Main Icon

باب: راز داری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 688

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: اَتٰى عَلَيَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا اَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِيْ فِیْ حَاجَةٍ فَاَبْطَاْتُ عَلٰى اُمِّيْ فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ؟ فَقُلْتُ بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: اِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُخْبِرَنَّ بِسِرّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَحَدًا. قَالَ اَنَسٌ: وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ اَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ بِہٖ يَا ثَابِتُ.

عن ثابت عن انس رضی اللہ عنہ قال: اتى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا العب مع الغلمان، قال: فسلم علينا فبعثني فی حاجة فابطات على امي فلما جئت قالت ما حبسك؟ فقلت بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة، قالت: ما حاجته؟ قلت: انها سر، قالت: لا تخبرن بسر رسول الله صلى الله عليه و سلم احدا. قال انس: والله لو حدثت به احدا لحدثتك بہ يا ثابت.

حدیث ترجمہ

حضرت ثابت بنانیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے پاس تشریف لائے تو اس وقت میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سلام کیا پھر آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا تو اس کام کی وجہ سے مجھے اپنی والدہ کے پاس پہنچنے میں کچھ دیر ہوگئی، جب میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے عرض کی:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے کسی کام سے بھیجا تھا اس لئے دیر ہوگئی ۔ انہوں نے پوچھا :کس کام سے بھیجا تھا ؟میں نے عرض کی: وہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوں نے فرمایا:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی راز کی بات کسی کو نہ بتانا ۔ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ اے ثابت ! اگر میں وہ بات کسی کو بتا سکتا تو تمہیں بتاتا ۔

شرح حدیث

راز چھپانے میں مبالغہ:بخاری شریف میں حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مروی ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ایک راز کی بات بتائی تو میں نے اس راز کی کسی کو بھی آپ کے بعد خبر نہیں دی اور مجھ سے (میری والدہ)حضرت امِّ سُلَیْمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانےاس کے متعلق پوچھا تو میں نے ان کوبھی اس کے متعلق خبر نہیں دی۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”ایک قول یہ ہے کہ یہ راز نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَزواجِ مطہراترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْکے ساتھ مخصوص تھا ورنہ اگر اس راز کا تعلق علم سے ہوتا تو حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےلئے اس علم کو چھپانا جائز نہ تھا۔حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکااپنی والدہ سے راز کو چھپانا یہ راز کو چھپانے میں مبالغہ ہےکیونکہ جب انہوں نے اپنی والدہ سے بھی اس راز کو چھپایا تو دوسروں سے بھی بطریق اولیٰ چھپایا۔“راز امانت ہے:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”راز چھپانا لازم ہے کہ راز امانت ہوتا ہے اور یہ بات مؤمنین کے اخلاق میں سے بھی ہے۔حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں دس سال نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں رہا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”میرے راز کی حفاظت کرنا تم مؤمن ہوگے۔“علماء فرماتے ہیں کہ جس راز کو ظاہر کرنے میں راز والے کا نقصان ہواُس راز کو ظاہر کرنا جائز نہیں۔“صدقِ امانت ووفا:مذکورہ روایت میں حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت اور ان کے صدقِ امانت ووفا کا ذکر ہےاور اس بات کا بیان ہےکہ انہوں نے زندگی اور وصال کے وقت بھی رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز کو مخفی رکھا۔اس میں حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سلیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکے حُسنِ تربیت کا بھی ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز کو کسی کو نہ بتانے کی وصیت کی۔دوستوں کے راز چھپانا اور اسے ظاہر نہ کرنا اچھے اخلاق اور اسلامی آداب میں سے ہے۔“راز کی حفاظت کا انوکھا انداز:حضرت ابو علی حکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا:”ایک شخص نے اپنے دوست کو راز کی بات بتائی اور بتانے کے بعد کہا:کیا تم نے اسے ذہن نشین کرلیا۔دوست نے کہا:نہیں میں نے راز کی بات بھلادی ۔“حضرت خلیل بن احمدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”جو تمہارے پاس کسی کی چغلی کھائے گا وہ تمہاری چغلی بھی کسی کے پاس کھائے اور جو دوسرے کی راز کی بات تم تک پہنچائے گا وہ تمہاری راز کی بات بھی دوسرے تک پہنچائے گا۔“رازداری سے متعلق اقوال:
*
کسی ادیب سے کہا گیا:”∞آپ راز کی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا:”∞میں اس راز کے لئے قبر بن جاتا ہوں ۔“*کہاجاتا ہے کہ ”باکمال لوگوں کے سینے رازوں کے دفینے ( قبر ) ہوتے ہیں۔‘‘*یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ”احمقوں کے دل ان کے منہ میں ہوتے ہیں اور عقل مندوں کی زبان ان کے دل میں ہوتی ہے۔“یعنی جو کچھ احمق کے دل میں ہوتا ہے اسے چھپانے کی طاقت نہیں رکھتا اور بےخیالی میں بات ظاہر کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے بےوقوفوں سے دور رہنا اور ان کی صحبت بلکہ ان کے سامنے جانے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔*لوگوں کے راز نہ چھپانا اور اسے فاش کرنا زبان کی ایک آفت ہے اور یہ ممنوع ہے کیونکہ اس سے اس شخص کو تکلیف پہنچتی ہے جس کا راز فاش کیا جائے ۔سرورِ عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب دو شخص آپس میں ایک دوسرے کو رازداں بنائیں تو ایک کیلئے دوسرے کا وہ راز فاش کرنا جائز نہیں جس کا فاش ہونا پہلے کو ناگوار گزرے۔“مدنی گلدستہ’’عرش اعظم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) راز کی حفاظت کرنی چاہیے اگر چہ اس کی حفاظت کا کہا نہ گیا ہو ۔
(2) حضرت انس بن مالک
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز دار اور امین ہیں۔
(3) اپنی اولاد کو بھی دوسروں کے راز چھپانے کی تلقین کرنی چاہیے۔
(4) دوسروں کے راز چھپانا اچھے اَخلاق میں سے ہے۔
(5) کھیلتے ہوئے بچوں کو سلام کرنا بھی سنت ہے۔
(6) اگر اولاد کوئی اچھا کام کرے تو اسے اس کام پر ہمیشہ عمل کرنے کی تاکید کرنی چاہیے۔
(7) راز کو بھلا دینا بھی راز کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 688