ اِلَیَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ اَوْجَدَ مِنِّيْ عَلٰى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيْ ثُمَّ خَطَبَهَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَنْكَحْتُهَا اِيَّاهُ فَلَقِيَنِيْ اَبُوْ بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَّ عَلَیَّ حِيْنَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ اَرْجِعْ اِلَيْكَ شَيْئًا فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِيْ اَنْ اَرْجِعْ اِلَيْكَ فِيْمَا عَرَضْتَ عَلَیَّ اِلَّا اَنِّيْ کُنْتُ عَلِمْتُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ذَكَرَهَا فَلَمْ اَكُنْ لِاُفْشِيَ سِرَّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا النَّبِیُّ لَقَبِلْتُهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 686 ، باب: راز داری کا بیان
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے روایت ہے کہ اَزواجِ مطہرات حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر تھیں کہ حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِارسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آئیں۔آپ کے چلنے کا اندازرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چال کے مشابہ تھا، جب حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہتے ہوئے فرمایا: میری بیٹی کا آنا مبارک ہو۔پھر انہیں اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ نے اُن سے سر گوشی میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِابہت رونے لگیں جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کی بے قراری کو دیکھا تو دوبارہ سر گوشی میں کوئی بات کہی تو وہ خوش ہو کر ہنسنے لگیں۔ (حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:)میں نے ان سے کہا کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے راز کی بات صرف آپ کو بتائی اور کسی بھی زوجہ کو نہیں بتائی پھر بھی آپ روتی ہیں ؟پھر جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں سے تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آخر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سے ایسی کون سی بات کہی تھی کہ آپ رونے لگ گئیں ؟تو حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے کہا کہ میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز کی بات کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی۔پھر جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا سے تشریف لے گئے تو میں نے حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے کہا: میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دے کر پوچھتی ہوں جو آپ کے ذمہ ہے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سے کیا فرمایا تھا ؟تو حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے کہا:ہاں اب میں آپ کو وہ راز کی بات بتا تی ہوں پہلی مرتبہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سر گوشی کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا کہ حضرت جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامہر سال ایک یا دو مرتبہ میرے ساتھ قرآن پاک کا دورکیا کرتے تھے اس مرتبہ انہوں نے دو مرتبہ قرآن کریم کا دور کیا ہے۔ میراخیال ہے کہ اب میرا دنیا سے جانے کا وقت قریب آگیا ہے تو تماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا،میں تمہارا بہترین پیش رو ہوں۔ میں یہ خبر سن کر روئی جیساکہ آپ نے دیکھااور جب نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری بے قراری دیکھی تو پھر دوبارہ سر گوشی کرتے ہوئے فرمایا :”اے فاطمہ !کیا تم مؤمنوں کی عورتوں کی سردار یا اِس اُمَّت کی عورتوں کی سردار ہونے پر راضی نہیں ہو ؟تو میں (یہ سن کر ) مسکرائی جیساکہ آپ نے دیکھا ۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا قَالَتْ كُنَّ اَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ فَاَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ رَضِیَ اللّٰہ عَنْھَا تَمْشِيْ مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا وَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ اَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ اَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيْدًا فَلَمَّا رَاٰى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ لَهَا خَصَّكِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ ثُمَّ اَنْتِ تَبْكِيْنَ! فَلَمَّا قَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاَلْتُهَا مَا قَالَ لَكِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ مَا كُنْتُ لِاُفْشِيَ عَلٰى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِيْ عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِيْ مَا قَالَ لَكِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ اَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ اَمَّا حِيْنَ سَارَّنِيْ فِي الْمَرَّةِ الْاُوْلٰى فَاَخْبَرَنِيْ اَنَّ جِبْرِيْلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْاٰنَ فِيْ كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ وَاِنَّهُ عَارَضَهُ الْاٰنَ مَرَّتَيْنِ وَاِنِّيْ لَا اُرَى الْاَجَلَ اِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِيْ فَاِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ اَنَا لَكِ فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِيْ رَاَيْتِ فَلَمَّا رَاٰى جَزَعِيْ سَارَّنِي الثَّانِيَةَ فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ! اَمَا تَرْضَيْنَ اَنْ تَكُوْنِيْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ اَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْاُمَّةِ؟ فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَاَيْتِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 687 ، باب: راز داری کا بیان
حضرت ثابت بنانیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے پاس تشریف لائے تو اس وقت میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سلام کیا پھر آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا تو اس کام کی وجہ سے مجھے اپنی والدہ کے پاس پہنچنے میں کچھ دیر ہوگئی، جب میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے عرض کی:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے کسی کام سے بھیجا تھا اس لئے دیر ہوگئی ۔ انہوں نے پوچھا :کس کام سے بھیجا تھا ؟میں نے عرض کی: وہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوں نے فرمایا:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی راز کی بات کسی کو نہ بتانا ۔ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ اے ثابت ! اگر میں وہ بات کسی کو بتا سکتا تو تمہیں بتاتا ۔
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: اَتٰى عَلَيَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا اَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِيْ فِیْ حَاجَةٍ فَاَبْطَاْتُ عَلٰى اُمِّيْ فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ؟ فَقُلْتُ بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: اِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُخْبِرَنَّ بِسِرّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَحَدًا. قَالَ اَنَسٌ: وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ اَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ بِہٖ يَا ثَابِتُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 688 ، باب: راز داری کا بیان