Main Icon

باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 928

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ رَافِعٍ اَسْلَمَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ غَسَّلَ مَيْتًا فَكَتَمَ عَلَيْهِ غَفَرَ اللهُ لَهُ اَرْبَعِيْنَ مَرَّةً.

عن ابي رافع اسلم مولی رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من غسل ميتا فكتم عليه غفر الله له اربعين مرة.

حدیث ترجمہ

حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آزاد کردہ غلام حضرت سَیِّدُنَا ابورافِع اَسْلَمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے رِوایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:”جس نے مَیِّت کو غسل دیا اور اس کی پردہ پوشی کی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّچالیس مرتبہ اس کے گناہوں کو بخشے گا۔“

شرح حدیث

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی(اس حصۂ حدیث’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّچالیس مرتبہ اس کے گناہوں کو بخشے گا۔‘‘کے تحت)فرماتے ہیں:اور ہر مرتبہ میں کتنے گناہ بخشے جائیں گےاس کی تعدادسِوائے خُدائے سَتّار وغَفّارکے اور کوئی نہیں جانتا ۔غسل کے وقت میت کا چہرہ اور شرم گاہ چھپانا:علّامہ اِبنِ عبدُ الْبَرّعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْاَکْبَرْفرماتے ہیں:عُلَما نے اس بات کو مُسْتَحَب جانا ہے کہ ایک کپڑے سے مَیِّت کا چہرہ چُھپایا جائے اور دوسرےسے اس کی شَرْم گاہ کیونکہ بعض اَوقات موت کے وقْت مَیِّت کا چہرہ بیماری یا خون کے غَلبے کی وجہ سے تبدیل ہوجاتا ہے اور جُہَلا جب مَیِّت کا تبدیل چہرہ دیکھتے ہیں تو اسے بُراجان کرایک دوسرے کو اس کے مُتَعَلِّق بتاتے ہیں۔جبکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو مَیِّت کو غُسْل دے اور( جو ناقص بات نظر آئے) اُسے چُھپائے وہ اپنے گناہوں سے ایساپاک ہوجاتا ہےجس دن ماں کے پیٹ سے پیداہواتھا۔مَیِّت کی بُرائیاں اور ان کا حکم:مَیِّت میں دیکھی جانے والی بُرائیوں کی دواَ قسام ہیں:(1)پہلی قسم کا تَعلُّق اس کی حالت سے ہے مثلاً کوئی شخص دیکھے کہ مَیِّت کا چہرہ تبدیل ہوکرسِیاہ اور قبیح ہوگیا ہے یا اس کے اَعْضا میں تَغَیُّر واقِع ہوگیا ہے تو اس صورت میں اسے لوگوں کو یہ بتانا جائز نہیں کہ میں نے مَیِّت کو اس حالت میں دیکھا ہے کیونکہ یہ اس کا عیب کھولنا ہےاور ویسے بھی بندہ اپنے ربّ کی بارگاہ میں حاضِر ہوچکا ہےاورعنقریباللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے اپنے عَدْل یا فَضْل کے مطابِق جزا عطا فرمائے گا۔اگر اس نے نیک اَعمال کئے ہوں گےتو اس کو اچھی جزا ملے گی اوراگر اس کے اَعمال بُرے ہوئےتو اسے بُری جزا ملے گی۔بَہارِ شریعت میں ہے:نہلانے والا مُعْتَمَد شخص ہو کہ پوری طرح غُسْل دے اور جو اچھی بات دیکھے،مثلاً چہرہ چمک اُٹھا یا مَیِّت کے بدن سے خوشبو آئی تو اسے لوگوں کے سامنے بَیان کرے اور کوئی بُری بات دیکھی، مثلاً چہرے کا رنگ سِیاہ ہوگیا یا بدبو آئی یا صورت یا اَعضا میں تَغَیُّر آیا تو اسے کسی سے نہ کہے اور ایسی بات کہنا جائز بھی نہیں کہ حدیث میں اِرشاد ہوا: ’’اپنے مُردوں کی خُوبیاں ذِکْر کرو اور اُس کی بُرائیوں سے باز رہو۔‘‘اگر کوئی بَدمَذہَب مَرا اور اُس کا رنگ سِیاہ ہوگیا يا اور کوئی بُری بات ظاہِر ہوئی تو اس کا بَیان کرنا چاہيے کہ اس سے لوگوں کو عِبْرت و نصیحت ہوگی۔
(2)اور دوسری کا تَعلُّق اس کے جِسْم سے ہےمثلاً وہ اس کے جِسْم میں بَرَص یاپیدائشی کالک وغیرہ کوئی ایسا عیب دیکھے جس پر کسی دوسرے کے مُطَّلِع ہونے کوآدَمی ناپسند کرتا ہے تواس صورت میں بھی اسے جائز نہیں کہ لوگوں کے سامنے اسے بیان کرے اور انہیں بتاتا پِھرے کہ میں نے اس کے بدن میں یہ یہ چیزیں دیکھی ہیں۔بَہارِ شریعت میں ہے:نہلانے والے کے پاس خُوشبو سُلگانا مُسْتَحَب ہے کہ اگر مَیِّت کے بدن سے بُو آئے تو اسے پتہ نہ چلے ورنہ گھبرائے گا، نیز اُسے چاہيے کہ بَقَدْرِ ضَرورت اَعْضائے مَیِّت کی طرف نظر کرے، بِلا ضَرورت کسی عُضْو کی طرف نہ دیکھے کہ ممکن ہے اُس کے بدن میں کوئی عیب ہو جسے وہ چُھپاتا تھا۔ غُسْل دینے والے شخص کے ساتھ صِرْف وہ شخص ہونے چاہئیں جو غُسْل میں اس کی مدد کرے گا،اس کے علاوہ اور کوئی شخص نہ ہو خواہ مَیِّت کا قریبی ہی کیوں نہ ہوکیونکہ مَیِّت کے عیب نظر آجانے کا اَندیشہ ہے۔بَہارِ شریعت میں ہے: جہاں غُسْل دیں مُسْتَحَب یہ ہے کہ پردہ کر لیں کہ سِوا نہلانے والوں اور مددگاروں کے دوسرا نہ دیکھے۔
مدنی گلدستہچار یار کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نہلانے والے کو اگرمَیِّت کا کوئی عیب نظر آئے تو اسے چاہئے کہ اس کو چُھپائے،اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّچالیس مرتبہ اس کے گناہوں کو بخشے گا۔
(2) اگر کوئی بَدمَذہَب مَرے اور اُس کی کوئی بُری بات ظاہِر ہوئی تو اسے بیان کرنا چاہيے کہ اس سے لوگوں کو عِبْرت و نصیحت ہو۔
(3) مَیِّت کی شَرم گاہ چُھپانے کے ساتھ اس کا چہرہ بھی چُھپادینا چاہیے تاکہ اگر اس کا چہرہ تبدیل ہوجائے تو کسی کو بَد گُمانی نہ ہو۔
(4) جس جگہ مَیِّت کو غُسْل دیں وہاں پَردَہ کر لیں اور غُسل دینے والے اور اس کے مدد گاروں کے علاوہ کوئی دوسرا نہ ہوتاکہ مَیِّت کا کوئی عیب ظاہِر ہو تو اس پر پَردَہ رہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں زِندوں اور مُردوں دونوں کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 928