Main Icon

باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 653

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،يَقُوْلُ: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ:الاِمَامُ رَاعٍ وَمَسؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،وَالرَّجُلُ رَاعٍ في اَهْلِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْاَةُ رَاعِيَةٌ في بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا،وَالخَادِمُ رَاعٍ في مَالِ سيِّدِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم،يقول: كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته:الامام راع ومسؤول عن رعيته،والرجل راع في اهله ومسؤول عن رعيته، والمراة راعية في بيت زوجها ومسؤولة عن رعيتها،والخادم راع في مال سيده ومسؤول عن رعيته، وكلكم راع ومسؤول عن رعيته.

حدیث ترجمہ

حضرت ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: میں نے رسولِ اَکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم سب نگہبان ہواور تم سب سے اُس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ جسے لوگوں پر امیر بنایا گیا وہ نگہبان ہے،اُس سے اُن کے بارے میں پوچھا جائے گا۔مرداپنے اہلِ خانہ پر نِگَہبان ہے،اُس سے اس کے اہلِ خانہ کے بارے میں سُوال کیا جائے گا،عورت اپنے شوہر کے گھرکی نگہبان ہے،وہ اس بارے میں جواب دِہ ہو گی، خادم اپنے آقا کے مال پر نِگَہبان ہے،اُس سے اِس بارے میں پوچھا جائے گا ۔تم سب نِگَہبان ہو اورتم سب سے تمہارےماتحتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔

