Main Icon

باب : مُرَاقَبَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 60

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:’’بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا یُرَی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ، وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ وَقَالَ یَا مُحَمَّدُ! أَخْبِرْنِی عَنِ الْإِسْلَامِ ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْاِسْلَامُ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ، وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ ،وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیلًا۔ قَالَ صَدَقْتَ۔ فَعَجِبْنَا لَہُ یَسْأَلُہُ وَیُصَدِّقُہُ! قَالَ: فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ،قَالَ:أَنْ تُؤْمِنَ بِاللہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِخَیْرِہِ وَشَرِّہِ۔ قَالَ:صَدَقْتَ۔قَالَ:فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ۔قَالَ:أَنْ تَعْبُدَاللہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ۔ قَالَ:فَأَخْبِرْنِی عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ:مَاالْمَسْؤلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ۔ قَالَ: فَأَخْبِرْنِی عَنْ أَمَارَا تِہَا۔ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَۃُ رَبَّتَہَا،وَأَنْ تَرَی الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَائَ الشَّائِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ۔ ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ مَلِیًّا، ثُمَّ قَالَ: یَا عُمَرُ! أَتَدْرِی مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ:اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔قَالَ: فَإِنَّہُ جِبْرِیلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ اَمْرَ دِینِکُمْ۔(مسلم، کتاب الایمان،باب بیان الایمان والاسلام والاحسان ووجوب الایمان …الخ ص۲۱، حدیث:۱)

عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال:’’بینما نحن جلوس عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذات یوم إذ طلع علینا رجل شدید بیاض الثیاب شدید سواد الشعر لا یری علیہ اثر السفر ولا یعرفہ منا احد، حتی جلس إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، فاسند رکبتیہ إلی رکبتیہ، ووضع کفیہ علی فخذیہ وقال یا محمد! اخبرنی عن الإسلام ،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:الاسلام ان تشہد ان لا إلہ إلا اللہ وان محمدا رسول اللہ، وتقیم الصلاۃ ،وتؤتی الزکاۃ، وتصوم رمضان، وتحج البیت إن استطعت إلیہ سبیلا۔ قال صدقت۔ فعجبنا لہ یسالہ ویصدقہ! قال: فاخبرنی عن الایمان،قال:ان تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر وتؤمن بالقدرخیرہ وشرہ۔ قال:صدقت۔قال:فاخبرنی عن الاحسان۔قال:ان تعبداللہ کانک تراہ فإن لم تکن تراہ فإنہ یراک۔ قال:فاخبرنی عن الساعۃ، قال:ماالمسول عنہا باعلم من السائل۔ قال: فاخبرنی عن امارا تہا۔ قال: ان تلد الامۃ ربتہا،وان تری الحفاۃ العراۃ العالۃ رعائ الشائ یتطاولون فی البنیان۔ ثم انطلق، فلبثت ملیا، ثم قال: یا عمر! اتدری من السائل؟ قلت:اللہ ورسولہ اعلم۔قال: فإنہ جبریل اتاکم یعلمکم امر دینکم۔(مسلم، کتاب الایمان،باب بیان الایمان والاسلام والاحسان ووجوب الایمان …الخ ص۲۱، حدیث:۱)

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک نہایت سفید لباس اور نہایت سیاہ بالوں والا ایک شخص آیا، اس پر نہ کوئی سفر کا اثر تھا اور نہ ہی ہم میں سے کو ئی اسے پہنچانتا تھا۔ وہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آکر بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گھٹنوں سے ملا دئیے اور اپنے ہاتھ زانوں پر رکھ دئیے اور کہا :اے محمد!( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :اِسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں ،اور تو نماز قائم کرے، زکوۃ دے، رمضان کے روزے رکھے اور طاقت ہو تو بیتُ اللہ شریف کا حج کرے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ۔ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھراُس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟ فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے فرشتوں ، اسکی کتابوں ،اسکے رسولوں ، آخرت اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لائے۔اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے کہا:مجھے احسان کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا: تو اللہ عزَّوَجَلَّ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے۔ پھر اس نے عرض کی :مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ فرمایا :جس سے قیا مت کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ عرض کی : قیامت کی نشانیاں ہی بتا دیجئے۔ فرمایا:لونڈی اپنے مالک کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں ،برہنہ جسم،مفلس اور بکریاں چَرانے والے بلند و بالا گھروں کی تعمیرات میں ایک دوسرے پر فخر کرتے ہونگے۔پھر وہ شخص چلاگیا، میں کچھ دیر رُکا رہا، پھرنبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے عمر !جانتے ہو وہ سائل کون تھا؟ میں نے کہا: اللہ عزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔فرمایا: وہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۔

شرح حدیث

چونکہ یہ باب مراقبے کے بارے میں ہے لہٰذا پہلے مراقبے کے متعلق بیان کیا جاتا ہے پھر حدیث مبارکہ کی مزید وضاحت کی جائے گی ۔
رسالۂ قُشَیْرِیَہمیں ہے کہ’’ اگرتم اللہ عزَّوَجَلَّ کو نہیں دیکھتے تو وہ توتمہیں دیکھ رہا ہے‘‘ یہ فرمانِ عالیشان حالت مراقبہ کی طرف اشارہ ہے ،کیونکہ اس بات کو جاننا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اسے دیکھ رہا ہے اور اس حالت کا ہم یشہ قائم رہنا بندے کا اپنے ربّ عزَّوَجَلَّ کے لئے مراقبہ ہے اور یہ ہر نیکی کی اصل ہے۔
اور اس درجے تک رسائی اِن (پانچ ) چیزوں کے بغیر نہیں ہو سکتی:
(ا ) اعمال کا محاسبہ
(۲) جلد ازجلد اپنی اصلاح
(۳) راہِ حق پر ثابت قدمی
