Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1082

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَلَا تَصُفُّوْنَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ فَقُلْنَا يَارَسُوْلَ اللهِ! وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: یُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْاُوَلَ وَيَتَرَاصُّوْنَ فِي الصَّفِّ.

عن جابر بن سمرة رضی اللہ عنہما قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: الا تصفون كما تصف الملائكة عند ربها؟ فقلنا يارسول الله! وكيف تصف الملائكة عند ربها؟ قال: یتمون الصفوف الاول ويتراصون في الصف.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابر بن سَمُرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم اِس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کےحضور صفیں بناتے ہیں؟“ ہم نے عرض کی:”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرشتے اپنے ربّ کے حضور کس طرح صفیں بناتے ہیں؟“ارشاد فرمایا: ”وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔“

شرح حدیث

پہلے اگلی صفیں پوری کرو:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حدیث مذکور میں پہلے اگلی صفوں کو پورا کرنے اور صفوں کو سیدھا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگلی صفوں کو پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک پہلی صف پوری نہ ہوجائے دوسری صف نہ بنائی جائے اور جب تک دوسری صف پوری نہ ہو تیسری شروع نہ کریں، جب تک تیسری صف پوری نہ ہو جائے چوتھی شروع نہ کریں اسی طرح آخر تک تمام صفوں میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے۔“فرمایا:’’فرشتوں کی طرح صفیں بنایا کرو۔‘‘مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی مسجد میں صفیں بنا کر بیٹھا کرو تاکہ تم فرشتوں کے مشابہ ہوجاؤ۔ خیال رہے کہ ملائکہ مُقَرِّبین تو ہمیشہ سے صفیں باندھے رب کی عبادتیں کررہے ہیں اور مُدَبِّراتِ اَمر (یعنی وہ فرشتے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے نظامِ عالَم کی تدبیر کرتے ہیں وہ) اپنی ڈیوٹیوں سے فارغ ہو کر صفیں بناکر عبادتیں کرتے ہیں،بعض زمین پر، بعض آسمان پر، بعض عرشِ اعظم کے پاس۔“صف بندی کے فوائد:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”اِس حدیثِ پاک میں فرشتوں کی صفوں جیسی صفیں بنانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ صفوں کی صورت میں جماعت قائم کرنے میں حُسن و جمال ہے اور اس طرح ہرشخص آسانی سے نماز کے ارکان ادا کرسکے گا ، کسی پر تنگی نہ ہوگی، جماعت میں زیادہ لوگ شامل ہوسکیں گے اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہونے سے بچیں گے جبکہ بغیر صفوں کے بے ترتیب نماز پڑھنے میں یہ فوائد حاصل نہ ہوسکیں گے ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1082