Main Icon

باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 658

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی مَرْيمَ الْاَزْدِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَنْ وَلَّاهُ اللهُ شَيْئًا مِنْ اُمُورِ المُسْلِمِينَ، فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ، اِحْتَجَبَ اللهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُرَجُلًا عَلٰى حَوَائِجِ النَّاسِ.

عن ابی مريم الازدی رضی اللہ عنہ انه قال لمعاوية رضی اللہ عنہ سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول:من ولاه الله شيئا من امور المسلمين، فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم، احتجب الله دون حاجته وخلته وفقره يوم القيامة،فجعل معاويةرجلا على حوائج الناس.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابومریم اَزدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی کہ میں نےرسولِ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئےسنا کہ: ”جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمسلمانوں کے کسی معاملہ کا والی وحاکم بنائے پھروہ ان کی حاجت وضرورت اور محتاجی سے چھپتاپھرے تو بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکواس کی ضرورت وحاجت اورمحتاجی وفقر سے کچھ سَروکارنہ ہوگا۔“(یہ فرمانِ عالی سن کر)حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں کی حاجات کی خبر گیری کے لئے ایک شخص مقر ر فرما دیا۔

شرح حدیث

ظالم حکام کیلئے دنیاوآخرت میں رُسوائی:اِس حدیث پاک میں اُن حکمرانوں وعہدے داروں کے لئےسخت وعید ہے جو اپنے عیش میں مگن ہوں اوررعایا کی حاجات وضروریات کی پر وا نہ کریں، لوگ فریاد کریں،مسائل کا حل چاہیں لیکن وہ ان کے جائزمقاصدپورے نہ کریں تو بروز ِقیامت ایسے حکمرانوں کی پکڑ ہوگی، ان کی ضروریات وحاجات سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو کوئی سروکار نہ ہوگا۔اس لئے جسے دنیا میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی قوم کی کوئی ذمہ داری دی اسے چاہیے کہ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائے لوگوں کی حاجات وضروریات کاخیال رکھے تاکہ بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی حاجات کو پورا فرمائے ۔ ”مرآۃ المناجیح “ میں حدیث مذکور کی جو شرح بیان کی گئی ہے اس کاخلاصہ کچھ یوں ہے کہ:’’جو حاکم مظلوموں ،حاجت مندوں کو اپنے تک نہ پہنچنے دے، اپنے دروازے پر سخت پہرہ بٹھادے، ان کی ضروریات کی پروا نہ کرے،ان سے غافل رہے،ان کی حاجت روائی کا کوئی انتظام نہ کرے بس اپنی حکومت سنبھالنے اوراپنے عیش و آرام میں مشغول رہےتواُس حاکم سےاللّٰہتعالیٰ اپنے ان مجبور بندوں کا بدلہ اس طرح لے گا کہ نہ تواس ظالم حاکم کی حاجات و ضروریات پوری فرمائے گا،نہ اس کی دعائیں قبول کرےگا۔ اس سزا کا ظہور کچھ دنیا میں بھی ہوگا اور پورا پورا ظہور آخرت میں ہوگا۔خیال رہے کہ جیسے عادِل بادشاہ بروزِقیامت قُربِ الٰہی میں نور کے منبروں پر ہوں گے ایسے ہی غافل اور ظالم بادشاہ ذِلت کے گڑھے میں ہوں گے۔حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےیہ فرمانِ عالی سن کر ایک محکمہ بنادیا جس کے ماتحت ہربستی میں ایک افسر رکھا گیا جو لوگوں کی معمولی ضرورتیں خود پوری کرے اور بڑی ضرورتیں آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتک پہنچائے پھر ہمیشہ اس افسر سے باز پُرس کی کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی تو نہیں کرتا۔ہرشخص اپنی ذمہ داری پوری کرے:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام امن وسلامتی کا درس دیتاہے۔ اورامن وسلامتی اسی وقت ممکن ہے جب ہرشخص اپنی ذمہ داری نبھائے۔ رعایا اپنی ذمہ داری پوری کرے اور حکمران عدل وانصاف کے تقاضے پورے کریں، ظلم وستم ،خیانت اور اُمورِمملکت میں سستی وغفلت چھوڑ دیں تو ہر طرف امن وسکون ہو سکتا ہے ۔جس قوم کے حکمران اپنی رعایا کے ساتھ ناانصافی کریں، رعایا کو اپنا حق وصول کرنے میں دقت وپریشانی کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے لوگ دنیا وآخرت میں قابل مذمت ہیں ۔حکمرانوں وعہدے داروں کیلئے تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: (1)’’ایک گھڑی کا عدل ایسے 60 سال کی عبادت سے بہتر ہے جن کی راتیں قیام اوردن روزے کی حالت میں گزریں اور حکومت میں ایک گھڑی کا ظلماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک 60سال کے گناہوں سے زیادہ سخت اور بڑا ہے۔(2)’’بروزِقیامت لوگوں میں سےاللّٰہ عَزَّوَجَلّکے نزدیک مرتبے کے لحاظ سے سب سے اچھا وہ حاکم ہوگا جو عادل اور نرم خُو ہواور سب سے بدتر وہ حاکم ہو گا جو ظالم و بد اخلاق ہو ۔‘‘(3)’’میرا جو امتی لوگوں کے کسی معاملے کا والی بنا پھران کی اس چیز سے حفاظت نہ کی جس سے وہ اپنی اور اپنے گھروالوں کی حفاظت کرتا ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔‘‘صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’عادِل حاکم‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) جو حاکم اپنی رعایا کی حاجات و ضروریات کی طرف توجہ نہ دے بروز قیامت
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو اس کی حاجات وضروریات سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔
(2) جو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے محروم رہا اس کے لئے دنیا وآخرت میں کوئی بھلائی نہیں۔
(3) حضورِ اَنْور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فقر( مفلسی ومحتاجی ) سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگی ہے۔
(4) عادِل بادشاہ بروزِ قیامت قُرب اِلٰہی میں نور کے منبروں پر ہوں گے جبکہ غافِل اور ظالِم بادشاہ ذِلَّت کے گڑھے میں ہوں گے۔
(5)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّایسی قوم کو پاک نہیں فرماتا جس میں حق کے ساتھ فیصلہ نہ کیا جائے اور کمزور شخص طاقتور سے اپنا حق بغیر پریشانی کے وُصول نہ کر سکے۔
(6) جو مسلمانوں کے معاملات کا نگران بنے پھر اُن کے لئے کوشش نہ کرے اوراُن کی خیر خواہی نہ کرے تو وہ اُن کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہو گا۔
(7) رعایا اپنی ذمہ داری پوری کرے اور حکمران عدل وانصاف کے تقاضے پورے کریں،ظلم وستم، خیانت اور اُمورِمملکت میں سستی وغفلت چھوڑ دیں تو ہر طرف امن وسکون ہو سکتا ہے ۔
(8) حاکم رعایاکی ضروریات پوری کرنے کیلئے بطورِ معاون کسی شخص کو ذمہ دارمقرر کرسکتا ہے جیسا کہ سیدنا امیر معاویہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں رعایا کے حقوق کو اچھے طریقے سے ادا کرنے والے عادل حکمران عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 658