(۴) اللہ عزَّوَجَلَّ سے دِلی لگاؤ کی نگہداشت(۵) کسی سانس کو بیکار اور یونہی ضائع نہ کرنا ۔ پس جان لینا چاہیے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ بندے کا نگہبان ہے اس کے دل کے قریب اور اس کے تمام احوال سے واقف اور اس کی تمام باتیں سننے والا ہے۔‘‘ ( رسالۃ قشیریۃ، ص۲۲۵)
’’ہمْعَات‘‘میں حضرتِ سَیِّدُنا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :مراقبے سے بحیثیت مجموعی یہ مراد ہے کہ بندہ اپنی قوتِ اِدراک کو پوری طرح اللہ عزَّوَجَلَّ کی صفات کے تصور میں لگا دے یاوہ نزع کی اُس حالت کا دھیان کرے کہ جب روح بدن سے جدا ہوتی ہے، یا کسی اور ایسی کیفیت پر بندہ اپنی توجہات کو یوں مَبْذُوْل کردے کہ اس کی عقل اس کے وہم و خیال کی قوت اور اس کے تمام کے تمام حواس ’’ توجہ ‘‘ کے تابع ہو جائیں اور بندے پر ایسی کیفیت طاری ہوجائے کہ غیر محسوس اشیاء اسے محسوس نظر آئیں۔ مراقبے کے معاملے میں سب سے خوش نصیب وہ شخص ہے جس کو قدرت کی طرف سے غیر محسوس چیزوں پر توجہ کرنے کی طبعاً زیادہ اِسْتِعْدَاد( قوت ) وَدِیْعت ہوئی ہو۔ مراقبے میں سب سے پہلے تو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آدمی کو اللہ عزَّوَجَلَّ کے علاوہ ہر چیز سیکُلِیَّۃً فراغت حاصل ہو چکی ہو۔اس کے بعد وہ اس خیال کو اپنا نصب العین بنائے اور اس طرف اپنی پوری توجہ مبذول کر دے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اس کو اور اس کے علاوہ بھی ہر چیز کو نیچے سے اوپر سے دائیں سے بائیں سے اندر سے باہر سے الغرض ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔(ھمعات، ص۳۰)
حضرتِ سَیِّدُنا جُرَیْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جو شخص اپنے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے درمیان تقویٰ اور مراقبے کو مضبوط نہیں کرتا وہ کَشف ومُشاہَدے تک نہیں پہنچ سکتا ۔‘‘ (رسالۃ قشیریۃ ، ص۲۲۵)
مراقبہ کی حقیقتتفسیرِ نعیمی میں ہے :’’مراقبہ کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ ربّ تعالیٰ کورقیب (نگہبان) سمجھ کر اپنا حساب خود لیتا رہے، خواہ رَقَبہ یعنی گردن جھکا کر ہو یا سوتے وقت جب گردن بستر پر رکھے، خواہ ہر حال میں اپنی نگرانی کرنے کا نام مراقبہ ہے ۔‘‘( تفسیر نعیمی ، پ۴،النساء تحت الایۃ:۱، ۴/۴۵۹)
ابوحامد امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیاِحیائُ العلوم میں فرماتے ہیں :مراقبہ کی حقیقت یہ ہے کہ نگرانی کرنے والے کا لحاظ کیا جائے اور اپنی پوری توجہ کو اسی کی طرف پھیر دیا جائے ۔ جو شخص کسی کی وجہ سے کسی بات سے پرہیز کرتا ہے تو کہا جاتا کہ ’’وہ فلاں بندے کا لحاظ کرتا ہے۔‘‘ اور اس مراقبہ سے مراد دل کی وہ حالت ہے جو معرفت سے حاصل ہوتی ہو اور اس کے نتیجے میں اعضا ودل میں کچھ اعمال پیدا ہوتے ہیں اور یہ حالت ہوجاتی ہے کہ دل نگہبان کا خیال رکھتا ہے اس کے ساتھ مشغول رہتااور اس کی طرف متوجہ رہ کراسی کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ اور اس حالت سے جو معرفت حاصل ہوتی ہے وہ اس بات کا علم حاصل ہونا ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ دل کی پوشیدہ باتوں کوجاننے والا ہے۔ بندوں کے اعمال اس کے سامنے ہیں ہر جان جو کچھ کرتی ہے وہ اس سے واقف ہے، اس کے سامنے دلوں کے راز یوں کھلے ہیں جیسے مخلوق کے سامنے جسم کا ظاہر کھلا ہوتا ہے ۔بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ظاہر ہے ۔ اور جب شک زائل ہو جائے اور یہ معرفت یقین میں بدل جائے اور دل پرغالب ہو کر اسے دبا دے تو اسے نگہبان کا خیال رکھنے کی طرف لے جاتی ہے اور اس کی ہم ت اور توجہ کو اسی طرف پھیر دیتی ہے اور جن نُفُوسِ قُدْسِیَہ کو اس معرفت کا یقین حاصل ہو جائے وہ مُقَرَّبِیْن ہیں۔ (احیاء العلوم،۵/ ۱۳۰)
مراقبے کے بارے میں بزرگانِ دین کے اقول’’رسالۂ قُشَیْرِیَہ‘‘ میں مراقبے سے متعلق بزرگانِ دین کے مختلف اقوال بیان کئے گئے ہیں چنانچہ ،حضرتِ سَیِّدُنا ذُوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : مراقبے کی علامت یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کو ترجیح دے جنہیں اللہ عزَّوَجَلَّ نے ترجیح دی ہے اور ان چیزوں کی تعظیم کرے جنہیں اللہ عزَّوَجَلَّ نے قابل تعظیم قرار دیا اور انہیں حقیر جانے جو اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں حقیر ہوں۔
حضرتِ سَیِّدُنا نَصْراَبَاذِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : امید تجھے اطاعت کی ترغیب دیتی ہے اور خوف تجھے گناہوں سے دور رکھتا ہے اور مراقبہ تجھے حقائق کی راہ تک پہنچاتا ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوالْعَبَّاس َبغْدادِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھادِی فرماتے ہیں :میں نے حضرت جَعْفَر بِنْ نُصَیْر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مراقبے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: جو خیال دل میں پیدا ہوتاہے اس کے بارے میں بندہ یہ خیال کرے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اسے دیکھ رہا ہے اس طرح وہ دل کی حفاظت کرے تو یہ مراقبہ ہے۔
حضرتِ سَیِّدُنا جُرَیْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :ہمارا یہ معاملہ یعنی تصوف دو باتوں پر مبنی ہے (۱) تم اپنے نفس پر یہ بات لازم کردو کہ وہ ہم یشہ اللہ عزَّوَجَلَّ کو پیش نظر رکھے(۲) اس علم کا اثر تمہارے ظاہر پر بھی موجود ہو ۔
حضرتِ سَیِّدُنا مُرْتَعِش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں مراقبہ یہ ہے کہ ہر لحظہ وہر لفظ کے ساتھ غیب کو دیکھتے ہوئے اپنے باطن کا خیال رکھا جائے ۔
حضرت ابن عطاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا: افضل عبادت کیا ہے؟ فرمایا: مُرَاقَبَۃُ الْحَقِّ عَلی دَوَامِ الاَوْقَاتِیعنی ہر وقت مراقبہ حق میں رہنا ۔
حضرتِ سَیِّدُنا اِبْرَاہِیْم خَوَّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَوَّاد فرماتے ہیں : احکامِ خداوندی کا خیال رکھنے سے مراقبہ پیدا ہوتا ہے اور مراقبے سے ظاہر وباطن میں خلوص پیدا ہوتا ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا ابو عثمان مغربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : طریقت میں افضل ترین چیز جسے انسان اپنے اوپر لازم کرے وہ محاسبہ، مراقبہ اور اپنے علم کے مطابق عمل کرنا ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا ابو عثمان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں حضرت ابو حفص رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا: جب تم لوگوں کو وعظ و نصیحت کرو تو پہلے اپنے نفس کو نصیحت کرو اور لوگوں کا تمہارے پاس جمع ہونا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ وہ تمہارے ظاہر کو دیکھتے ہیں جبکہ اللہ عَزَّوَجلَّ تمہارے باطن کو دیکھتاہے۔( رسالۃ قشیریۃ، ص۲۲۶۔۲۲۷)
