Main Icon

باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 678

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ وَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اِسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيْفَةٍ اِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَاْمُرُهُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَاْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُوْمُ مَنْ عَصَمَ اللهُ.

عن ابي سعيد و ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہما ان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قال:ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة الا كانت له بطانتان بطانة تامره بالمعروف وتحضه عليه وبطانة تامره بالشر وتحضه عليه والمعصوم من عصم الله.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو سعید اورحضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی بھی نبی کونہ بھیجا اور نہ ہی کسی کو خلیفہ بنایا مگر یہ کہ اُس کے ساتھ دو مشیر مقرر کیے گئے۔ایک مشیر اسے اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے جبکہ دوسرا مشیر اسےبُرائی کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دلا تا ہے تو محفوظ وہی ہے جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمحفوظ رکھے ۔‘‘

شرح حدیث

اچھے اور بُرے مشیر سے مُراد:مرآۃ المناجیح میں ہے:یا تو خلیفہ سے مراد حضرات انبیاء کرام ہی ہیں یا اس سے مراد سلطان ہے۔ بطانہ لغت میں اَسْتَر کو کہتے ہیں۔اِصطلاح میں اندرونی یار،دخیل کار،مشیر خاص کو بطانہ کہا جاتا ہے کہ وہ استر کی طرح اس سے ملا رہتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اچھے اور بُرے مشیر قدرتی طور پر ہوتے ہیں۔بُرے مشیر سے ہم محض اپنی طاقت سے نہیں بچ سکتے،رب بچائے تو بچ سکتے ہیں۔علما فرماتے ہیں کہ اچھے مشیر سے مراد فرشتہ ہے اور بُرے مشیر سے مراد قرین شیطان۔خیال رہے کہاللّٰہتعالی نے اپنے محبوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر یہ فضل کیا کہ حضور کا قرین(ہمزاد)مسلمان ہوگیا جیساکہ ترمذی وغیرہ کی روایات میں ہے۔اِصطلاح شریعت میں معصوم صرف حضرات انبیاءکرام ہیں اور فرشتے۔ بعض اولیاء محفوظ ہیں۔معصوم وہ جو گناہ نہ کرسکے محفوظ وہ جو گناہ نہ کرے،یہاں معصوم لغوی معنیٰ میں ہے جو محفوظ کو بھی شامل ہے۔مشیرکی صفات:عَلَّامَہ حَافِظ اِبْنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیمذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:”حاکم کو چاہیے کہ وہ اپنے لئے ایک ایسا مشیر ( مشورہ دینے والا) کو مقرر کرے جو چھپ کر لوگوں کی خبریں معلوم کرکے اس تک پہنچائے ۔اس مشیر کا قابل اعتماد،سمجھ دار اورعقل مند ہونا ضروری ہے کیونکہ حاکم اسلام اس وقت مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے جب وہ حُسنِ ظن کرتے ہوئے غیر معتمد آدمی کا مشورہ قبول کرتا ہےلہٰذا حاکم پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے میں احتیاط برتے۔‘‘عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ جو بھی یہ حدیث پاک سنے اسےچاہیے کہ وہ اس حدیثِ پاک پر عمل کرلےاوریہ دعا مانگے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبُرے مشیر اور بُرے ساتھیوں سے اس کی حفاظت فرمائےاور اسے نیک مشیر اور نیک ساتھی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”تمہارے مشیر متقی ،امانت دار اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والے ہوں۔ “مزید فرماتے ہیں:”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ مشورہ نصف عقل ہے۔“حضرت سَیِّدُنا حسن بصریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے اس فرمان: (وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ-)(پ۴،آل عمران:۱۵۹)ترجمۂ کنزالایمان:’’اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں:”یہ بات معلوم ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو صحابہ کے مشورے کی حاجت نہیں تھی لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَاماس لیے مشورہ فرماتے کہ آپ کے بعد اس طریقے پرعمل کیا جائے۔“مدنی گلدستہ’’فرشتہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر ایک کے ساتھ دومشیر قدرتی طور پر ہوتے ہیں۔اچھا مشیر فرشتہ اور بُرا مشیر شیطان ہوتا ہے۔
(2) گناہوں سے معصوم صرف انبیاء کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَاماور فرشتے ہیں۔
(3) حاکم کو چاہیے کہ وہ اپنا ایسا مشیر مقرر کرے جو قابل اعتماد،سمجھ دار اور عقل مند ہو۔
(4) برے مشیرکے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔
(5) مشورہ کرنا نبی پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بُرے مشیر سے بچائے اور نیک مشیر کو نیکی کے کاموں میں ہمارا معاون بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 678