Main Icon

باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1143

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ اَنَّهُ رَاَى قَوْمًا يُصَلُّوْنَ مِنَ الضُّحَى فَقَالَ:اَمَا لَقَدْ عَلِمُوْا اَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هٰذِهِ السَّاعَةِ اَفْضَلُ اِنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:صَلَاةُ الْاَ وَّابِيْنَ حِيْنَ تَرْمَضُ الفِصَالُ.

عن زيد بن ارقم رضي الله عنه انه راى قوما يصلون من الضحى فقال:اما لقد علموا ان الصلاة في غير هذه الساعة افضل ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:صلاة الا وابين حين ترمض الفصال.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا زید بن اَرقمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ انہوں نے ایک جماعت کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا :کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ نماز اِس وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں پڑھنا افضل ہے،کیونکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:توبہ کرنے والوں کی نماز کا وقت وہ ہے کہ جب اونٹ کے بچے گرمی محسوس کرنے لگیں۔ ‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں نمازِ چاشت کے افضل وقت کا ذِکر ہے کہ نمازِ چاشت کو کس وقت میں پڑھنا افضل ہے ۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’∞اس(نماز ِچاشت) کا وقت آفتاب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النہارِ شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔‘‘نمازِ چاشت کےافضل وقت کی وجہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’بعض علما نے فرمایا کہ چاشت کا وقت بھی طلوعِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور نصف النہار پرختم ہوتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ چہارم دن گزرنے پر پڑھے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ زید ابن ارقم نے افضل فرمایا،یہ نہ کہا کہ یہ نماز وقت سے پہلے پڑھ رہے ہیں چونکہ اس زمانہ میں گھڑی نہ تھی اس لیے اوقات کا ذکر علامت سے ہوتا تھا آپ نے دوپہر کو اسی علامت سے بیان فرمایا کہ اونٹ کے بچے اون کی وجہ سے جب گرم ہوجائیں یعنی خوب دن چڑھ جائے وقت گرم ہوجائےچونکہ اس وقت دل آرام کرنا چاہتا ہے اس لیے اس و قت نماز بہتر ہے۔‘‘
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہ نمازبارگاہِ اِلٰہی میں توبہ کرنے اور اُس کی طرف رُجوع کرنے والوں کی نماز ہے۔چہارم دن گزرنے پر چاشت کی نماز اس لئے افضل ہےکہ یہ وقت فراغت اور آرام کا وقت ہے تو اس وقت نماز وہی پڑھے گا جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف رجوع رکھتا ہےاور اُس کے ذِکر سے اُنس ومحبت رکھتا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے نصف شب میں نماز پڑھنا۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!چاشت کی نماز کو توبہ کرنے والوں کی نماز کہا گیا ہے۔ہوسکے تو اسے افضل وقت میں پڑھا جائے کہ اس میں ثواب زیادہ ہے اور پابندی سے پڑھا جائے کیونکہ پابندی سے چاشت کی نماز پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔
چاشت کی نماز پر پابندی کی فضیلت:چاشت کی نماز پر پابندی کی فضیلت پر2فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ فرمائیں:
(1) ’’چاشت کی نماز پر پابندی وہی کرے گا جو
اَوَّاب( بارگاہِ الٰہی میں بہت رجوع کرنے والا )ہوگااور یہ توبہ کرنے والوں کی نماز ہے۔‘‘
(2)’’جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ضُحٰی کہا جاتا ہے۔جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا:کہاں ہیں وہ لوگ جو چاشت کی نماز پابندی سے پڑھتے تھے؟یہ تمہارا دروازہ ہے تو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے اس میں داخل ہوجاؤ۔‘‘مدنی گلدستہ’’چاشت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) چاشت کی نماز توبہ کرنے والوں کی نماز ہے۔
(2) چاشت کا وقت طلوعِ آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے اور نصف النہار پرختم ہوتا ہے۔
(3) چاشت کا افضل وقت یہ ہے کہ چوتھائی دن گزرنے پر پڑھے۔
(4) چاشت کی نماز پر پابندی کرنے والا
اَوَّاب( بارگاہِ الٰہی میں بہت رجوع کرنے والا ) ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں چاشت واِشراق کی نماز پابندی اور خشوع وخضوع سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1143