حضرتِ سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی سے ایک شخص نے پوچھا : میں بدنگاہی سے بچنے کے لئے کس چیز سے مدد حاصل کروں ؟ فرمایا : یہ یقین رکھو کہ تمہیں دیکھنے والے( اللہ عزَّوَجَلَّ ) کی نظر کسی دوسرے پر تمہاری نظر کے پہنچنے سے پہلے پہنچتی ہے ۔آپ مزید فرماتے ہیں :جسے زوالِ نعمت کا خوف دامنگِیررہے اس کا مراقبہ پکا ہوتا ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار فرماتے ہیں : جنتِ عَدْن ، جَنتُ الْفِرْدَوْسمیں سے ہے اور وہاں ایسی حوریں ہیں جو جنت کے گلاب سے پیدا کی گئی ہیں۔ پوچھا گیا: وہاں کون رہے گا؟ فرمایا : اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : جنت ِ عَدْن میں وہ لوگ ہونگے جو گناہوں کا ارادہ کریں تو میری عظمت کو یاد کرکے میرا لحاظ کرتے ہیں (اور گناہوں سے باز رہتے ہیں ) اور وہ لوگ جن کی کمر میرے خوف کی وجہ سے جھک گئی ہو ۔مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! میں زمین والوں کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہو ں پھر جب ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو میری رضا کی خاطر بھوکے پیاسے رہتے ہیں تو میں لوگوں سے عذاب روک دیتا ہوں۔
حضرتِ سَیِّدُنا محمد بن علی ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : اپنا مراقبہ اس ذات کے لئے کر جس کی نظر سے تو غائب نہیں اور اس کا شکر ادا کر جس کی نعمتیں تجھ سے مُنْقَطع(رُکتی) نہیں ، اس کی عبادت کر جس سے تو بے نیاز نہیں ہوسکتا ، اپنا خُشُوْع وخُضُوْع اس کے لئے اختیار کر جس کی بادشاہی اور مُلک سے تو باہر نہیں نکل سکتا ۔
حضرتِ سَیِّدُنا سہل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اس سے بڑھ کر کسی چیز سے دل مُزَیَّن نہیں ہوتا کہ بندہ اس بات کا یقین رکھے کہ وہ جہاں بھی ہو اللہ عزَّوَجَلَّ اسے دیکھتا ہے ۔
کسی بزرگ سے اس آیتِ مبارکہ
رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠(۸)(پ:۳۰، البینۃ:۸)ترجمۂ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اُس سے راضی یہ اُس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے ۔
کی تفسیر پوچھی گئی توفرمایا: اس سے وہ لوگ مرادہیں جو اپنے رب کو دیکھتے ہیں ، اپنے نفس کا اِحْتِسَاب کرتے ہیں اور اپنی آخرت کے لئے زادِ راہ تیار کرتے ہیں۔
حضرتِ سَیِّدُناذُوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے پوچھا گیا : بندے کو جنت کیسے حاصل ہوتی ہے ؟فرمایا : پانچ باتوں سے جنت ملتی ہے (ا) ایسی اِسْتِقَامَت جس میں ٹیڑھاپَن نہ ہو (۲) ایسا اِجْتِہَاد جس میں بھول نہ ہو (۳) ظاہر وباطن میں اللہ عزَّوَجَلَّ کو سامنے دیکھنا( یعنی مُرَاقَبَہ کرنا ) (۴) تیاری کے ساتھ موت کا انتظار کرنا(۵) نفس کااِحْتِسَاب کرنااس سے پہلے کہ اس کا مُحَاسَبَہ ہو۔(احیاء العلوم، ۵/ ۱۲۹)
حضرتِ سَیِّدُنا حُمَیْدُ الطَّوِیْل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَلِیْلنے سلطان بن علی سے کہا : مجھے نصیحت فرمائیے؟آپ نے فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے اس بات کو ماننے کے باوجود بھی اگر تم تنہائی میں گناہ کرو تو تم نے بہت بڑی جرأت کی اور اگر تم یہ سمجھو کہ اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں نہیں دیکھ رہا تو تم نے کفر کیا ۔
حضرتِ سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : اس ذات کو ہر وقت نگاہ میں رکھو جس سے کوئی چیز چھُپ نہیں سکتی ۔اس خدائے بزرگ وبرتر سے امید رکھو جو وفا کا مالک ہے اور اس سے ڈرو جو سزا دینے کا مالک ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا فَرْقَدْ سِنْجِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرما تے ہیں : منافق جب یہ جان لے کہ مجھے کوئی شخص نہیں دیکھ رہا تو وہ برائی کر گزرتا ہے وہ لوگوں کا لحاظ تو کرتا ہے لیکن اللہ عزَّوَجَلَّ کالحاظ نہیں کرتا۔
حضرتِ سَیِّدُناعبد اللہ بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار فرماتے ہیں :ایک مرتبہ میں اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے ساتھ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا کی جانب جا رہا تھا راستے میں ہمیں ایک چرواہا ملا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اس سے فرمایا: ان بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں فروخت کر دو! اس نے عرض کی :یہ بکریاں میرے آقاکی ہیں میں تو غلام ہوں۔ آپ نے( اسے آزمانے کے لئے) فرمایا: اپنے مالک سے کہہ دینا کہ ایک بکری کو بھیڑیا کھا گیا ۔ یہ سن کر غلام نے کہا: اگر یہی بات ہے تو پھر اللہ عزَّوَجَلَّ کہاں ہے؟ (یعنی وہ تو دیکھ رہا ہے) ۔ خوفِ خدا رکھنے والے اس غلام کی یہ بات سن کرحضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ زار وقطار رونے لگے پھر دوسرے دن اسے خرید کر آزاد کردیا اور فرمایا: جس طرح آج دنیا میں تیری ایک بات نے تجھے آزادکروا دیا میں امید کرتا ہوں کہ یہی بات کل بروز قیامت تیری نجات کا باعث ہو گی۔ (احیاء العلوم، ۵/ ۱۲۹)
اللہ عزَّوَجَلَّ
کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
حدیث مبارکہ کی مزید وضاحتنبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یا محمد !کہہ کر پکارنا جائز نہیں۔میر ے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت،پروانۂِ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، مولانا شاہ امام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا:لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ(پ۱۸، النور:۶۳)
ترجمۂ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔
کہ اے زید!اے عَمرو! بلکہ یوں عرض کرو :یَارَسُوْلَ اللہ ، یَانَبِیَّ اللہ ، یَا سَیِّدَ الْمُرْسَلِیْن، یَا خَاتَمَ النَّبِیِّیْن، یَاشَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْن، صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْکَ وَسَلَّم وَعَلٰی اٰلِکَ اَجْمَعِیْن۔
حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم اسے اس آیت کی تفسیر یوں مروی ہے کہکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ یَا مُحَمَّد یَا اَبَاالْقَاسِم فَنَھٰھُمُ اللہ عَنْ ذٰلِکَ اِعْظَاماً لِنَبِیِّہِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم، فَقَالُوْایَا نَبِیَّ اللہ ، یَا رَسُوْلَ اللہ (یعنی پہلے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یا محمد! یا ابالقاسم !کہا جاتا ، اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے نبی کی تعظیم کی وجہ سے اس سے نہی ( ممانعت) فرمائی ، جب سے صحابۂ کرام (عَلَیْہم الرِّضْوَان):یَارَسُوْلَ اللہ ! یَانَبِیَّ اللہ !کہا کرتے ) (دلائل النبوۃ لابی نعیم، الجزء الاول، الفصل الاول فی ذکر ما انزل اللہ تعالٰی فی کتابہ من فضلہ،ص۱۹حدیث:۴)
بَیْہَقِی اِمَام عَلْقَمَہ واِمَام اَسْوَداوراَبُو نُعَیْم امام حَسَن بَصرِی واِمَام سَعِیْد بِنْ جُبَیْر سے تفسیر کریمہ مذکورہ میں راوی :لَاتَقُوْلُوا یَا مُحَمَّدُ! وَلٰٰکِن قُوْلُوْا یَا رَسُوْلَ اللہ ،یَا نَبِیَّ اللہ !یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ فرماتاہے: یا محمد! نہ کہو بلکہیَارَسُوْلَ اللہ ! یَانَبِیَّ اللہ ! کہو۔(د رمنثور،پ۱۸، النورتحت الآیۃ:۶۳، ۶/۲۳۱ بحوالہ عبدبن حمید عن سعید بن جبیر والحسن) اسی طرح امام قَتَادَہ تِلْمِیْذِ اَنَس بِنْ مَالِک سے روایت کی ، رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم اَجْمَعِیْن۔
لہٰذا علما تَصْرِیْح فرماتے ہیں (کہ) حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نام لے کر نِداکرنی حرام ہے۔ اورواقعی محل انصاف ہے جسے اس کا مَالِک وَمْولٰی تَبَارَک وَتَعَالٰی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تَجَاوُز کرے ، بلکہ امام زَیْنُ الدِّیْن مَرَاغِی وغیرہ مُحَقِّقِیْن نے فرمایا :اگریہ لفظ کسی دعا میں وارد ہوجو خود نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے ’’یَا مُحَمَّدُ اِنِّی تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّی‘‘(اے محمد!میں آپ کے تَوَسُّل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا)( ابن ماجۃ، کتاب اقامۃ الصلٰوۃ، باب ماجاء فی صلٰوۃ الحاجۃ، ۲/۱۵۶، حدیث:۱۳۸۵)تاہم اس کی جگہ یَا رَسُوْلَ اللہ ، یَا نَبِیَّ اللہ (کہنا) چاہیے ، حالانکہ الفاظ دعاء میں حَتَّی الْوُسع (جتنا ممکن ہو) تَغْیِیْر (تبدیلی)نہیں کی جاتی ۔(فتاوی رضویہ، ۳۰/۱۵۶)
سوال: جب یامحمد! سے ندا ناجائز ہے تو جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یا محمد! کہہ کر کیوں پکارا؟
جواب :حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرْقَاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں فرماتے ہیں : ممکن ہے کہ یہ واقعہ اس آیتِ مبارکہ کے نازل ہونے سے پہلے کا ہو اور اس وقت نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یا محمد! کے ساتھ پکارنا جائز تھا یا اس لئے کہ اس آیتِ مبارکہ میں انسانوں سے خطاب ہے اور فرشتے اس حکم سے خارج ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الایمان،الفصل الاول،۱/۱۱۱تحت الحدیث:۲)
فرشتوں پر ایمان لانا: اس کامطلب یہ ہے کہ فرشتوں کے وجود کا اقرار کیا جائے اور اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے کلام پاک میں ان کی جو صفات بیان کی ہیں ان تمام صفات پر ایمان لایا جائے۔ (فتح الباری، کتاب الایمان، باب سوالِ جبریلَ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عن الایمانِ، ۲/۱۰۸، تحت الحدیث:۵۰)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرشتوں کے بارے میں عقائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : فرشتے اجسامِ نوری ہیں ، اللہ عزَّوَجَلَّ نے اُن کو یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں، کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی دوسری شکل میں۔ و ہ و ہی کرتے ہیں جو حکمِ الٰہی ہے ، خدا کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے، نہ قصداً(جان بوجھ کر)، نہ سہواً (بھول کر)، نہ خطأً(غلطی سے)، وہ اللہ ( عزَّوَجَلَّ ) کے معصوم بندے ہیں ہر قسم کے صغائر و کبائر (گناہ)سے پاک ہیں۔ اُن کو قدیم ماننا یا خالق جاننا کفر ہے۔ فرشتے نہ مرد ہیں ، نہ عورت۔ کسی فرشتہ کے ساتھ ادنیٰ گستاخی کفر ہے، جاہل لوگ اپنے کسی دشمن یا مبغوضکو دیکھ کر کہتے ہیں کہ مَلَکُ الْمَوْتیا عزرائیل آگیا، یہ قریب بکلمۂ کُفر ہے۔فرشتوں کے وجود کا انکار، یا یہ کہنا کہ فرشتہ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ، یہ دونوں باتیں کُفر ہیں۔ (بہارِ شریعت، ۱ /۹۰ تا ۹۵، حصہ ۱)
رسولوں پر ایمان لانا: اس کامطلب یہ ہے کہ رسولوں نے جو خبریں اللہ عزَّوَجَلَّ کے بارے میں دی ہیں ان تمام خبروں اور تمام باتوں کو حق مانا جائے ۔ (فتح الباری،کتاب الایمان،باب سوال جبریل النبی عن الایمان، ۲/۱۰۸، تحت الحدیث:۵۰)
’’بہار شریعت‘‘ میں ہے : نبی اُس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے وحی بھیجی ہو اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں۔ انبیا سب بشر تھے اور مرد، نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت۔ اللہ عزَّوَجَلَّ پر نبی کا بھیجنا واجب نہیں ، اُس نے اپنے فضل وکرم سے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے۔ نبی ہونے کے لیے اُس پر وحی ہونا ضروری ہے، خواہ فرشتہ کی معرفت ہو یا بِلا واسطہ۔ (بہار شریعت۱ /۲۸ تا ۲۹ ،حصہ۱)
وحیِ نبوت، انبیا کے لیے خاص ہے ،جو اسے کسی غیرِ نبی کے لیے مانے کافر ہے۔ نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے، اُس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں۔ولی کے دل میں بعض وقت سوتے یا جاگتے میں کوئی بات اِلقا ہوتی ہے، اُس کو اِلہام کہتے ہیں اور وحیِ شیطانی کہ اِلْقَامن جانبِ شیطان ہو، یہ کاہن، ساحر اور دیگر کفّار وفسّاق کے لیے ہوتی ہے۔ (بہار شریعت۱ /۳۵ ،حصہ۱)
