Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1169

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوْتِرُ بِرَكْعَةٍ .

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل مثنى مثنى ويوتر بركعة .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں دو دو رکعات نماز پڑھتے تھےاورایک رکعت ملا کر(تین رکعات)وترادا فرماتے ۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں احادیث مبارکہ میں نمازِ تہجد کی رکعات کا ذکر ہے۔پہلی حدیث پاک میں نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہےکہ رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں اور جب صبح(یعنی فجر کا وقت ) ہونے کا ڈر ہو (اور وتر نہ پڑھے ہوں تو آخری دو رکعتوں کے ساتھ )ایک رکعت ملا کر وتر پڑھ لو۔جبکہ دوسری حدیث پاک میں نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فعل مبارک کا ذکر ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں دو دو رکعات نماز پڑھتےاور(آخری دو رکعت کے ساتھ ) ایک رکعت ملا کر (تین رکعت ) وتر اد ا فرماتے۔فقیہِ اعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:جن روایتوں میںاَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍیايُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍآیا ہے ان سے مراد یہ ہے کہ پہلی والی دو رکعتوں کے ساتھ ایک رکعت ملاکر پڑھتے تھے یا اس کو وتر بنادیتے۔صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”کم سے کم تہجد کی دو رکعتیں ہیں اور حضورِ اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمسےآٹھ تک ثابت۔“مزید فرماتے ہیں :”جو شخص تہجد کا عادی ہو بلا عذر اُسے (تہجد )چھوڑنا مکروہ ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1169