- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- حدیث نمبر 658
باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 658
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی مَرْيمَ الْاَزْدِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَنْ وَلَّاهُ اللهُ شَيْئًا مِنْ اُمُورِ المُسْلِمِينَ، فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ، اِحْتَجَبَ اللهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُرَجُلًا عَلٰى حَوَائِجِ النَّاسِ.
عن ابی مريم الازدی رضی اللہ عنہ انه قال لمعاوية رضی اللہ عنہ سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول:من ولاه الله شيئا من امور المسلمين، فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم، احتجب الله دون حاجته وخلته وفقره يوم القيامة،فجعل معاويةرجلا على حوائج الناس.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابومریم اَزدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی کہ میں نےرسولِ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئےسنا کہ: ”جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمسلمانوں کے کسی معاملہ کا والی وحاکم بنائے پھروہ ان کی حاجت وضرورت اور محتاجی سے چھپتاپھرے تو بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکواس کی ضرورت وحاجت اورمحتاجی وفقر سے کچھ سَروکارنہ ہوگا۔“(یہ فرمانِ عالی سن کر)حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں کی حاجات کی خبر گیری کے لئے ایک شخص مقر ر فرما دیا۔
شرح حدیث
ظالم حکام کیلئے دنیاوآخرت میں رُسوائی:اِس حدیث پاک میں اُن حکمرانوں وعہدے داروں کے لئےسخت وعید ہے جو اپنے عیش میں مگن ہوں اوررعایا کی حاجات وضروریات کی پر وا نہ کریں، لوگ فریاد کریں،مسائل کا حل چاہیں لیکن وہ ان کے جائزمقاصدپورے نہ کریں تو بروز ِقیامت ایسے حکمرانوں کی پکڑ ہوگی، ان کی ضروریات وحاجات سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو کوئی سروکار نہ ہوگا۔اس لئے جسے دنیا میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی قوم کی کوئی ذمہ داری دی اسے چاہیے کہ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائے لوگوں کی حاجات وضروریات کاخیال رکھے تاکہ بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی حاجات کو پورا فرمائے ۔ ”مرآۃ المناجیح “ میں حدیث مذکور کی جو شرح بیان کی گئی ہے اس کاخلاصہ کچھ یوں ہے کہ:’’جو حاکم مظلوموں ،حاجت مندوں کو اپنے تک نہ پہنچنے دے، اپنے دروازے پر سخت پہرہ بٹھادے، ان کی ضروریات کی پروا نہ کرے،ان سے غافل رہے،ان کی حاجت روائی کا کوئی انتظام نہ کرے بس اپنی حکومت سنبھالنے اوراپنے عیش و آرام میں مشغول رہےتواُس حاکم سےاللّٰہتعالیٰ اپنے ان مجبور بندوں کا بدلہ اس طرح لے گا کہ نہ تواس ظالم حاکم کی حاجات و ضروریات پوری فرمائے گا،نہ اس کی دعائیں قبول کرےگا۔ اس سزا کا ظہور کچھ دنیا میں بھی ہوگا اور پورا پورا ظہور آخرت میں ہوگا۔خیال رہے کہ جیسے عادِل بادشاہ بروزِقیامت قُربِ الٰہی میں نور کے منبروں پر ہوں گے ایسے ہی غافل اور ظالم بادشاہ ذِلت کے گڑھے میں ہوں گے۔حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےیہ فرمانِ عالی سن کر ایک محکمہ بنادیا جس کے ماتحت ہربستی میں ایک افسر رکھا گیا جو لوگوں کی معمولی ضرورتیں خود پوری کرے اور بڑی ضرورتیں آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتک پہنچائے پھر ہمیشہ اس افسر سے باز پُرس کی کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی تو نہیں کرتا۔ہرشخص اپنی ذمہ داری پوری کرے:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام امن وسلامتی کا درس دیتاہے۔ اورامن وسلامتی اسی وقت ممکن ہے جب ہرشخص اپنی ذمہ داری نبھائے۔ رعایا اپنی ذمہ داری پوری کرے اور حکمران عدل وانصاف کے تقاضے پورے کریں، ظلم وستم ،خیانت اور اُمورِمملکت میں سستی وغفلت چھوڑ دیں تو ہر طرف امن وسکون ہو سکتا ہے ۔جس قوم کے حکمران اپنی رعایا کے ساتھ ناانصافی کریں، رعایا کو اپنا حق وصول کرنے میں دقت وپریشانی کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے لوگ دنیا وآخرت میں قابل مذمت ہیں ۔حکمرانوں وعہدے داروں کیلئے تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: (1)’’ایک گھڑی کا عدل ایسے 60 سال کی عبادت سے بہتر ہے جن کی راتیں قیام اوردن روزے کی حالت میں گزریں اور حکومت میں ایک گھڑی کا ظلماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک 60سال کے گناہوں سے زیادہ سخت اور بڑا ہے۔(2)’’بروزِقیامت لوگوں میں سےاللّٰہ عَزَّوَجَلّکے نزدیک مرتبے کے لحاظ سے سب سے اچھا وہ حاکم ہوگا جو عادل اور نرم خُو ہواور سب سے بدتر وہ حاکم ہو گا جو ظالم و بد اخلاق ہو ۔‘‘(3)’’میرا جو امتی لوگوں کے کسی معاملے کا والی بنا پھران کی اس چیز سے حفاظت نہ کی جس سے وہ اپنی اور اپنے گھروالوں کی حفاظت کرتا ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔‘‘صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’عادِل حاکم‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) جو حاکم اپنی رعایا کی حاجات و ضروریات کی طرف توجہ نہ دے بروز قیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو اس کی حاجات وضروریات سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔
(2) جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے محروم رہا اس کے لئے دنیا وآخرت میں کوئی بھلائی نہیں۔
(3) حضورِ اَنْورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فقر( مفلسی ومحتاجی ) سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگی ہے۔
(4) عادِل بادشاہ بروزِ قیامت قُرب اِلٰہی میں نور کے منبروں پر ہوں گے جبکہ غافِل اور ظالِم بادشاہ ذِلَّت کے گڑھے میں ہوں گے۔
(5)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّایسی قوم کو پاک نہیں فرماتا جس میں حق کے ساتھ فیصلہ نہ کیا جائے اور کمزور شخص طاقتور سے اپنا حق بغیر پریشانی کے وُصول نہ کر سکے۔
(6) جو مسلمانوں کے معاملات کا نگران بنے پھر اُن کے لئے کوشش نہ کرے اوراُن کی خیر خواہی نہ کرے تو وہ اُن کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہو گا۔
(7) رعایا اپنی ذمہ داری پوری کرے اور حکمران عدل وانصاف کے تقاضے پورے کریں،ظلم وستم، خیانت اور اُمورِمملکت میں سستی وغفلت چھوڑ دیں تو ہر طرف امن وسکون ہو سکتا ہے ۔
(8) حاکم رعایاکی ضروریات پوری کرنے کیلئے بطورِ معاون کسی شخص کو ذمہ دارمقرر کرسکتا ہے جیسا کہ سیدنا امیر معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں رعایا کے حقوق کو اچھے طریقے سے ادا کرنے والے عادل حکمران عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 658