نبوّت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و رِیاضت کے ذریعہ سے حاصل کرسکے، بلکہ محض عطائے الٰہی ہے، کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے، ہاں ! دیتا اُسی کو ہے جسے اس منصبِ عظیم کے قابل بناتا ہے، جو قبلِ حصولِ نبوّت تمام اخلاق رذیلہ سے پاک، اور تمام اخلاق فاضلہ سے مزین ہو کر جملہ مدارجِ ولایت طے کر چکتا ہے اور اپنے نسب و جسم و قول وفعل وحرکات و سکنات میں ہرایسی بات سے منزّہ ہوتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اُسے عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے، جو اوروں کی عقل سے بدرجہا زائد ہے، کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اُس کے لاکھویں حصّہ تک نہیں پہنچ سکتی۔(بہار شریعت۱ /۳۶،حصہ۱)
اور جو اِسے(یعنی نبوت کو) کسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصبِ نبوّت تک پہنچ سکتا ہے، کافر ہے۔(بہار شریعت۱ /۳۷،حصہ۱)
جو شخص نبی سے نبوّت کا زوال جائز جانے کافر ہے۔ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت ،نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ (بہار شریعت۱ /۳۷تا ۳۸،حصہ۱)
انبیا عَلَیْھِمُ السَّلَام شرک و کفر اور ہرایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے کذب و خیانت و جہل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ سے نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں قبلِ نبوت اور بعد ِنبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمّدِ صغائر سے بھی قبلِ نبوّت اور بعدِ نبوّت معصوم ہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے انبیا عَلَیْھِمُ السَّلَام پر بندوں کے لیے جتنے احکام نازل فرمائے اُنھوں نے وہ سب پہنچا دئیے، جو یہ کہے کہ کسی حکم کو کسی نبی نے چھپا رکھا، تقیہ یعنی خوف کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے نہ پہنچایا، کافر ہے۔ احکامِ تبلیغیہ میں انبیا سے سہو و نسیان محال ہے۔اُن کے جسم کا برص و جذام وغیرہ ایسے امراض سے جن سے تنفّر ہوتا ہے، پاک ہونا ضروری ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے انبیا عَلَیْھِمُ السَّلَام کو اپنے غیوب پر اطلاع دی زمین و آسمان کا ہر ذرّہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے، مگر یہ علمِ غیب کہ ان کو ہے اللہ ( عزَّوَجَلَّ ) کے دئیے سے ہے، لہٰذا ان کا علم عطائی ہوا اور علمِ عطائی اللہ عزَّوَجَلَّ کے لیے محال ہے، کہ اُس کی کوئی صفت، کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہوسکتا، بلکہ ذاتی ہے۔ جو لوگ انبیا بلکہ سیّد الانبیا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مطلق علمِ غیب کی نفی کرتے ہیں ، وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں :
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍۚ-(پ ۱، البقرۃ : ۸۵ )
یعنی: ’’قرآنِ عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کُفر کرتے ہیں۔‘‘
کہ آیتِ نفی دیکھتے ہیں اور اُن آیتوں سے جن میں انبیا عَلَیْھِمُ السَّلَامکو علومِ غیب عطا کیا جانا بیان کیا گیا ہے، انکار کرتے ہیں ، حالانکہ نفی واِثبات دونوں حق ہیں ، کہ نفی علمِ ذاتی کی ہے کہ یہ خاصۂ اُلوہیت ہے، اِثبات عطائی کا ہے، کہ یہ انبیا ہی کی شایانِ شان ہے اور مُنافیِاُلوہیت ہے اور یہ کہنا کہ ہر ذرّہ کا علم نبی کے لیے مانا جائے تو خالق و مخلوق کی مساوات لازم آئے گی، باطل محض ہے کہ مساوات تو جب لازم آئے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کیلئے بھی اتنا ہی علم ثابت کیا جائے اور یہ نہ کہے گا مگر کافر، ذرّاتِ عالَم متناہی ہیں اور اُس کا علم غیرِ متناہی، ورنہ جہل لازم آئے گا اور یہ محال، کہ خدا جہل سے پاک، نیز ذاتی و عطائی کا فرق بیان کرنے پر بھی مساوات کا الزام دینا صراحۃً ایمان و اسلام کے خلاف ہے، کہ اس فرق کے ہوتے ہوئے مساوات ہو جایا کرے تو لازم کہ ممکن و واجب وجود میں معاذا
ﷲ∞ مساوی ہو جائیں ، کہ ممکن بھی موجود ہے اور واجب بھی موجود اور وجود میں مساوی کہنا صریح کُفر، کھلا شرک ہے۔ انبیا عَلَیْھِمُ السَّلَامغیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں کہ جنّت و نار و حشر و نشر و عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں۔۔۔؟ اُن کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے۔ اولیا کو بھی علمِ غیب عطائی ہوتا ہے، مگر بواسطہ انبیا کے۔انبیائے کرام، تمام مخلوق یہاں تک کہ رُسُلِ ملائکہ سے افضل ہیں۔ ولی کتنا ہی بڑے مرتبہ والا ہو، کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جو کسی غیرِ نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے، کافر ہے۔ نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ اصلِ تمام فرائض ہے۔ کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب، کفر ہے۔ انبیا کی کوئی تعداد معیّن کرنا جائز نہیں ، کہ خبریں اِس باب میں مختلف ہیں اور تعداد معیّن پر ایمان رکھنے میں نبی کو نبوّت سے خارج ماننے، یا غیرِ نبی کو نبی جاننے کا احتمال ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں ، لہٰذا یہ اعتقاد چاہیے کہ اللہ ( عزَّوَجَلَّ ) کے ہر نبی پر ہمارا ایمان ہے۔ نبیوں کے مختلف درجے ہیں ، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ہمارے آقا و مولیٰ سیّدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ، حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیمخلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلام کا ہیپھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام ، پھر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام اور حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلام کا،اِن حضرات کو مرسلین اُولو العزم کہتے ہیں اور یہ پانچوں حضرات باقی تمام انبیا و مرسلینِ انس و مَلَک و جن و جمیع مخلوقاتِ الٰہی سے افضل ہیں۔ جس طرح حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) تمام رسولوں کے سردار اور سب سے افضل ہیں ، بلا تشبیہ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے صدقہ میں حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی اُمت تمام اُمتوں سے افضل۔ تمام انبیا، اللہ عزَّوَجَلَّ کے حضور عظیم وجاہت و عزت والے ہیں۔ان کو اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک معاذاﷲ∞ چوہڑے چمار کی مثل کہناکھلیگستاخی اور کلمۂ کفر ہے۔ (بہار شریعت۱ /۳۹تا ۵۶،حصہ۱)
