Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1094

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَة رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوْفِ.

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الله وملائكته يصلون على ميامن الصفوف.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”بےشکاﷲتعالیٰ اوراس کے فرشتے صف کے دائیں جانب والوں پر درود بھیجتے ہیں۔“

شرح حدیث

صفوں پر رحمتِ الٰہی کی ترتیب:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”پہلی صف والوں پر عمومی رحمت نازل ہوتی ہے اور داہنی صف والوں پر خصوصی رحمت، پھر صفِ اَوَّل کے داہنے والوں پر اور زیادہ خاص رحمت ہے، ربّ کی رحمتیں لاکھوں قسم کی ہیں، خیال رہے کہ داہنی صف پر رحمت اُس وقت آئے گی جب بائیں طرف بھی نمازی برابر ہوں اگر سارے نمازی داہنی طرف ہی کھڑے ہوجائیں بائیں طرف کوئی نہ ہو یا تھوڑے ہوں تو یہ سیدھی طرف والے ناراضیِ الٰہی کے مستحق ہوں گے۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”رحمتِ الٰہی پہلے امام کے دائیں جانب والوں پر صف کے آخر تک نازل ہوتی ہے پھر بائیں جانب والوں پر صف کے آخر تک مگر جب صف کے بائیں جانب جگہ خالی ہو تو اب بائیں جانب کھڑا ہونا ہی افضل ہے تاکہ صف کی دونوں طرفیں برابر ہو جائیں۔“نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مَنْ عَمَّرَ مَیْسَرَۃَ الْمَسْجِدِ کُتِبَ لَہُ کِفْلَانِ مِنَ الْاَجْرِیعنی جو مسجد کی بائیں جانب کو آباد کرے اسے دُگنا اجر دیا جاتاہے۔“مسجدِ نبوی میں بائیں جانب کھڑے ہونا افضل ہے:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”علمائے کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامفرماتے ہیں کہ صفوں میں امام کی دائیں جانب کھڑے ہونے والے اگرچہ امام سے دور ہوں پھربھی امام کی بائیں جانب کھڑے ہونے والوں سے افضل ہیں اگرچہ امام سے قریب ہوں۔بعض علماءِ شافعیہرَحِمَہُمُ اﷲفرماتے ہیں: ”امام کی دائیں جانب کھڑے ہونے کی افضیلت مسجدِنبوی شریف کے علاوہ دیگرمساجد میں ہے جبکہ مسجدِ نبوی شریفعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ و السَّلاممیں امام کی بائیں جانب کھڑا ہونا ہی افضل ہے کیونکہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قبرِ منور اسی جانب ہے۔“اﷲتعالیٰ اس قائل کو اپنی رحمت ِخاصہ سے نوازے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1094