Main Icon

باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 689

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اٰ يَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ: اِذَاحَدَّثَ كَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَ اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ. زَادَ فِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِم:وَ اِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ اَنَّهُ مُسْلِمٌ .

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:ا ية المنافق ثلاث: اذاحدث كذب و اذا وعد اخلف و اذا اؤتمن خان. زاد في رواية لمسلم:و ان صام وصلى وزعم انه مسلم .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:” منافق کی تین نشانیاں ہیں:(1)جب بات کرے توجھوٹ بولے(2) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کر ےاور(3)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے توخیانت کرے۔مسلم کی ایک روایت میں یہ زائد ہے کہ” اگرچہ وہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور خود کو مسلمان جانے ۔“

شرح حدیث

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں منافق کی جوتین نشانیاں بیان کی گئی ہیں ہر مسلمان کو ان سے بچنا چاہیے۔کامل مسلمان نہ تو کبھی جھوٹ بولتا ہے ، نہ وعدہ خلافی کرتاہے، نہ ہی کسی کے مال میں خیانت کا مرتکب ہوتاہےبلکہ اس کا ہر کاماللّٰہ عَزَّوَجَلَّاوراس کے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےحکم کے مطابق ہوتا ہے اور وہ ہر اُس کام سے بچتاہے جومعصیت و نافرمانی پرمشتمل ہو ۔اَعما ل کاتعلق تین چیزوں سے ہے:عمدۃ القاری میں ہے:انسان کے اَعمال کا تعلق تین چیزوں سے ہے:قول، فعل اور نیت۔ چونکہ منافق کی یہ تینوں چیزیں ہی خراب ہوتی ہیں اس لئے یہاں منافقت کی یہ تین علامات بیان کی گئیں۔*قول کی خرابی یہ ہے کہ منافق بندہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔*فعل کی خرابی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتا ہے اور*نیت کی خرابی یہ ہے کہ وعدہ خلافی کرتاہے۔ خیال رہے کہ وعدہ خلافی اسی وقت مذموم ہے جب وعدہ کرتے ہوئے ہی اسے پورا کرنے کی نیت نہ ہو ۔ اگر وعدہ کرتے وقت پورا کرنے کی نیت تھی مگربعد میں کسی مجبوری یا رکاوٹ کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرسکا تو یہ منافقت کی علامت نہیں۔منافقت سے کیا مراد ہے؟حدیثِ پاک میں مذکورہ صفات کومنافق کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔یہاں منافقت سے کیا مراد ہے؟ اس کی مختلف توجیہات بیان کی گئی ہیں:ارشادالساری میں ہے:(1)ان صفات کے حامل شخص کویہاں مجازاً منافق کہا گیا ہے حقیقتاً نہیں۔(2)یہاں نفاقِ عملی مراد ہے نہ کہ نفاقِ اعتقادی۔(3) یہاں وہ شخص مراد ہے جواِن صفات کا عادی ہو۔(4)جس میں یہ خصلتیں غالب ہوں اور وہ ان کےحکم کو ہلکا جانے تو ایسا شخص بدعقیدہ اورمنافق ہے۔(5) حدیثِ پاک کامقصودلوگوں کوان صفات سے ڈرانااوردور رکھناہے۔(6)یہ حدیث زمانہ نبوی کے کسی خاص منافق کے بارے میں ہے لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی عادتِ کریمہ کے مطابق اس کی تعیین نہ کی کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کا عیب صاف لفظوں میں بیان نہ فرماتے بلکہ اشارۃً گفتگو فرماتے۔(7)یہاں زمانہ ٔنبوی کےمنافقین مراد ہیں۔(کیونکہ وہ ان صفاتِ مذمومہ کے حامل تھے۔)خیال رہے کہ اگر کسی مسلمان میں یہ خصلتیں پائی جائیں تو وہ منافق نہ ہو گابلکہ اس میں منافقت کی خصلتیں ہونگیںنِفاق کی اقسام:فقیہِ اعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نفاق کی دو قسمیں ہیں:ایکنِفاق فِی الْاِعتِقادکہ جو زبان سے اپنے کو مسلمان کہے اور دل میں کفر رکھے۔ دوسرےنِفاق فی الْعَمَلاس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کام کرے جو مسلمانوں کے شایانِ شان نہ ہومنافقین کے کرتوت ہوں جیسے یہ تینوں عیوب۔(تو)جو مسلمان اِن کا مرتکب ہو وہ نفاق فی العمل کا مرتکب ہے۔‘‘
