Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1174

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِِ ابْنِِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لَيْلَةً فَلَمْ يَزِلْ قَائِمًا حَتّٰى هَمَمْتُ بِاَمْرٍ سُوْ ءٍقِيْلَ:مَا هَمَمْتَ؟قَالَ:هَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَهُ.

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال:صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة فلم يزل قائما حتى هممت بامر سو ءقيل:ما هممت؟قال:هممت ان اجلس وادعه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھی آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسلسل کھڑے رہے ،یہاں تک کہ میں نے ایک نا مناسب بات کا اِرادہ کیا۔پوچھا گیا: آپ نے کیا ارادہ کیاتھا؟کہتے ہیں :میں نے چاہا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ساتھ چھوڑ دوں۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیثِ پاک میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں: ایک یہ کہ نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کی نماز میں طویل قیام فرماتے اور دوسری یہ کہ حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعو درَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا میں رات میں نماز ادا کی ،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طویل قیام کی وجہ سے ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے بیٹھنے کا ارداہ کیا لیکن پھر یہ خیال کر کے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوں اور میں بیٹھ جاؤں یہ بات ادب و تعظیم کے خلاف ہے آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا میں کھڑے رہے ۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا نماز میں بیٹھنے کو بُری بات قرار دینا اس وجہ سے تھا کہ یہ امر ادب کے خلاف اور صورتاً مخالفت تھی۔‘‘طویل قیام افضل ہے یا طویل رکوع و سجود؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے بیٹھنے کو بُری بات کیوں کہاتواس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مخالفت یہ بُری بات ہے،قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ(پ۱۸،النور:۶۳)ترجمۂ کنزالایمان:تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں۔
اسی طرح جن لوگوں نے رسولُ
اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس وقت بیٹھے ہوئے تھے تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےان سے فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے پس جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“مذکورہ حدیثِ پاک میں رات کی نماز میں طویل قیام کی دلیل ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز میں اتنی دیر کھڑے رہے کہ حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے بیٹھنے کا اِرادہ کیااور ان کا یہ اِرادہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طویل قیام کی وجہ سے تھا ۔علمائے کرام کا اس بات میں اختلاف ہے کہ نفل نماز میں طویل قیام افضل ہے یا کثرتِ رکوع و سجود ؟ حضرت سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ وہ طویل قیام نہیں کرتے تھے اور رکوع و سجود کی کثرت کرتے تھے پس آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا:میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا: ”جس نے رکوع کیا اور سجدہ کیااﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے درجہ کو بلند فرماتا اور گناہ کو مٹاتا ہے۔“ حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے ایک نو جوان کو نماز پڑھتے دیکھا جو لمبی نماز پڑھ رہا تھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوکر چلا گیا تو حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:اس کو کون جانتا ہے؟ ایک شخص نے عرض کی :میں جانتا ہوں۔فرمایا:اگر میں اس کو جانتا تو میں اس کو حکم دیتا کہ یہ لمبے رکوع و سجود کر ے کیونکہ میں نےرسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا :”جب بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہوں کو اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیا جاتا ہے پھر جب وہ رکوع اور سجدہ کرتا ہے تو اس کے گناہ گر جاتے ہیں ۔“ بعض علما نے فرمایا کہ طویل قیام کرنا افضل ہے۔ان کی دلیل حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی یہ حدیثِ پاک ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے؟آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس میں قیام لمبا ہو۔‘‘مدنی گلدستہ’’صبر ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) تہجد کی نماز میں طویل قیام کرنا افضل ہے ۔
(2) یہ بات ادب و تعظیم کے خلاف ہے کہ کوئی دینی پیشوا کھڑا ہو اور ہم بیٹھ جائیں۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اس قدر تعظیم کرتے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں کسی نا مناسب بات کو بھی بہت بُرا تَصَوُّر کرتے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پابندی کے ساتھ نمازِ تہجد پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1174