Main Icon

باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1147

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ:فِيْهِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِيْهِ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيْهِ اُخْرِجَ مِنْهَا.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة:فيه خلق ادم وفيه ادخل الجنة وفيه اخرج منها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے کہ اس میں حضرت سَیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامکی تخلیق ہوئی ،اسی دن جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن جنت سے باہر تشریف لائے۔ “

شرح حدیث

عظمت والا دن :شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے“اس فرمانِ عالی سے مرادیہ ہے کہ جمعہ وہ پہلا دن ہے جو ظہورِ آفتاب کے ساتھ ظاہرہوا یا یہ وہ پہلا دن ہے جس پر اہلِ زمانہ پر سورج طلوع ہوا ۔مروی ہے کہ حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامجمعہ کی صبح پیدا ہوئے،ظہر کے وقت جنت میں داخل ہوئے اور عصر کے وقت جنت سے نکلے۔واضح ہوکہ حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکےجمعہ کے دن پیدا ہونے اور پھر اسی دن جنت میں داخل ہونے میں تو جمعہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے مگر جمعہ کے دن جنت سے باہر آنےمیں جمعہ کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ آپ کا دنیا میں تشریف لانا انبیا واولیا کے وجود کا سبب بنا نیز آپ کا دنیا میں تشریف لانا لا تعداد حکمتوں اور برکتوں پر مشتمل ہے۔اسی طرح حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامجمعہ کے دن فوت ہوئے اور ربُّ العالمین کے جوارِ رحمت میں پہنچے۔اسی بناپر حضرت ابراہیمخَلِیْلُ اﷲ عَلَیْہِ السَّلَامنے خداتعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ(۸۱) ﴾(پ۱۹،الشعراء:۸۱) ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ مجھے وفات دے گاپھر مجھے زندہ کرے گا۔
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی پہلے بھی بڑے بڑے واقعات اس دن میں ہی ہوئے اور آئندہ نہایت اہم اورسنگین واقعہ وقوعِ قیامت کا اسی دن ہوگا، اس لیے یہ دن بڑی عظمت والا ہے۔خیال رہے کہ آدمعَلَیْہِ السَّلَامکا جنت میں جانابھی ﷲ کی رحمت تھی اور وہاں سے تشریف لانا بھی کیونکہ وہاں سیکھنے گئے تھے،یہاں سکھانے اور خلافت کرنے آئے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس دن میں دینی اہم واقعات ہوچکے ہوں وہ دن تاقیامت افضل ہوجاتا ہے اور اس دن میں خوشیاں منانا،عبادتیں کرنا بہتر ہوتا ہے،دیکھو ماہ ِرمضان و شبِ قدر اس لیے افضل ہیں کہ اِن میں قرآن شریف نازل ہوا۔مسلمان کاعقیدہ ہے کہ شبِ ولادت،شبِ معراج وغیرہ سب افضل راتیں ہیں۔ ان میں عبادات کرنا،خوشیاں منانا بہتر ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔تمام دنوں کا سردار:حضرت ابو لبابہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللّٰہتعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہاﷲتعالیٰ کے نزدیک عیدُالاضحیٰ اورعیدُ الفطر سے بڑا ہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں:∞(1)اﷲتعالیٰ نے اسی میں حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکو پیدا کیا۔(2) اسی میں انہیں زمین پر اُتارا۔(3) اسی میں انہیں وفات دی۔(4) اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرےاﷲتعالیٰ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔(5)اسی دن میں قیامت قائم ہوگی۔کوئی مُقَرَّب فرشتہ، آسمان و زمین ،ہوا ، پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔مدنی گلدستہ’’جمعہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جمعہ کے دن حضرت آدم
عَلَیْہِ السَّلَامکی تخلیق ہوئی ،اسی دن جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن جنت سے باہر تشریف لائے۔
(2) حضرت آدم
عَلَیْہِ السَّلَامکے جمعہ کے دن جنت سے دنیا پر تشریف لانے میں جمعہ کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ آپ کا دنیا میں تشریف لانا انبیا واولیا کے وجود کا سبب بنا نیز آپ کا دنیا میں تشریف لانا لا تعداد حکمتوں اور برکتوں پر مشتمل ہے۔
(3) حضرت آدم
عَلَیْہِ السَّلَامجنت میں سیکھنے گئے اور دنیا میں سکھانے اور خلافت کرنے آئے۔
(4) قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں جمعہ کے دن کثرت سے نیکیاں کرنے اور اس کے فضائل سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1147