دلیل الفالحین میں ہے :نفاق کی دو قسمیں ہیں:(1)نفاق شرعی یعنی باطن میں کفر اور ظاہر میں ایمان (2)نفاقِ عرفی یعنی باطن ظاہر کے خلاف ہواور یہاں یہی دوسری قسم مراد ہے۔( )مرآۃ المناجیح میں ہے: (حدیث مذکور میں )منافق سے اِعتقادی منافق مرادہیں،یعنی دل کے کافر زبان کے مسلم۔یہ عیوب ان کی علامتیں ہیں مگرعلامت کے ساتھ علامت والا پایا جانا ضروری نہیں۔کوّے کی علامت سیاہی ہے مگر ہر کالی چیزکوّا نہیں۔یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں۔مسلمان کوا س سے بچنا چاہیے،یہ نہیں کہ یہ جرم خود نفاق ہیں۔
وعدہ خلافی سے کیا مراد ہے؟فتاویٰ رضویہ میں ہے :”جوشخص کسی سے ایک امر کاوعدہ کرے اور اس وقت اس کی نیت میں فریب نہ ہو بعد کو اس میں کوئی حرج ظاہرہو اور اس وجہ سے اس امر کو ترک کرے تو اس پربھی خلافِ وعدہ کاالزام نہیں۔حضورپرنور سیدعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں:یہ بدعہدی نہیں کہ آدمی (کسی شخص سے) وعدہ کرے اورنیت اسے پورا کرنے کی ہو اور پورا نہ کرسکے، بلکہ بدعہدی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اسے پوراکرنے کاسرے سے ارادہ ہی نہ ہو۔‘‘وعدہ خلافی وعہدشکنی کی وعیدیں:دوفرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: *”بیشک عہد شکنی کرنے والے کے لیے کل بروزِ قیامتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّایک جھنڈا نصب فرمائے گا اور کہا جائے گا:سن لو یہ فلاں شخص کی عہدشکنی ہے۔‘‘ *’’جو امانت میں خیانت کرے اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو وعدہ پورا نہ کرے اس کا کوئی دِین نہیں۔‘‘جنت کی ضمانت:حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں:(1)جب بات کروتو سچ بولو(2)جب وعدہ کروتو اسے پورا کرو (3) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائےتو اسے ادا کرو(4)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو(5)اپنی نگاہیں نیچی رکھو (6) اپنے ہاتھوں کے ذریعےکسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔“مدنی گلدستہ’’ سچائی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) انسان کے اعمال کا تعلق تین چیزوں سے ہے:قول،فعل اور نیت۔جھوٹ بولنا قول کی خرابی، امانت میں خیانت کرنا فعل کی خرابی اور وعدہ خلافی کرنا نیت کی خرابی ہے۔
(2) جو مسلمان وعدہ خلافی، جھوٹ یاخیانت کا مرتکب ہوتو وہ منافق عملی ہے ۔
(3) وعدہ کرتے وقت نیت میں فریب نہ تھا پھربعد میں کسی مجبوری سے وہ کام نہ کر سکا تو یہ وعدہ خلافی نہیں بلکہ وعدہ خلافی تو یہ ہے کہ وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا کرنے کی نیت نہ ہو ۔
(4) دل میں کفر ہونا،خودکو مسلمان ظاہر کرنانفاقِ شرعی ہےجبکہ باطن کاظاہر کے خلاف ہونا نفاقِ عرفی ہے ۔
(5) جو امانت میں خیانت کرے اور وعدہ خلافی کرےاس کا کوئی دِین و ایمان نہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں نفاق کی علامتوں سے بچائے اور وعدے کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 689