انبیا عَلَیْھِمُ السَّلَاماپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں ، جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں ، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں ، تصدیقِ وعدۂ الٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زندہ ہوگئے ، اُن کی حیات، حیاتِ شہدا سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے فلہذا شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اُس کی بی بی بعدِ عدت نکاح کرسکتی ہے بخلاف انبیا کے کہ وہاں یہ جائز نہیں۔ (بہار شریعت۱ /۵۸تا ۶۰،حصہ۱)
اور انبیا کی بعثت خاص کسی ایک قوم کی طرف ہوئی ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوق انسان وجن، بلکہ ملائکہ، حیوانات، جمادات، سب کی طرف مبعوث ہوئے جس طرح انسان کے ذمّہ حضور( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی اِطاعت فرض ہے۔ یوہیں ہر مخلوق پر حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی فرمانبرداری ضروری۔ حضورِ ا قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملائکہ و انس و جن و حُور و غلمان و حیوانات و جمادات، غرض تمام عالَم کے لیے رحمت ہیں اور مسلمانوں پر تو نہایت ہی مہربان۔ حضور، خاتم النبییّن ہیں ، یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ نے سلسلۂ نبوّت حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) پر ختم کر دیا ، کہ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا ، جو حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے زمانہ میں یا حضور( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے بعد کسی کو نبوّت ملنا مانے یا جائز جانے، کافر ہے۔ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) افضل جمیع مخلوقِ الٰہی ہیں ، کہ اوروں کو فرداً فرداًجو کمالات عطا ہوئے حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) میں وہ سب جمع کر دئیے گئے اور اِن کے علاوہ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کو وہ کمالات ملے جن میں کسی کا حصہ نہیں۔ (بہار شریعت۱ /۶۱تا ۶۵،حصہ۱)
محال ہے کہ کوئی حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا مثل ہو، جو کسی صفت ِخاصّہ میں کسی کو حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا مثل بتائے،گمراہ ہے یا کافر۔ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے مرتبۂ محبوبیتِ کبریٰ سے سرفراز فرمایا ، کہ تمام خَلق جُویائے رضائے مولا ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ طالبِ رضائے مصطفیٰ ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )۔ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے خصائص سے معراج ہے، کہ مسجد ِحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک اور وہاں سے ساتوں آسمان اور کُرسی و عرش تک، بلکہ بالائے عرش رات کے ایک خفیف حصّہ میں مع جسم تشریف لے گئے اور وہ قربِ خاص حاصل ہوا کہ کسی بشر و مَلَک کو کبھی نہ حاصل ہوا نہ ہو، اور جمالِ الٰہی بچشمِ سر دیکھا اور کلامِ الٰہی بلاواسطہ سنا اور تمام ملکوت السمٰوات والارض کو بالتفصیل ذرّہ ذرّہ ملاحظہ فرمایا ۔ تمام مخلوق اوّلین وآخرین حضور کی نیاز مند ہے، یہاں تک کہ حضرت ابراہیمخلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلام ۔ (بہار شریعت۱ /۶۶تا ۶۹،حصہ۱)
ہر قسم کی شفاعت حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے لیے ثابت ہے۔ شَفَاعَت بِالْوَ جَاہَۃِ، شَفَاعَت بِالْمَحَبَّۃِ، شَفَاعَت بِالْاِذْناِن میں سے کسی کا انکار وہی کرے گا جو گمراہ ہے۔ منصبِ شفاعت حضور کو دیا جاچکا۔ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی محبت مدار ِایمان،بلکہ ایمان اِسی محبت ہی کا نام ہے، جب تک حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی محبت ماں باپ اولاد اور تمام جہان سے زیادہ نہ ہو آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی اِطاعت عین طاعتِ الٰہی ہے، طاعتِ الٰہی بے طاعتِ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) ناممکن ہے، یہاں تک کہ آدمی اگر فرض نماز میں ہو اور حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اُسے یاد فرمائیں ، فوراً جواب دے اور حاضرِ خدمت ہو اوریہ شخص کتنی ہی دیر تک حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) سے کلام کرے، بدستور نماز میں ہے، اِسسے نماز میں کوئی خلل نہیں۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم یعنی اعتقادِ عظمت جزو ِایمان و رکنِ ایمان ہے اور فعلِ تعظیم بعد ایمان ہر فرض سے مقدّم ہے ۔ (بہار شریعت۱ /۷۲تا ۷۴،حصہ۱)
حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی تعظیم و توقیر جس طرح اُس وقت تھی کہ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اِس عالم میں ظاہری نگاہوں کے سامنے تشریف فرماتھے، اب بھی اُسی طرح فرضِ اعظم ہے ، جب حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا ذکر آئے توبکمالِ خشوع و خضوع و انکسار باادب سُنے، اور نامِ پاک سُنتے ہی درود شریف پڑھنا واجب ہے۔ ’’اللھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰـنَا مُحَمَّدٍ مَعْدِنِ الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَاٰلہِ الْکِرَامِ وَصَحْبِہِ الْعظَامِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔‘‘(بہار شریعت۱ /۷۵،حصہ۱)
حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے کسی قول و فعل و عمل و حالت کو جو بہ نظرِ حقارت دیکھے کافر ہے۔ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، اللہ عزَّوَجَلَّ کے نائبِ مطلق ہیں ، تمام جہان حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے تحتِ تصرّف کر دیا گیا، جو چاہیں کریں ، جسے جو چاہیں دیں ، جس سے جو چاہیں واپس لیں ، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں ، تمام آدمیوں کے مالک ہیں ،جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی مِلک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ والارض حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے زیر ِفرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں ، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ، دنیا و آخرت حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی عطا کا ایک حصہ ہے۔ احکامِ تشریعیہحضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے قبضہ میں کر دئیے گئے، کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔ سب سے پہلے مرتبۂ نبوّت حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو ملا۔ روزِ میثاق تمام انبیا سے حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )پر ایمان لانے اور حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیااور اِسی شرط پر یہمنصبِ اعظم اُن کو دیا گیا۔ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) نبِیُّ الانبیا ہیں اور تمام انبیا حضور( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کے اُمّتی، سب نے اپنے اپنے عہدِ کریم میں حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی نیابت میں کام کیا، اللہ عزَّوَجَلَّ نے حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو اپنی ذات کا مظہر بنایا اور حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے نُور سے تمام عالَم کو منوّر فرمایا بایں معنی ہر جگہ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) تشریف فرما ہیں۔ انبیا ئے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں ان کا ذکر تلاوت ِقراٰن وروایتِ حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے۔ اوروں کو اُن سرکاروں میں لب کشائی کی کیا مجال۔۔۔! مولیٰ عزَّوَجَلَّ اُن کا مالک ہے، جس محل پر جس طرح چاہے تعبیر فرمائے، وہ اُس کے پیارے بندے ہیں ، اپنے رب کے لیے جس قدرچاہیں تواضع فرمائیں ، دوسرا اُن کلمات کو سند نہیں بناسکتا اور خود اُن کا اطلاق کرے تو مردودِ بارگاہ ہو، پھر اُنکے یہ افعال جن کو زَلَّت و لغزش سے تعبیر کیا جائے ہزارہا حِکَم و مَصالح پر مبنی، ہزارہا فوائد و برکات کی مُثمِرہوتی ہیں ، ایک لغزشِ اَبِیْنَاآدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو دیکھئے، اگر وہ نہ ہوتی،جنت سے نہ اترتے، دنیا آباد نہ ہوتی، نہ کتابیں اُترتیں ، نہ رسول آتے، نہ جہاد ہوتے، لاکھوں کروڑوں مثُوبات کے دروازے بند رہتے، اُن سب کا فتحِ باب ایک لغزشِ آدم کا نتیجۂ بارکہ و ثمرۂ طیّبہ ہے۔ بالجملہ انبیا عَلَیْہم الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی لغزش، مَن و تُو کس شمار میں ہیں ، صدیقین کی حَسَنَات سے افضل و اعلیٰ ہے۔ (بہار شریعت ۱ /۷۹ تا۸۹ ، حصہ ۱)
کتابوں پر ایمان لانا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے جو کتابیں اپنے رسولوں پر نازل فرمائی ہیں وہ تمام حق ہیں۔ (فتح الباری،کتاب الایمان،باب سوال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الایمان، ۲/۱۰۸،تحت الحدیث:۵۰)
بہت سے نبیوں پر اللہ عزَّوَجَلَّ نے صحیفے اور آسمانی کتابیں اُتاریں ، اُن میں سے چار کتابیں بہت مشہور ہیں : ’’تورات‘‘ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام پر، ’’زبور‘‘ حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلام پر ’’اِنجیل‘‘ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام پر، ’’قراٰنِ عظیم‘‘ کہ سب سے افضل کتاب ہے، سب سے افضل رسول حضور پُر نور احمدِ مجتبیٰ محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر۔کلامِ الٰہی میں بعض کا بعض سے افضل ہونا اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے لیے اس میں ثواب زائد ہے، ورنہ اللہ (عَزَّوَجَلّ) ایک، اُس کا کلام ایک، اُس میں افضل ومفضول کی گنجائش نہیں۔(بہارِ شریعت، ۱ /۲۹حصہ ۱) سب آسمانی کتابیں اور صحیفے حق ہیں اور سب کلامُ ا
ﷲ∞ ہیں ، اُن میں جو کچھ ارشاد ہوا سب پر ایمان ضروری ہے، مگر یہ بات البتہ ہوئی کہ اگلی کتابوں کی حفاظت اللہ عزَّوَجَلَّ نے اُمّت کے سپرد کی تھی، اُن سے اُس کا حفظ نہ ہوسکا، کلامِ الٰہی جیسا اُترا تھا اُن کے ہاتھوں میں ویسا باقی نہ رہا، بلکہ اُن کے شریروں نے تو یہ کیا کہ اُن میں تحریفیں کر دیں ، یعنی اپنی خواہش کے مطابق گھٹا بڑھا دیا۔ لہٰذا جب کوئی بات اُن کتابوں کی ہمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ ہم اری کتاب کے مطابق ہے، ہم اُس کی تصدیق کریں گے اور اگر مخالف ہے تو یقین جانیں گے کہ یہ اُن کی تحر یفات سے ہے اور اگر موافقت، مخالفت کچھ معلوم نہیں تو حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں نہ تکذیب، بلکہ یوں کہیں کہ:
’’ اٰمَنْتُ بِ اللہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۔‘‘
’’یعنی اللہ ( عزَّوَجَلَّ ) اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں پر ہمارا ایمان ہے۔‘‘
چونکہ یہ دین ہم یشہ رہنے والا ہے، لہٰذا قراٰن ِعظیم کی حفاظت اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے ذِمّہ رکھی، فرماتا ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)(پ۱۴، الحجر:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے اُتارا ہے یہ قر اٰن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔
(بہارِ شریعت،۱ /۳۰، حصہ ۱)
اسلام اور ایمانجمہور اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ ایمان اور اسلام ایک ہی شے ہیں کیونکہ اسلام کا معنی خُضُوْع (سر تسلیم خم کرنا ) واِنْقِیَاد ( احکام کو قبول کرنا اور مان لینا)ہے اور خُضُوْع واِنْقِیَاد یہ تصدیق ہی ہے اور ایمان کی تعریف تصدیق کے ساتھ کی جاتی ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام وایمان ایک ہی ہیں اسی طرح شرعا کسی شخص کو اس طرح کہنا جائز نہیں کہ وہ مسلمان ہے مومن نہیں یا مومن ہے مسلمان نہیں بلکہ جو مسلمان ہوگا تو وہ مومن بھی ہوگا اور جو مومن ہو وہ مسلمان بھی ہوگا۔(شرح عقائد النسفیۃ ص۲۸۵)
