Main Icon

باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 982

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيْـمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ:اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتّٰى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذٰلِكَ.

عن خولة بنت حكيـم رضي الله عنهاقالت:سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول:من نزل منزلا ثم قال:اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدتنا خَو لہ بنتِ حکیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”مسافرجب کہیں ٹھہرے اور یہ دعا پڑھ لے تو جب تک وہاں رہے گا اسےکوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔(دعا یہ ہے :)اَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَیعنی میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کلمات ِ تامّہ کے ساتھ اس کی مخلوق کے شرسےپناہ چاہتا ہوں ۔‘‘

شرح حدیث

سفر میں مُوذی جانور اور حشراتُ الارض وغیرہ سے حفاظت:اس حدیث میں دورانِ سفردعاکے ذریعے مُوذی جانوروں،حشراتُ الْارض اوردیگر نقصان دینے والی اَشیاء سے بچنےکی ترغیب دلائی گئی ہے اور یہ فائدہ بھی بتایا گیا کہ اس دعاکی برکت سے مسافر کاجان ومال محفوظ رہتا ہے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: جو بھی مسلمان حضورِقلب اور پوری توجہ کے ساتھ یہ دعا پڑھے گا اسے مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی۔اِس کےلئےمُسْتَجَابُ الدَّعْوَاتہونا شرط نہیں ۔دَلِیْلُ الْفَالِحِیْنمیں ہے:”اس دعا کی برکت سے جہاں باطنی نقصان دہ چیزوں جیسے نفس و بُری خواہشات وغیرہ سے حفاظت رہتی ہے وہیں ظاہری نقصان دہ چیزوں جیسے شیاطین اورمُوذی جانوروں سے بھی حفاظت رہتی ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ الْبَاقِیْ زُرْقَانِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جوکسی ایسی جگہ ٹھہرےجہاں مُوذی جانوروں،درندوں یاحشراتُ الارض سے نقصان کا خوف ہو تو وہاں یہ دعاپڑھنا مستحب ہے۔ اس دعا کا اثر اسی وقت ظاہر ہو گا جب دِلجمعی اور اِس یقین سے پڑھی جا ئے کہ اس دعا کااثرضرور ظاہر ہوگا کیونکہ یہ اُس نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالی ہے جو صادق ومصدوق ہیں۔اگریہ دعا پڑھنے کے بعدبھی کسی کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ پڑھنے والے کی عدمِ توجہ اوریقین میں کمی کانتیجہ ہے۔ مذکورہ دعاسفرہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کہیں بھی بیٹھتے، سوتے،ٹھہرتے وقت،سفر یا جہاد پر روانہ ہوتے وقت پڑھی جاسکتی ہے کہ ہرجگہ فائدہ مند ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:زمانہ ٔجاہلیت میں لوگ دورانِ سفرکہیں پڑاؤ کرتے توجِنّوں کی پناہ لیتے ہوئے یوں کہا کرتے:”ہم اس وادی کے سب سے بڑے جن کی پناہ چاہتے ہیں۔“قرآنِ پاک میں ہے:
﴿وَ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ(۶)﴾(پ۲۹،الجن:۶)(ترجمہ ٔکنز الایمان: اوریہ کہ آدمیوں میں کچھ مرد جنّوں کے کچھ مَردوں کی پناہ لیتے تھے تو اس سے اوربھی ان کا تکبر بڑھا۔)حدیثِ مذکورمیں کسی جگہ پڑاؤ کرنے میں مذکورہ کلمات کہنے میں زمانہ ٔجاہلیت کی باطل رسم کا ردّہےاورحقیقتِ توحید کی طرف اشارہ بھی ہے کہ انسان بذاتِ خود نہ تو اپنے کسی نفع ونقصان کا مالک ہے، نہ موت وحیات کا، نہ مرنےکے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا بلکہ ان سب چیزوں کا مالک ومختارصرفاللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدکلماتِ تامَّہ سے کیا مراد ہے؟حدیث میں کلماتِ تامہ کا بیان ہے۔ان کلمات سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں”مرقاۃ المفاتیح“میں ہے:ان کلمات سے مراد یا قرآن کریم ہے یا ساری آسمانی کُتب یااسمائے الٰہیہ یا ربّ کا کلامِ نفسی یا اس کا علم یااس کے فیصلے۔تام سے مراد ہے نقصان و عیب سے پاک۔مرآۃ المناجیح میں ہے:صوفیا فرماتے ہیں:کَلِمَاتُ اﷲحضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں کیونکہ اُن کی ہر بات وحی الٰہی ہے۔عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَام کَلِمَۃُ اﷲہیں۔موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکَلِیْمُ اﷲہیں اور ہمارے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکَلِمَاتُ اﷲ۔مخلوق کے شر سے پناہ :حدیثِ مذکور میں مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(یہاں )مخلوق سے وہ مخلوق مراد ہے جس سے شر ہوسکے۔اس میں اپنا نفس بھی داخل ہے اور چیزیں بھی۔کفارِ عرب سفر کی منزلوں میں اُترتے وقت کہتے تھے کہ ہم اس جنگل کے سردار کی پناہ لیتے ہیں یعنی جِنّات کی،کے محبوب (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے تو ہم کو اس کے عوض یہ دعا سکھائی۔یہ دعا سفروحضر میں ہمیشہ ہی صبح شام پڑھا کریں،زہریلی چیزوں سےمحفوظ رہو گے، بہت مُجَرَّب ہے۔مدنی گلدستہ’’بغداد ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اَورادووظائف سےفائدہ حاصل کرنے کے لئے انہیں دل کی حاضری اور یقینِ کامل کے ساتھ پڑھنا شرط ہے ۔
(2) اورادووظائف پڑھنے کے بعد ان کا اثر ظاہر نہ ہونا یقین وتوجہ میں کمی کا نتیجہ ہوتا ہے ۔
(3) جس طرح دشمنوں سے بچنے کے لئےظاہری تدابیر اختیار کی جاتی ہیں اسی طرح دعاؤں اور وظائف کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
(4) کفارِ عرب سفر کی منزلوں میں اُترتے وقت جِنّات کی پناہ لیا کرتے تھے ۔حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس رَسمِ باطِل کارد کرتے ہوئےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ لینے کاحکم دیا کہ اسی کی پناہ سب سے مضبوط و مفید ہے اور اس کے حکم کے بغیر کسی کو پناہ دینے کی طاقت نہیں ۔
(5) انسان بذاتِ خود نہ تو اپنے نفع ونقصان کا مالک ہے، نہ ہی موت وحیات کا ، نہ مرنےکے بعد جی اٹھنے کا،یہ سب چیزیں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم سے ہوتی ہیں وہی حقیقی مالک ومختار ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمخلوق کے شر سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں مخلوق کے شر سے بچنے کی مسنون دعائیں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 982