Main Icon

باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1206

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُنِيَ الْاِسْلَامُ عَلٰى خَمْسٍ: شَهَادَ ةِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ ،وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ،وَا ِيْتَآءِ الزَّ كٰوةِ،وَحَجِّ البَيْتِ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما:ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال: بني الاسلام على خمس: شهاد ة ان لا اله الا الله ،وان محمدا عبده ورسوله،و اقام الصلوة،وا يتاء الز كوة،وحج البيت،وصوم رمضان.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے،اس بات کی گواہی دینا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکےسوا کوئی معبودنہیں اورمحمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بندے اور اس کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا،بیتُ اﷲشریف کا حج کرنااوررمضان المبارک کے روزے رکھنا۔“

شرح حدیث

اِسلام کے پانچ ستون:مرآۃ المناجیح میں ہے:”اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جوکوئی ان میں سے ایک کاانکار کرے گاوہ اسلام سے خارج ہوگااوراس کا اسلام منہدم ہو جائےگا۔خیال رہے کہ ان اعمال پر کمالِ ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفسِ ایمان موقوف،لہٰذا جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز، روزہ کا پابند نہ ہو،وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں اور جو ان میں سےکسی کا انکارکرے وہ کافر ہے۔(توحید ورسالت کی گواہی) سےسارےعقائدِاِسلامیہ مرادہیں جوکسی عقیدے کامنکرہے وہ حضورکی رسالت ہی کا منکرہے۔حضور(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کورسول ماننے کے یہ معنیٰ ہیں کہ آپ کی ہر بات کو مانا جائے۔(تیسرا اورچوتھا رکن زکوۃ دینا اور حج کرنا)اگر مال ہو تو زکوٰۃ و حج ادا کرنا فرض ہے ورنہ نہیں مگر ان کا ماننا بہرحال لازم ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1206