باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 982
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيْـمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ:اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتّٰى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذٰلِكَ.
عن خولة بنت حكيـم رضي الله عنهاقالت:سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول:من نزل منزلا ثم قال:اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدتنا خَو لہ بنتِ حکیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”مسافرجب کہیں ٹھہرے اور یہ دعا پڑھ لے تو جب تک وہاں رہے گا اسےکوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔(دعا یہ ہے :)اَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَیعنی میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کلمات ِ تامّہ کے ساتھ اس کی مخلوق کے شرسےپناہ چاہتا ہوں ۔‘‘
شرح حدیث
سفر میں مُوذی جانور اور حشراتُ الارض وغیرہ سے حفاظت:اس حدیث میں دورانِ سفردعاکے ذریعے مُوذی جانوروں،حشراتُ الْارض اوردیگر نقصان دینے والی اَشیاء سے بچنےکی ترغیب دلائی گئی ہے اور یہ فائدہ بھی بتایا گیا کہ اس دعاکی برکت سے مسافر کاجان ومال محفوظ رہتا ہے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: جو بھی مسلمان حضورِقلب اور پوری توجہ کے ساتھ یہ دعا پڑھے گا اسے مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی۔اِس کےلئےمُسْتَجَابُ الدَّعْوَاتہونا شرط نہیں ۔دَلِیْلُ الْفَالِحِیْنمیں ہے:”اس دعا کی برکت سے جہاں باطنی نقصان دہ چیزوں جیسے نفس و بُری خواہشات وغیرہ سے حفاظت رہتی ہے وہیں ظاہری نقصان دہ چیزوں جیسے شیاطین اورمُوذی جانوروں سے بھی حفاظت رہتی ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ الْبَاقِیْ زُرْقَانِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جوکسی ایسی جگہ ٹھہرےجہاں مُوذی جانوروں،درندوں یاحشراتُ الارض سے نقصان کا خوف ہو تو وہاں یہ دعاپڑھنا مستحب ہے۔ اس دعا کا اثر اسی وقت ظاہر ہو گا جب دِلجمعی اور اِس یقین سے پڑھی جا ئے کہ اس دعا کااثرضرور ظاہر ہوگا کیونکہ یہ اُس نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالی ہے جو صادق ومصدوق ہیں۔اگریہ دعا پڑھنے کے بعدبھی کسی کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ پڑھنے والے کی عدمِ توجہ اوریقین میں کمی کانتیجہ ہے۔ مذکورہ دعاسفرہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کہیں بھی بیٹھتے، سوتے،ٹھہرتے وقت،سفر یا جہاد پر روانہ ہوتے وقت پڑھی جاسکتی ہے کہ ہرجگہ فائدہ مند ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:زمانہ ٔجاہلیت میں لوگ دورانِ سفرکہیں پڑاؤ کرتے توجِنّوں کی پناہ لیتے ہوئے یوں کہا کرتے:”ہم اس وادی کے سب سے بڑے جن کی پناہ چاہتے ہیں۔“قرآنِ پاک میں ہے:﴿وَ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ(۶)﴾(پ۲۹،الجن:۶)(ترجمہ ٔکنز الایمان: اوریہ کہ آدمیوں میں کچھ مرد جنّوں کے کچھ مَردوں کی پناہ لیتے تھے تو اس سے اوربھی ان کا تکبر بڑھا۔)حدیثِ مذکورمیں کسی جگہ پڑاؤ کرنے میں مذکورہ کلمات کہنے میں زمانہ ٔجاہلیت کی باطل رسم کا ردّہےاورحقیقتِ توحید کی طرف اشارہ بھی ہے کہ انسان بذاتِ خود نہ تو اپنے کسی نفع ونقصان کا مالک ہے، نہ موت وحیات کا، نہ مرنےکے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا بلکہ ان سب چیزوں کا مالک ومختارصرفاللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدکلماتِ تامَّہ سے کیا مراد ہے؟حدیث میں کلماتِ تامہ کا بیان ہے۔ان کلمات سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں”مرقاۃ المفاتیح“میں ہے:ان کلمات سے مراد یا قرآن کریم ہے یا ساری آسمانی کُتب یااسمائے الٰہیہ یا ربّ کا کلامِ نفسی یا اس کا علم یااس کے فیصلے۔تام سے مراد ہے نقصان و عیب سے پاک۔مرآۃ المناجیح میں ہے:صوفیا فرماتے ہیں:کَلِمَاتُ اﷲحضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں کیونکہ اُن کی ہر بات وحی الٰہی ہے۔عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَام کَلِمَۃُ اﷲہیں۔موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکَلِیْمُ اﷲہیں اور ہمارے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکَلِمَاتُ اﷲ۔مخلوق کے شر سے پناہ :حدیثِ مذکور میں مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(یہاں )مخلوق سے وہ مخلوق مراد ہے جس سے شر ہوسکے۔اس میں اپنا نفس بھی داخل ہے اور چیزیں بھی۔کفارِ عرب سفر کی منزلوں میں اُترتے وقت کہتے تھے کہ ہم اس جنگل کے سردار کی پناہ لیتے ہیں یعنی جِنّات کی،ﷲکے محبوب (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے تو ہم کو اس کے عوض یہ دعا سکھائی۔یہ دعا سفروحضر میں ہمیشہ ہی صبح شام پڑھا کریں،زہریلی چیزوں سےمحفوظ رہو گے، بہت مُجَرَّب ہے۔مدنی گلدستہ’’بغداد ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اَورادووظائف سےفائدہ حاصل کرنے کے لئے انہیں دل کی حاضری اور یقینِ کامل کے ساتھ پڑھنا شرط ہے ۔
(2) اورادووظائف پڑھنے کے بعد ان کا اثر ظاہر نہ ہونا یقین وتوجہ میں کمی کا نتیجہ ہوتا ہے ۔
(3) جس طرح دشمنوں سے بچنے کے لئےظاہری تدابیر اختیار کی جاتی ہیں اسی طرح دعاؤں اور وظائف کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
(4) کفارِ عرب سفر کی منزلوں میں اُترتے وقت جِنّات کی پناہ لیا کرتے تھے ۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس رَسمِ باطِل کارد کرتے ہوئےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ لینے کاحکم دیا کہ اسی کی پناہ سب سے مضبوط و مفید ہے اور اس کے حکم کے بغیر کسی کو پناہ دینے کی طاقت نہیں ۔
(5) انسان بذاتِ خود نہ تو اپنے نفع ونقصان کا مالک ہے، نہ ہی موت وحیات کا ، نہ مرنےکے بعد جی اٹھنے کا،یہ سب چیزیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم سے ہوتی ہیں وہی حقیقی مالک ومختار ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمخلوق کے شر سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں مخلوق کے شر سے بچنے کی مسنون دعائیں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 982