Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1096

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسِّطُوا الْاِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ.

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وسطوا الامام وسدوا الخلل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”امام کو درمیان میں کھڑا کرو اور خالی جگہ پُر کرو۔“

شرح حدیث

اما م کے لئے ایک اہم سنت:(امام کو درمیان میں کھڑا کیا جائے۔)”اس طرح کہ ایک مقتدی امام کے پیچھے کھڑا ہو باقی داہنے بائیں برابرکسی جانب زیادہ نہ ہوں اگر کوئی شخص صف میں شامل ہوتے وقت دیکھے کہ دو طرفہ نمازی برابر ہیں تو یہ داہنی طرف کھڑا ہو کہ اتنی زیادتی معا ف ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”امام کو چاہیے درمیان میں کھڑا ہو تاکہ دونوں جانب نمازی برابررہیں اور سبھی کو امام کے قُرب سے حصہ ملے،جیساکہبیتُ اﷲشریف زمین کے درمیان میں ہے تاکہ زمین کاہر قطعہ اپنے اپنے حصے کے مطابق برکت حاصل کرے۔“
امامِ اہلسنت،اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :”زمانۂ رسالت سے اب تک امام کے لیے یہ سنتِ مُتوارثہ ہے کہ وہ مسجد کے درمیان میں کھڑا ہو یعنی صف پوری ہو تو امام وسطِ صف میں ہو اور محراب بنانے کی بھی یہی جگہ ہے اگر غلطی سے محراب درمیان میں نہ بنائی گئی ہو تو پھر صف بنانے میں محراب کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا بلکہ امام کا درمیان میں کھڑا ہونا ضروری ہوگا کیونکہ اس میں سنت کی اتباع ہے اور کراہیت سے بچنا ہے نیز محرابیں مسجد کے درمیان میں اسی لیے بنائی گئی ہیں کہ وہ امام کےکھڑے ہونے کی جگہ کا تَعَیُّن کر رہی ہیں، اگر امام صف کی دونوں جانبوں میں سے کسی ایک طرف کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’ حَرَمَین طیِّبَیْن ‘‘کے10حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) صف ميں جگہ ہوتے ہوئے صف کے پیچھے کھڑا ہونا ممنوع ہے نیز پہلی صف میں جگہ باقی ہو تو پچھلی صف چیر کر پہلی صف کی خالی جگہ کو پُر کریں لیکن یہ عمل وہاں کریں جہاں فتنہ و فساد کا احتمال نہ ہو جس جگہ فتنہ کا اندیشہ ہو وہاں صف چیر کر اگلی صف میں جانے سے گریز کریں۔
(2) صفیں قریب قریب بنانی چاہئیں، دو صفوں کے درمیان صرف سجدہ کا فاصلہ رکھیں، ہاں گرمی کی صورت میں تھوڑا زیادہ فاصلہ دینے میں بھی حرج نہیں ۔
(3) نماز میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان کا نام خِنْزَب ہے، یہ صف کی کشادگی میں بکری کے بچے کی شکل میں داخل ہو کر نمازیوں کو وسوسہ ڈالتا ہے۔
(4) جو صف سے بلاوجہ نکلے یا صف میں داخل ہو کربغیر کسی وجہ کےخالی جگہ چھوڑدے تو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت و ثواب سے دور کردیتا ہے
(5) امام کو مسجد کے درمیان میں کھڑا ہونا چاہیےتاکہ دونوں جانب صف برابررہے ۔
(6) صف میں نرمی سے کھڑا ہونا چاہیے اور جب کوئی صف سیدھی کرنے اور خلا پُر کرنے کے لیے پکڑ کر آگے یا پیچھے کرے تو ہوجانا چاہیے تا کہ نیک کام میں تعاون کرنے کی فضیلت مل جائے۔
(7) جوصف کی خالی جگہ پُر کرے
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس پر رحمت فرماتا ہے اور اس کا درجہ بلند فرماتا ہے۔
(8) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو صفوں میں حضور نبی رحمتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی داہنی جانب کھڑا ہونا محبوب تھا تاکہ سلام پھیرتے چہرۂ انور پہلے انہیں کی جانب ہو۔
(9) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا عذابِ نار سے نجات کی دعا کرنا تعلیمِ اُمَّت کے لیے تھا ورنہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی ذاتِ اقدس تو اُمَّت کے لاکھوں کروڑوں گناہ گاروں کی نجات کا ذریعہ ہے۔
(10) صف کی بائیں جانب خالی ہو تو پھر بائیں طرف کھڑے ہونا دائیں طرف کھڑے ہونے سے افضل ہے تاکہ صف کی دونوں طرفیں برابر ہو جائیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صفوں کے درمیان خالی جگہ پُرکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1096