- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: راز داری کا بیان
- حدیث نمبر 688
باب: راز داری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 688
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: اَتٰى عَلَيَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا اَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِيْ فِیْ حَاجَةٍ فَاَبْطَاْتُ عَلٰى اُمِّيْ فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ؟ فَقُلْتُ بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: اِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُخْبِرَنَّ بِسِرّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَحَدًا. قَالَ اَنَسٌ: وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ اَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ بِہٖ يَا ثَابِتُ.
عن ثابت عن انس رضی اللہ عنہ قال: اتى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا العب مع الغلمان، قال: فسلم علينا فبعثني فی حاجة فابطات على امي فلما جئت قالت ما حبسك؟ فقلت بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة، قالت: ما حاجته؟ قلت: انها سر، قالت: لا تخبرن بسر رسول الله صلى الله عليه و سلم احدا. قال انس: والله لو حدثت به احدا لحدثتك بہ يا ثابت.
حدیث ترجمہ
حضرت ثابت بنانیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے پاس تشریف لائے تو اس وقت میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سلام کیا پھر آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا تو اس کام کی وجہ سے مجھے اپنی والدہ کے پاس پہنچنے میں کچھ دیر ہوگئی، جب میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے عرض کی:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے کسی کام سے بھیجا تھا اس لئے دیر ہوگئی ۔ انہوں نے پوچھا :کس کام سے بھیجا تھا ؟میں نے عرض کی: وہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوں نے فرمایا:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی راز کی بات کسی کو نہ بتانا ۔ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ اے ثابت ! اگر میں وہ بات کسی کو بتا سکتا تو تمہیں بتاتا ۔
شرح حدیث
راز چھپانے میں مبالغہ:بخاری شریف میں حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مروی ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ایک راز کی بات بتائی تو میں نے اس راز کی کسی کو بھی آپ کے بعد خبر نہیں دی اور مجھ سے (میری والدہ)حضرت امِّ سُلَیْمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانےاس کے متعلق پوچھا تو میں نے ان کوبھی اس کے متعلق خبر نہیں دی۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”ایک قول یہ ہے کہ یہ راز نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَزواجِ مطہراترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْکے ساتھ مخصوص تھا ورنہ اگر اس راز کا تعلق علم سے ہوتا تو حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےلئے اس علم کو چھپانا جائز نہ تھا۔حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکااپنی والدہ سے راز کو چھپانا یہ راز کو چھپانے میں مبالغہ ہےکیونکہ جب انہوں نے اپنی والدہ سے بھی اس راز کو چھپایا تو دوسروں سے بھی بطریق اولیٰ چھپایا۔“راز امانت ہے:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”راز چھپانا لازم ہے کہ راز امانت ہوتا ہے اور یہ بات مؤمنین کے اخلاق میں سے بھی ہے۔حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں دس سال نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں رہا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”میرے راز کی حفاظت کرنا تم مؤمن ہوگے۔“علماء فرماتے ہیں کہ جس راز کو ظاہر کرنے میں راز والے کا نقصان ہواُس راز کو ظاہر کرنا جائز نہیں۔“صدقِ امانت ووفا:مذکورہ روایت میں حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت اور ان کے صدقِ امانت ووفا کا ذکر ہےاور اس بات کا بیان ہےکہ انہوں نے زندگی اور وصال کے وقت بھی رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز کو مخفی رکھا۔اس میں حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سلیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکے حُسنِ تربیت کا بھی ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز کو کسی کو نہ بتانے کی وصیت کی۔دوستوں کے راز چھپانا اور اسے ظاہر نہ کرنا اچھے اخلاق اور اسلامی آداب میں سے ہے۔“راز کی حفاظت کا انوکھا انداز:حضرت ابو علی حکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا:”ایک شخص نے اپنے دوست کو راز کی بات بتائی اور بتانے کے بعد کہا:کیا تم نے اسے ذہن نشین کرلیا۔دوست نے کہا:نہیں میں نے راز کی بات بھلادی ۔“حضرت خلیل بن احمدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”جو تمہارے پاس کسی کی چغلی کھائے گا وہ تمہاری چغلی بھی کسی کے پاس کھائے اور جو دوسرے کی راز کی بات تم تک پہنچائے گا وہ تمہاری راز کی بات بھی دوسرے تک پہنچائے گا۔“رازداری سے متعلق اقوال:
*کسی ادیب سے کہا گیا:”∞آپ راز کی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا:”∞میں اس راز کے لئے قبر بن جاتا ہوں ۔“*کہاجاتا ہے کہ ”باکمال لوگوں کے سینے رازوں کے دفینے ( قبر ) ہوتے ہیں۔‘‘*یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ”احمقوں کے دل ان کے منہ میں ہوتے ہیں اور عقل مندوں کی زبان ان کے دل میں ہوتی ہے۔“یعنی جو کچھ احمق کے دل میں ہوتا ہے اسے چھپانے کی طاقت نہیں رکھتا اور بےخیالی میں بات ظاہر کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے بےوقوفوں سے دور رہنا اور ان کی صحبت بلکہ ان کے سامنے جانے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔*لوگوں کے راز نہ چھپانا اور اسے فاش کرنا زبان کی ایک آفت ہے اور یہ ممنوع ہے کیونکہ اس سے اس شخص کو تکلیف پہنچتی ہے جس کا راز فاش کیا جائے ۔سرورِ عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب دو شخص آپس میں ایک دوسرے کو رازداں بنائیں تو ایک کیلئے دوسرے کا وہ راز فاش کرنا جائز نہیں جس کا فاش ہونا پہلے کو ناگوار گزرے۔“مدنی گلدستہ’’عرش اعظم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) راز کی حفاظت کرنی چاہیے اگر چہ اس کی حفاظت کا کہا نہ گیا ہو ۔
(2) حضرت انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز دار اور امین ہیں۔
(3) اپنی اولاد کو بھی دوسروں کے راز چھپانے کی تلقین کرنی چاہیے۔
(4) دوسروں کے راز چھپانا اچھے اَخلاق میں سے ہے۔
(5) کھیلتے ہوئے بچوں کو سلام کرنا بھی سنت ہے۔
(6) اگر اولاد کوئی اچھا کام کرے تو اسے اس کام پر ہمیشہ عمل کرنے کی تاکید کرنی چاہیے۔
(7) راز کو بھلا دینا بھی راز کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 688