Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1160

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْمُ مِنَ اللَّيْلِ حَتّٰى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاه ُ فَقُلْتُ لَهُ:لِمَ تَصْنَعُ هٰذَا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ! وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ؟ قَالَ:اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا.

عن عائشة رضي الله عنها قالت:كان النبي صلى الله عليه وسلم يقوم من الليل حتى تتفطر قدماه فقلت له:لم تصنع هذا يا رسول الله! وقد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر ؟ قال:افلا اكون عبدا شكورا.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ نبی پاک صاحبِ لولاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو اٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔میں عرض کرتی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےسبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گنا ہ معاف فرمادیئے ہیں۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے:’’ کیا میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟‘‘

شرح حدیث

شکرگزار بندہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو نماز تہجد ادا فرماتےاور نماز میں اس قدر طویل قیام فرماتے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک قدم سوج جاتے۔مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یعنی تہجد میں اتنا دراز قیام فرمایا کہ کھڑے کھڑے قدم پر ورم آگیا یہ حدیث شبینہ پڑھنے والوں اور ان صوفیاکی دلیل ہے جو تمام رات نماز پڑھتے ہیں جیسے حضور غوثِ پاک اور امامِ اعظم ابو حنیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْاَجْمَعِین،ان بزرگوں پر اعتراض نہ کرو۔(رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی: ’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟حالانکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گنا ہ معاف فرمادیئے ہیں ۔) یعنی یاحبیبَاﷲاتنا لمبا قیام ہم لوگ کریں تو مناسب ہے کہ ہم گنہگار ہیںاﷲتعالیٰ اس کی برکت سے ہمارے گناہ بخش دے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی برکت سے تو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اُمَّت کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے پھر اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟(آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے:’’ کیا میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟)یعنی میری یہ نماز مغفرت کے لیے نہیں بلکہ مغفرت کے شکریہ کے لیے ہے۔خیال رہے کہ ہم لوگعَبْدہیں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمعَبْدُہُہیں،ہم لوگ شاکر ہوسکتے ہیں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمشکور ہیں یعنی ہر طرح ہر وقت ہر قسم کااعلیٰ شکرکرنے والے مقبول بندے۔حضرت علی (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)فرماتے ہیں کہ جنت کی لالچ میں عبادت کرنے والےتاجر ہیں،دوزخ کے خوف سے عبادت کرنے والے عبد(غلام) ہیں مگر شکر کی عبادت کرنے والے اَحرار(یعنی آزاد) ہیں۔‘‘عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’حدیثِ پا ک میں اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَاکا حضورنبی مکرم،شفیعِ معظمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کرنا تعجب کے طور پر تھا کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامتو بخشے بخشائے ہیں تو پھر اتنی عبادت کس لیے؟ تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے جواباً ارشاد فرمایا :کیا میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟یعنیاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی مغفرت اور اس کے مجھ پر جو انعامات ہیں اُن کا شکر ادا نہ کروں؟‘‘نیزعلامہ ابنِ حجررَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہشرح شمائل میں حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ کیا میں اس وجہ سے عبادت میں مشقت کوچھوڑ دوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے میری مغفرت فرمادی ہے اور میں اس کا شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟اگرچہ اس نے میری بخشش فرمادی ہے لیکن میں نے کثرت عبادت کو خود پر اس لیے لازم کرلیا ہے تاکہ میں اس کا شکر گزار بندہ بن جاؤں۔‘‘نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے قول ”کیا میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“ کا ایک معنیٰ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’میرااﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا گناہوں کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کثیر انعامات کا شکر ادا کرنے کے لیےہےجواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے عطا فرمائے ہیں۔‘‘
نوٹ:مذکورہ حدیثِ پاک کی تفصیلی شرح کے لیے فیضان ریاض الصالحین جلددوم،باب نمبر11، حدیث نمبر98 اور اس کی شرح ملاحظہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’تہجد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو نمازمیں اس قدر طویل قیام فرماتے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک قدم سوج جاتے۔
(2) شکر ادا کرنے کےلئے عبادت کرنا آزاد لوگوں کا طریقہ ہے۔
(3) حضور اکرم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ساری رات ربّ کی عبادت کرنا انعاماتِ الٰہیہ کے شکر کے لئے تھا۔
(4) حضور
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُ الْمَعْصُومِین ہونے کے باوجود راتوں کو کثرت سے عبادت کی،ہم گناہگاروں کو تو زیادہ ضرورت ہے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی خوب عبادت کریں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لیے خوب خوب عبادت کرنے اور فرائض و سنن کے ساتھ ساتھ نوافل اور دیگر مستحبات بجالانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1160