باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 689
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اٰ يَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ: اِذَاحَدَّثَ كَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَ اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ. زَادَ فِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِم:وَ اِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ اَنَّهُ مُسْلِمٌ .
عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:ا ية المنافق ثلاث: اذاحدث كذب و اذا وعد اخلف و اذا اؤتمن خان. زاد في رواية لمسلم:و ان صام وصلى وزعم انه مسلم .
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:” منافق کی تین نشانیاں ہیں:(1)جب بات کرے توجھوٹ بولے(2) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کر ےاور(3)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے توخیانت کرے۔مسلم کی ایک روایت میں یہ زائد ہے کہ” اگرچہ وہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور خود کو مسلمان جانے ۔“
شرح حدیث
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں منافق کی جوتین نشانیاں بیان کی گئی ہیں ہر مسلمان کو ان سے بچنا چاہیے۔کامل مسلمان نہ تو کبھی جھوٹ بولتا ہے ، نہ وعدہ خلافی کرتاہے، نہ ہی کسی کے مال میں خیانت کا مرتکب ہوتاہےبلکہ اس کا ہر کاماللّٰہ عَزَّوَجَلَّاوراس کے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےحکم کے مطابق ہوتا ہے اور وہ ہر اُس کام سے بچتاہے جومعصیت و نافرمانی پرمشتمل ہو ۔اَعما ل کاتعلق تین چیزوں سے ہے:عمدۃ القاری میں ہے:انسان کے اَعمال کا تعلق تین چیزوں سے ہے:قول، فعل اور نیت۔ چونکہ منافق کی یہ تینوں چیزیں ہی خراب ہوتی ہیں اس لئے یہاں منافقت کی یہ تین علامات بیان کی گئیں۔*قول کی خرابی یہ ہے کہ منافق بندہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔*فعل کی خرابی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتا ہے اور*نیت کی خرابی یہ ہے کہ وعدہ خلافی کرتاہے۔ خیال رہے کہ وعدہ خلافی اسی وقت مذموم ہے جب وعدہ کرتے ہوئے ہی اسے پورا کرنے کی نیت نہ ہو ۔ اگر وعدہ کرتے وقت پورا کرنے کی نیت تھی مگربعد میں کسی مجبوری یا رکاوٹ کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرسکا تو یہ منافقت کی علامت نہیں۔منافقت سے کیا مراد ہے؟حدیثِ پاک میں مذکورہ صفات کومنافق کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔یہاں منافقت سے کیا مراد ہے؟ اس کی مختلف توجیہات بیان کی گئی ہیں:ارشادالساری میں ہے:(1)ان صفات کے حامل شخص کویہاں مجازاً منافق کہا گیا ہے حقیقتاً نہیں۔(2)یہاں نفاقِ عملی مراد ہے نہ کہ نفاقِ اعتقادی۔(3) یہاں وہ شخص مراد ہے جواِن صفات کا عادی ہو۔(4)جس میں یہ خصلتیں غالب ہوں اور وہ ان کےحکم کو ہلکا جانے تو ایسا شخص بدعقیدہ اورمنافق ہے۔(5) حدیثِ پاک کامقصودلوگوں کوان صفات سے ڈرانااوردور رکھناہے۔(6)یہ حدیث زمانہ نبوی کے کسی خاص منافق کے بارے میں ہے لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی عادتِ کریمہ کے مطابق اس کی تعیین نہ کی کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کا عیب صاف لفظوں میں بیان نہ فرماتے بلکہ اشارۃً گفتگو فرماتے۔(7)یہاں زمانہ ٔنبوی کےمنافقین مراد ہیں۔(کیونکہ وہ ان صفاتِ مذمومہ کے حامل تھے۔)خیال رہے کہ اگر کسی مسلمان میں یہ خصلتیں پائی جائیں تو وہ منافق نہ ہو گابلکہ اس میں منافقت کی خصلتیں ہونگیںنِفاق کی اقسام:فقیہِ اعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نفاق کی دو قسمیں ہیں:ایکنِفاق فِی الْاِعتِقادکہ جو زبان سے اپنے کو مسلمان کہے اور دل میں کفر رکھے۔ دوسرےنِفاق فی الْعَمَلاس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کام کرے جو مسلمانوں کے شایانِ شان نہ ہومنافقین کے کرتوت ہوں جیسے یہ تینوں عیوب۔(تو)جو مسلمان اِن کا مرتکب ہو وہ نفاق فی العمل کا مرتکب ہے۔‘‘