شرح حدیث

منصب کے تقاضے پورےکرنا لازم ہیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص ذمہ دار ہے جوجس منصب پر فائزہےامانتداری کے ساتھ اس کے تقاضوں کو پورا کرنا اس پرلازم ہے۔اگرکسی ملک کابادشاہ ہے توبادشاہت کے تقاضوں کو شریعت کے مطابق پورا کرے ،کسی شہر یا علاقے کا والی وحاکم ہے تو اپنے مرتبے کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھائے ،گھر کاسربراہ ہے تو اہل خانہ کی ذمہ داری اس پر عائد ہے ،حسب حیثیت ان کی کفالت وتربیت کی ذمہ داری اسی کے کندھوں پر ہے۔اگرکوئی اکیلا ہے اس کے متعلقین نہیں تب بھی وہ ذمہ دارہے، جی ہاں!وہ اپنی ذات کا ذمہ دار ہے اپنے اعضاء کی حفاظت و اصلاح اس پر لازم ہے ۔ پس جو اپنی ذمہ داری نبھائے گا وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہو گااور جو خیانت ،غفلت، سستی یا اوردنیاوی غرض سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے گا وہ دنیا وآخرت میں نقصان اٹھائے گا ۔
دلیل الفالحین میں ہے:جسے کسی چیز کی ذمہ داری ملی تو وہ اس کی اصلاح وحفاظت کا امین و محافظ ہے ، اس میں انصاف اوراصلاح کا جوابدہ ہے۔ہرایک سےپوچھا جائے گا کہ جس چیز کی اصلاح وبہتری اورحفاظت تجھ پر لازم تھی اس کی ادائیگی اوراصلاح کی کوشش کی یانہیں۔ سب چھوٹے بڑے حکمرانوں پرلازم ہے کہ اپنے ماتحتوں کے اُمور پرنظر رکھیں اُن کی مدد کریں اُن سے تکالیف دور کریں ۔ گھر کا سربراہ اپنے اَہلِ خانہ کا ذمہ دارہےاس پر لازم ہے کہ حسب حیثیت ان کی کفالت کرے،انہیں نیکی کاحکم دے، برائی سے منع کرےاور انہیں ضروری شرعی مسائل سکھائے ۔ اسی طرح عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہےاس پر لازم ہے کہ شوہرکے مال واسباب کوچوروں، موذی جانوروں اور دیگر نقصان دہ اشیاءسے محفوظ رکھے ،اس کے مال میں خیانت نہ کرے ،اس کی اجازت ورضا کے بغیر کوئی چیز صدقہ نہ کرے،اس کےبچوں کی پرورش اوردیکھ بھال کرے۔ حضرت سیدنا امام خَطَّابی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:حاکم اور دیگر لوگ سب ذمہ دار ہونے میں مشترک ہیں مگر سب کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ شرعی احکام اور شرعی سزاؤں کے نفاذ اور فیصلوں میں عدل وانصاف کی ذمہ داری حاکم اسلام پر ہے۔ گھر کا سربراہ اپنے اہل خانہ کے معاملات اور انکے حقوق کی ادائیگی کاذمہ دار ہے۔اسی طرح گھر،اولاد،خدام وغیرہ کی حفاطت اورشوہر کی خیر خواہی کی ذمہ داری بیوی پر ہے ۔الغرض ہر ایک ذمہ دار ہے یہاں تک کہ اگر کوئی ایسا شخص ہو جو نہ ہی کسی کام کاوالی ہو نہ ہی اس کے بیوی بچے ہوں تو وہ خوداپنی ذات کاذمہ دار ہےاپنے اعضاء کا نگہبان ہے،اس پر لازم ہے کہ احکامِ شرعیہ کی پابندی کرےاورقول وفعل اوراعتقاد میں ممنوعاتِ شرعیہ سے بچے ۔ الغرض ہرایک سےاس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھاجائے گا۔حضرت سیدنااَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:آخرت کےسوال کا جواب تیار کر لے۔پوچھا گیا:جواب کیا ہے؟فرمایا: اَعمالِ صالحہ۔میاں بیوی اور خادم سے سوال ہوگا :مرآۃ المناجیح میں ہے:مرد سے سوال ہوگا کہ تو نے اپنی بیوی بچوں کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں،جن کا خرچہ تیرے ذمہ تھا انہیں خرچ دیا یا نہیں اور جن کی تعلیم تجھ پر لازم تھی انہیں تعلیم دی یا نہیں؟اورعورت سے سوال ہوگا کہ تونے اپنے خاوند کی خدمت کی یا نہیں،خاوند کے مال اور اولاد کی خیر خواہی کی یا نہیں؟بچوں کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے، اس لیے ماں پر لازم ہے کہ انکی پرورش اور تربیت اچھی کرے۔ماں فاطمہ زہرا(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِا)جیسی پرہیزگاربنےتاکہ اس کی اولادحسین(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)جیسی ہونہارہو ،اسی لیے اچھی لڑکیوں سے نکاح کرنا اچھاہے کہ زمین اچھی ہو تو پیداوار بھی اچھی ہوتی ہے۔(خادم سے پوچھا جائے گا )کہ تو نے مولیٰ کے مال میں خیانت تو نہیں کی اور اس کی خیر خواہی کی یا نہیں۔تم سب نِگَہبان ہو:حدیثِ مذكور میں فرمايا گیا کہ”تم سب نگہبان ہو اورتم سب سے تمہارےماتحتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔“ اس کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے کہ”ہرشخص خود اپنے نفس اور اپنے اعضاء کا راعی و ذمہ دار ہے کہ اس سے اپنے اوقات،اپنے حالات،اپنے خیالات،آنکھ ناک کان وغیرہ کا حساب ہوگا کہ کہاں استعمال کئے؟ رب تعالیٰ فرماتاہے: (مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸))(پ۲۶، ق:۱۸) (یعنی )انسان جوبات بھی منہ سے نکالتاہے اس کی بھی نگرانی ہوتی ہے۔غرضکہ ہرایک سے اس کی ذمہ داریوں کےمتعلق پُرشِش ہوگی۔اللّٰہتعالیٰ ہی ہم گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے،پردے رکھے، لغزشیں معاف کرے۔‘‘(آمین)مدنی گلدستہ’’عدل وانصاف‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) ہرشخص ذمہ دار ہے، ہرایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
(2) گھر کے سربراہ سے اس کے اہل خانہ کے بارے میں سوال ہوگا کہ ان کے حقوق ادا کئے یا نہیں۔
(3) اگر کسی کا کوئی ماتحت نہ ہو تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اس سے کچھ پوچھ گچھ نہ ہو گی بلکہ اس سے اس کی ذات کے متعلق سوال ہوگا۔
(4) ہرشخص سےاس کے اوقات،حالات،خیالات،آنکھ ناک کان وغیرہ کا حساب ہوگا کہ کہاں استعمال کئے؟
(5) بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیراس کے مال واسباب سے کسی کوکوئی ایسی چیز نہیں دے سکتی جسے دینے کا عُرف نہ ہو۔
(6) بچوں کا پہلامدرسہ ماں کی گود ہے اس لیے ماں پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت اچھی کرے۔
(7) خادم سے سوال ہوگا کہ تو نے اپنے آقا کے مال میں خیانت تو نہیں کی ، اس کا حق ادا کیایا نہیں؟
(8) شرعی اَحکام اور شرعی سزاؤں کے نفاذاورفیصلوں میں عدل وانصاف کی ذمہ داری حاکمِ اسلام پر ہے۔
(9) ہمیشہ اچھی ہی بات کرنی چاہئے کہ انسان جو بات بھی اپنے منہ سے نکالتا ہے فرشتے اس کے نامۂ اعمال میں لکھ کرمحفوظ کرلیتے ہیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنے ماتحت افراد کے حقوق کی اچھے طریقے سے ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 653