- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- حدیث نمبر 706
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَومِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَومِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليصل رحمه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا اَبُوہُرَیرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جو شخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور قِیامت پراِیمان رکھتا ہے وہ مہمان کی تعظیم کرے اور جوشخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاورقِیامت پراِیمان رکھتاہےوہ صِلَہ رَحْمِی کرےاورجوشخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور قِیامت پراِیمان رکھتا ہےوہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘
شرح حدیث
مہمان کی تعریف ومہمان نوازی کاحکم:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:ہمارا مہمان وہ ہے جو ہم سے مُلاقات کے لیے باہَر سے آئے خَواہ اُس سے ہماری واقِفِیَّت پہلے سے ہو یا نہ ہو۔ جو ہمارے اپنے ہی مَحلّہ یا اپنے شہر میں سے ہم سےملنے آئے دوچار مِنَٹ کے لیے وہ مُلاقاتی ہے،مہمان نہیں، اُس کی خاطِر تو کرو مگر اُس کی دعوت نہیں ہے اور جو ناواقِف شخص اپنے کام کے لیے ہمارے پاس آئے وہ مہمان نہیں جیسے حاکِم یا مُفْتِی کے پاس مُقَدَّمہ والے یا فَتویٰ والے آتے ہیں، یہ حاکِم کے مہمان نہیں۔( )اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: تمام مسلمانوں کا اِس پر اِجماع ہے کہ مہمان کی ضِیافت کرنا اِسلام میں ایک اَمْرِ مُؤکَّد ہے،اِمام شافِعی،اِمام مالِک،اِمام ابوحنیفہ اور جُمہورعُلَماءرَحِمَہُمُ اللّٰہکے نزدیک مہمان کی ضِیافت کرنا سُنَّت (مُؤکَّدَہ) ہے،واجب نہیں ہے۔مہمان کا اِکرام کیسے ہو؟مرآۃ المناجیح میں ہے:مہمان کا اِحْتِرام یہ ہے کہ اُس سے خَنْدہ پَیشانی سے ملے،اُس کے لیے کھانے اور دوسری خِدمات کا اِنْتِظام کرے حَتَّی الْاِمْکان اپنے ہاتھ سے اُس کی خِدمت کرے،بعض حضرات خود مہمان کے آگے دسترخوان بِچھاتے، اُس کے ہاتھ دُھلاتے ہیں ،یہ اِسی حدیث پرعمل ہے،بعض لوگ مہمان کے لیے بَقَدْرِ طاقت اچھا کھانا پکاتے ہیں، وہ بھی اِس عمل پَرہے جسے کہتے ہیں مہمان کی خاطِر تواضُع۔ اِس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ جو مہمان کی خِدمت نہ کرے وہ کافِر ہے ۔مطلب یہ ہے کہ مہمان کی خاطِر تقاضا اِیمان کا ہے جیسے باپ اپنے بیٹے سے کہے کہ اگر تُو میرا بیٹا ہے تو میری خِدمت کر،مہمان کی خاطِر مومِن کی علامت ہے۔حدیث نمبر:707 پہلے دن مہمان کی خُوب خاطِر تواضُع
∞عَنْ اَبِيْ شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْروالْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَاليَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالُوْا:وَمَاجَائِزَتُهُ يَارَسُوْلَ اللهِ؟قَالَ: يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ اَيَّامٍ فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ يُقِيمَ عِنْدَ اَخِيْهِ حَتّٰى يُؤْثِمَهُ قَالُوْا:يَارَسُوْلَ الله!وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ؟قَالَ:يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيْهِ بِہٖ.ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا ابوشُرَیْح خُوَیْلِد بِن عَمْرو خُزاعیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں: میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سُنا کہ جوشخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور قِیامت کے دن پراِیمان رکھتا ہےاسے چاہیے کہ وہ دستور کے مطابق اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے۔عرض کی گئی:یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دستور کیاہے؟فرمایا:’’ایک دن اور ایک رات اور ضِیافت(مہمانی) تین دن ہےاورتین دن کے بعد صَدَقہ ہے۔‘‘اورمُسْلِم کی رِوایت میں ہے:کسی مسلمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کے یہاں اِتنا عرصہ ٹھہرے کہ اُسے گُناہ میں مبتلا کر دے۔صحابہ ٔکِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عَرْض کی:یارسولَ اللّٰہ!وہ اُس کو کیسے گُناہ میں مبتلا کرے گا؟اِرشاد فرمایا:’’وہ اُس شخص کے یہاں اِتنے وقت تک ٹھہرے کہ اُس کے پاس مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ رہے۔‘‘مہمان نوازی کی مُدّت:عَلَّامَہ خَطَّابِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:میزبان ایک دن رات مہمان کے لیے(کھانے پینے کی چیزوں میں) تکلُّف کرےاور اُس کے ساتھ زِیادہ نیکی کرےاور بعد کے دو دن میں(بِلا تکلُّف واِہْتِمام) اُس کے سامنے جو حاضِر ہو(یعنی گھر میں جو کھانا بنا ہو) پیش کردے اور جب تین دن گزرجائیں تو مہمان کا حق گزر گیا اور جب اِس سے زِیادہ اُس کی ضِیافت کرے گاتو وہ صَدَقہ ہوگی۔مرآۃ المناجیح میں ہے:پہلے دن مہمان کے لیے کھانے میں تکلُّف کر،پھردو دن درمیانہ کھانا پیش کر،تین دن کی بھی مہمانی ہوتی ہے، بعد میں صَدَقہ ہے۔تین دن سے زِیادہ ٹھہر نا:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:مہمان کے لیے کسی شخص کے پاس تین دن سے زِیادہ ٹھہرکر اُسے گُناہ میں مبتَلاکردیناجائزنہیں ہے کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے زِیادہ قِیام کی وجہ سے میزبان اُس کی غیبت کرنے لگتا ہے یا ایسے کام کرتا ہے جس سے مہمان کو اَذِیَّت پہنچتی ہےیا میزبان،مہمان کےمُتعلِّق بدگمانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔حالانکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکااِرشادہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ(پ۲۶، الحجرات :۱۲)ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بے شک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔
لیکن یہ اُس وَقت ہے جب خود میزبان مہمان سے زیادہ قِیام کے لیے نہ کہے اور جب میزبان خودمہمان سے زِیادہ قِیام کی خواہش کرےیامہمان کو( کسی قَوِی قرینے سے) اِس کا عِلم یا گُمان ہوکہ اس کا ٹھہرنامیزبان کو برا نہیں لگے گا تو تین دن سے زیادہ میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مُمانَعت اِس وجہ سے تھی کہ اُس کے زِیادہ قیام کی وجہ سے میزبان گناہ میں مبتلا ہو جائے گا اوریہ وجہ خَتْم ہوچکی ہےاور اگر مہمان کو شک ہو کہ پتا نہیں میزبان اِس کے زِیادہ قِیام پر خوش ہے یا نہیں؟تو اِس حدیث کے ظاہِر کی وجہ سے میزبان کی اِجازت کے بِغیراِس کا زِیادہ قِیام کرنا جائز نہیں ہے۔مہمان نوازی کی چند سنتیں اور آداب:*میزبان کو چاہیےکہ مُعَظَّم مہمان کا اِستقبال کرے۔*مُلاقاتی اورمہمان کی خاطِر تواضُع کرنا سُنَّت ہے،عُلَماء فرماتے ہیں کہ بِغیر کھائے پیئے مُردوں کی سی مُلاقات ہے۔