دلیل الفالحین میں ہے :نفاق کی دو قسمیں ہیں:(1)نفاق شرعی یعنی باطن میں کفر اور ظاہر میں ایمان (2)نفاقِ عرفی یعنی باطن ظاہر کے خلاف ہواور یہاں یہی دوسری قسم مراد ہے۔( )مرآۃ المناجیح میں ہے: (حدیث مذکور میں )منافق سے اِعتقادی منافق مرادہیں،یعنی دل کے کافر زبان کے مسلم۔یہ عیوب ان کی علامتیں ہیں مگرعلامت کے ساتھ علامت والا پایا جانا ضروری نہیں۔کوّے کی علامت سیاہی ہے مگر ہر کالی چیزکوّا نہیں۔یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں۔مسلمان کوا س سے بچنا چاہیے،یہ نہیں کہ یہ جرم خود نفاق ہیں۔وعدہ خلافی سے کیا مراد ہے؟فتاویٰ رضویہ میں ہے :”جوشخص کسی سے ایک امر کاوعدہ کرے اور اس وقت اس کی نیت میں فریب نہ ہو بعد کو اس میں کوئی حرج ظاہرہو اور اس وجہ سے اس امر کو ترک کرے تو اس پربھی خلافِ وعدہ کاالزام نہیں۔حضورپرنور سیدعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں:یہ بدعہدی نہیں کہ آدمی (کسی شخص سے) وعدہ کرے اورنیت اسے پورا کرنے کی ہو اور پورا نہ کرسکے، بلکہ بدعہدی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اسے پوراکرنے کاسرے سے ارادہ ہی نہ ہو۔‘‘وعدہ خلافی وعہدشکنی کی وعیدیں:دوفرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: *”بیشک عہد شکنی کرنے والے کے لیے کل بروزِ قیامتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّایک جھنڈا نصب فرمائے گا اور کہا جائے گا:سن لو یہ فلاں شخص کی عہدشکنی ہے۔‘‘ *’’جو امانت میں خیانت کرے اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو وعدہ پورا نہ کرے اس کا کوئی دِین نہیں۔‘‘جنت کی ضمانت:حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں:(1)جب بات کروتو سچ بولو(2)جب وعدہ کروتو اسے پورا کرو (3) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائےتو اسے ادا کرو(4)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو(5)اپنی نگاہیں نیچی رکھو (6) اپنے ہاتھوں کے ذریعےکسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔“مدنی گلدستہ’’ سچائی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) انسان کے اعمال کا تعلق تین چیزوں سے ہے:قول،فعل اور نیت۔جھوٹ بولنا قول کی خرابی، امانت میں خیانت کرنا فعل کی خرابی اور وعدہ خلافی کرنا نیت کی خرابی ہے۔
(2) جو مسلمان وعدہ خلافی، جھوٹ یاخیانت کا مرتکب ہوتو وہ منافق عملی ہے ۔
(3) وعدہ کرتے وقت نیت میں فریب نہ تھا پھربعد میں کسی مجبوری سے وہ کام نہ کر سکا تو یہ وعدہ خلافی نہیں بلکہ وعدہ خلافی تو یہ ہے کہ وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا کرنے کی نیت نہ ہو ۔
(4) دل میں کفر ہونا،خودکو مسلمان ظاہر کرنانفاقِ شرعی ہےجبکہ باطن کاظاہر کے خلاف ہونا نفاقِ عرفی ہے ۔
(5) جو امانت میں خیانت کرے اور وعدہ خلافی کرےاس کا کوئی دِین و ایمان نہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں نفاق کی علامتوں سے بچائے اور وعدے کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 689