Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1182

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ اَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَاَهُ فِيْمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَاَنَّما قَرَاَهُ مِنَ اللَّيْلِ.

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من نام عن حزبه او عن شيء منه فقراه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كانما قراه من الليل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ سو جانے کی وجہ سے رہ جائے اور وہ فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو اس کے لئے وہ ہی ثواب لکھا جاتا ہے جو رات میں پڑھنے کا ثواب ہے۔‘‘

شرح حدیث

فضلِ خدا وندی :اِمَام قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَہَّابفرماتے ہیں:یہ محض فضلِ خداوندی ہےکہ وہ اسے پورا ثواب عطا فرماتا ہے ۔یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رات کے نوافل ووظائف دن کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ رات کے وقت نیند کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔ حضرت سَیِّدُنَا امام مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْخَالِقاپنی کتاب”مُوطا“میں حدیث ذکر کرتے ہیں کہ” جو شخص رات میں نماز پڑھنے کا عادی ہو پھراس پر نیند کا غلبہ ہو اور وہ اپنی رات کی نماز پڑھے بغیر سو جائےتو اس کے لئے اس کی نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اس کی نیند اس کے لئے صدقہ ہے۔“یہاﷲتعالیٰ کا کمال درجے کا فضل ہے اور بندے کی نیت کا صلہ ہے اوریہ فضیلت اس کے لئے ہے جس کی رات میں عبادت کرنے کی عادت ہو۔ حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے پورا ثواب ملے گا جیسا کہ نماز پڑھنے پر ملتا ہےکیونکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے(اس پر نیند غالب فرماکر) اسے اس فعل سے روکا ہے۔دن اوررات ایک دوسرےکےخلیفہ ہیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : بعض علماء نے فرمایا کہ اگر تہجد رہ گئی ہو تو دوپہر سے پہلے اُتنے نفل پڑھ لے تواِنْ شَآءَ اﷲتہجد کا ثواب مل جائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کا خلیفہ دن ہے۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً(پ۱۹، الفرقان:۶۲)(ترجمۂ کنزالایمان:جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی۔) لہٰذا رات کے اعمال دن میں ہوسکتے ہیں۔نیزدن کے اول حصہ پر رات کے بعض احکام جاری ہیں اسی لیے نفل اور رمضان کے روزے کی نیت ضحوۂ کبریٰ سے پہلے ہوسکتی ہے گویا اس نے رات سے ہی نیت کی اسی طرح اگر دن کا وظیفہ رہ جائے تو رات میں ادا کرلے کیونکہ دن کا خلیفہ رات ہے۔مدنی گلدستہ’’تہجد‘‘کے4حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) جو نمازِ تہجد کے لئے اٹھے تو نیند کے اثر کو زائل کرنے اور کامل توجہ پیدا کرنے کے لئے پہلے دو رکعت تحیۃ الوضو ادا کرے پھر تہجد کی نماز پڑھے۔
(2)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاپنےبندوں کوان کےعمل سے زیادہ اَجر عطافرماتاہے۔
(3) ممکن ہوتورات کےوقت عبادت کی کثرت کرنی چاہیے کیونکہ رات کی عبادت دن کے مقابلے میں زیادہ فضیلت والی ہے۔
(4) پابندی سےتہجدپڑھنےوالا اگرکسی روزتہجدادانہ کرسکےتودوپہرہونےسےپہلےاتنی تعداد میں نوافل پڑھ لے
اِنْ شَآءَ اﷲ عَزَّ وَجَلَّتہجد کاثواب پائےگا۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پابندی کے ساتھ ذِکرواَذکاراورشب بیداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1182