Main Icon

باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1119

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيِّ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ اَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيْمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُؤْمِنِيْنَ.

عن علي بن ابي طالب رضي الله عنه قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل العصر اربع ركعات يفصل بينهن بالتسليم على الملائكة المقربين ومن تبعهم من المسلمين والمؤمنين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:” نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعصر سےپہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے جن کے درمیان مقرب فرشتوں اور ان کے اتباع کرنے والے مسلمانوں اور مؤمنوں پر سلام کے ذریعے فاصلہ کیا کرتے۔“

شرح حدیث

سلام سے کیا مرادہے؟مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ درمیان کے سلام سے نماز کا سلام ہی مراد ہے جس پر نماز(ختم) ہوتی ہے یا ان میں دو رکعتیں تحیۃ الوضو کی تھیں اور دو عصر کی یا چاروں عصر کی،بیان جواز کے لئے ان کے درمیان سلام پھیرا گیا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں سلام سے مرادالتّحیّاتہے کیونکہ اس میں سلام ہوتا ہے اس صورت میں یہ چاروں رکعتیں ایک سلام سے ہوں گی مگر پہلے معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1119