*مہمان کے لیے پُر تکلُّف لذیذ کھانا تیّار کرنا سُنَّت ہے،حضرت ابراہیمخلیلُ اﷲ(عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)نے پَراٹھے شِیر مال اِیجاد کیےمہمانوں کے لیے۔*اگر میزبان سے بےتکلُّفی ہو تومہمان اپنے پسندیدہ کھانے کی فرمائِش کرسکتا ہے کہ وہ گویا اُس کا اپنا ہی گھر ہوتا ہے۔*مہمان کو وَداع کے وَقْت کچھ دُور پہنچانے جانا بھی سُنَّت ہے۔ *مُلاقاتی کو دروازے تک پہنچانے میں اُسکا اِحتِرام ہے،(اور)پڑوسیوں کا اطمینان کہ وہ جان لیں گے کہ اُن کا دوست عزیز آیا ہے کوئی اَجْنَبی نہ آیا تھا۔اِس میں اور بہت حکمتیں ہیں،آنے والے کی مَحَبَّت میں کبھی کھڑا ہوجانا بھی سُنَّت ہے۔*مہمان سے وقتاً فوقتاً کہے کہ اور کھاؤ مگر اِس پر اِصرار نہ کرے ،کہ کہیں اِصرار کی وجہ سے زِیادہ نہ کھا جائے اور یہ اُ س کے لیے مُضِرّ ہو۔* میزبان کو بِالکل خاموش نہ رہنا چاہیے اور یہ بھی نہ کرنا چاہیے کہ کھانا رکھ کر غائِب ہوجائے، بلکہ وہاں حاضِر رہے اور مہمانوں کے سامنے خادِم وغیرہ پر ناراض نہ ہو اور اگر صاحِبِ وُسْعَت ہو تو مہمان کی وجہ سے گھر والوں پر کھانے میں کمی نہ کرے۔*میزبان کو چاہیے کہ مہمان کی خاطِرداری میں خُود مشغول ہو، خادِموں کے ذِمّہ اُس کو نہ چھوڑے کہ یہ حضرت اِبراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْمکی سُنَّت ہے۔*اگر مہمان تھوڑے ہوں تو میزبان اُن کے ساتھ کھانے پر بیٹھ جائے کہ یہی تقاضائے مُرَوَّت ہے اور بہت سے مہمان ہوں تو اُن کے ساتھ نہ بیٹھے بلکہ اُن کی خِدمت اور کِھلانے میں مشغول ہو۔ *مہمانوں کے ساتھ ایسے کو نہ بِٹھائے جس کا بیٹھنا اُن پر گِراں ہو۔مہمان کے لیےآداب:صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’مہمان کو چار باتیں ضَروری ہیں:(1)جہاں بِٹھایا جائے وہیں بیٹھے۔(2) جو کچھ اُس کے سامنے پیش کیا جائے اُس پر خوش ہو،یہ نہ ہو کہ کہنے لگے: اِس سے اچھا تو میں اپنے ہی گھر کھایا کرتا ہوں یا اِسی قِسْم کے دُوسرے اَلفاظ جیسا کہ آج کل اکثر دعوتوں میں لوگ آپَس میں کہا کرتے ہیں۔(3) بِغیر اِجازتِ صاحِبِ خانہ وہاں سے نہ اُٹھے۔(4)اور جب وہاں سے جائے تو اُس کے لیے دُعا کرے۔مدنی گلدستہ’’ضیافت سنت ہے ‘‘کے10حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) مہمان کی عزت و اِحتِرام اور اِس کی خاطِر تواضُع کرنا اَنبیا ئےکِرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکی سُنَّت ہے۔
(2) اسلام میں مہمانوں کی مہمان نوازی کاحکم دیا گیاہے۔
(3) مہمان آتا ہے تو اپنا رِزْق بھی اپنے ساتھ لاتا ہے۔
(4) حضرت اِبراہیمعَلَیْہِ السَّلَامبہت ہی مہمان نواز تھے، بِغیر مہمان کے کھانا تَناوُل نہ فرماتے ۔
(5) مہمان وہ ہے جو مُلاقات کے لیے باہَر سے آئے خَواہ اُس سے ہماری جان پہچان پہلے سے ہو یا نہ ہو۔
(6) مہمان کا اکرام یہ ہے کہ اُس سے خَنْدہ پَیشانی سے ملے،اُس کیلئےکھانے وغیرہ کا اہتمام کرے۔
(7) ایک دن رات مہمان کیلئے کھانے میں تکلُّف اُس کے ساتھ زِیادہ نیکی کرےاور بعد کے دو دن میں بِلا تکلُّف اُس کے سامنے جو کھانا حاضِر ہو پیش کردے ۔
(8) مہمان کو چاہیے کہ وہ میزبان کے پاس تین دن سے زِیادہ نہ ٹھہرے ۔
(9) میزبان کی خواہش پرتین دن سے زِیادہ ٹھہرنے میں حرج نہیں۔
(10) مہمان کورخصت کرتے وَقت کچھ دُور پہنچانے جانا سُنَّت ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اخلاص کے ساتھ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 706