’’اَلِاسْلَامُ اَنْ تَشْہَدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ وَ تُقِیْمَ الصَّلٰوۃَ …الخ۔‘‘ (یعنی اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو زکوۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو اور حج کرو) اس میں اسلام سے مراد اسلام کی علامات اور اس کے ثمرات ہیں اور ایک دوسری حدیث میں جو فرمایا:’’اَتَدْرُوْنَ مَا الْاِیْمَانُ بِ اللہ وَحْدَہُ؟ قَالُوْا اللہ اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ۔قَال:شَہَادَۃُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہ وَاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہ وَاِقَامُ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَصِیَامُ رَمَضَانَ وَاَنْ تُعْطُوْامِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ‘‘(یعنی کیا تمہیں پتہ ہے اللہ عزَّوَجَلَّ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ صحابہ نے عرض کی: اللہ عزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا، مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرنا) یہاں بھی ایمان سے ایمان کی علامات اور اس کے ثمرات مراد ہیں۔ تو حدیث شریف میں جو علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسلام اور ایمان الگ ہیں ، بلکہ اسلام اور ایمان ایک ہی چیز ہیں۔ (شرح عقائد النسفیۃ، ص۲۸۸)
تقدیر پر ایمانتقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر بھلائی برائی اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے علمِ ازلی کے مُوَافِق مُقَدَّر کردی ہے ، جو بات جیسے ہونے والی تھی ، اور جو شخص جو کچھ کرنے والا تھا، اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اَزَل سے جانتا تھا، اسی کے مطابق لکھ لیا، اب اس کے خلاف ہونامحال ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے لوگوں کے احوال جانے بغیر جو چاہا لکھ دیا اور اب ہم اس لکھنے کی وجہ سے ویسا ہی کرنے پر مجبور ہیں ، مثلاً زید کے ذمے برائی لکھی، اس لیے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کو معلوم تھا کہ برائی کرے گا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا تو اس کے ذمے بھلائی لکھتا ، اس کو یوں سمجھئے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے انسان کو جمادات پتھر کنکر کی طرح بے حس و حرکت ،بے اختیار نہیں بنایا، بلکہ ایک قسم کا اختیار بھی دیا ہے کہ کسی کام کو چاہے تو کرے، چاہے تو نہ کرے، اسی کے ساتھ عقل بھی دی کہ وہ بھلے بُرے نفع نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان و اسباب مہیا فرمادیئے کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اُن اسباب سے کام لے، اسی اختیار پر مواخذہ ہے۔ اپنے آپ کو پتھر و کنکر کی طرح مجبور محض سمجھنا یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں۔(مقالات شارح بخاری، باب اول ۱ /۱۴۹)قیامت کی نشانیاںدیگر احادیث کریمہ میں قیامت کی بہت سی علامات بیان کی گئیں حدیث مذکور میں دو نشانیاں بیان کی گئی ہیں :پہلی نشا نی: لونڈی اپنے آقا کو جنے گی:
علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام نے اس کی مختلف وضاحتیں بیان کی ہیں :
(۱) قربِ قیامت میں لونڈیوں کی کثرت ہوگی اُن سے اُن کے آقا کی جو اولاد ہوگی مرنے کے بعد یہ لونڈیاں انہیں مل جائیں گی کیونکہ مرنے کے بعدباپ کا مال اولاد کو ملتا ہے ۔ ا س طرح ان لونڈیوں کی مالک ان کی اپنی اولاد ہوگی۔
(۲) لونڈیاں جن بچوں کو جنم دیں گی تو ان میں سے بعض قوم کے حاکم و سردار بنیں گے چنانچہ وہ حاکم ہوں گے اور ان کی مائیں ان کی رعایا۔
(۳) ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا کہ ایک شخص لونڈی خرید یگا اس سے بچہ پیدا ہو گا پھروہ لونڈی کو فروخت کردیگا بچہ بڑا ہوجائے گا اور وہ لونڈی دست بدست بکتی ہوئی اپنے اسی بچے کی ملکیت میں پہنچ جائے گی ۔اس طرح اس کااپنا بیٹا اس کا مالک بن جائے ۔(الاربعین النوویۃ، ص۲۹)
شارح بخاری حضرتِ علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :یہ نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں شاہان بنی عباس میں سے سوائے امین سب لونڈی زادے تھے۔
(۴) یہ کنایہ اس بات سے کہ لوگ اپنی حقیقی ماں کے ساتھ لونڈیوں جیسا سلوک کریں گے ،ماں کو لونڈیوں کی طرح رکھیں گے ان کی نافرمانی و حق تلفی کریں گے ایذا پہنچائیں گے یعنی اولاد اپنی ماں کے ساتھ آقا کی طرح برتاؤ کرے گی (مقالات شارح بخاری، باب اول ۱ /۱۶۱)
دوسری نشانی: ننگے پاؤں برہنہ بدن، فقیر اور بکریاں چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ صحرا، جنگل گاؤں دیہات میں رہنے والے اورحاجت مند فقراء ترقی کرکے بڑے بڑے محلات بنائیں گے ،دنیا ان پر بہت آسان ہوجائے گی وہ اپنے عمدہ گھروں میں رہ کر ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ (الاربعین النوویۃ، ص۲۹)
’’ یہ جبریل( عَلَیْہِ السَّلام )تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے‘‘ علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : اس فرمانِ عالی میں ا س بات پر دلیل ہے کہ ایمان، اسلام اوراحسان ان سب کو دین کہا جاتا ہے اور اس بات پر بھی دلیل ہے کہ تقدیر کے بارے میں غور و غوض کرنا منع اور تقدیر پر راضی رہنا واجب ہے۔(الاربعین النوویۃ، ص۳۰)
بہترین نصیحتحضرتِ سَیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے ایک شخص نے نصیحت طلب کی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اسے یہ نصیحت آموز کلمات ارشاد فرمائے :جب اللہ عزَّوَجَلَّ رزق کا ضامن ہے تو اس معاملے میں تمہاری (بے جا) مشقت کس لئے ؟ جب بدلہ دینا اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذمّۂ کرم پر ہے توپھر (راہِ خدا میں ) مال خرچ کرنے میں بُخل کیوں ؟ جب جنت حق ہے تو دنیا میں راحت کس لئے ؟ جب جہنم برحق ہے تو گناہوں کا اِرتِکاب کیوں ؟ جب منکر نکیر کے سوالات حق ہیں تو دنیا سے دل لگی کس لئے ؟ جب دنیا اور اس کی ہر شئے فانی ہے تو دنیا میں اطمینان کیوں ؟ اور جب (ذرے ذرے کا)حساب ہوگا تو پھرمال جمع کرنا کیسا ؟اور جب ہر شے تقدیر کے ساتھ مُقَدَّر ہے تو پھر خوف کس بات کا؟(الاربعین النوویۃ، ص۳۰، حدیث۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دنیا کی اشیاء کی 25اقسامعلمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں :دنیا( کی چیزوں ) کی پچیس اقسام ہیں :پانچ کا تعلق قضا و قدر (تقدیر) سے ہے، پانچ کا تعلق کوشش سے ،پانچ کا تعلق عادت سے، پانچ کا تعلق فطرت اور پانچ کا تعلق وِراثت سے۔ وہ پانچ اشیاء جن کا تعلق تقدیر سے ہے(۱) رز ق (۲) اولاد (۳) گھر والے (۴) عمر (۵)حکمران ۔
وہ پانچ چیزیں جن کا تعلق انسان کی اپنی کوشش سے ہے(۱)لکھنے میں مہارت (۲)جنت(۳) دوزخ(۴)پاکدامنی (۵)گھڑ سواری میں مہارت۔وہ چیزیں جن کا تعلق عادت سے ہے (۱) کھانا پینا(۲) سونا(۳) چلنا(۴) نکاح کرنا (۵)بول و براز کرنا(پیشاب پاخانہ وغیرہ)وہ اشیاء جن کاتعلق بندے کی ذات یافطرت سے ہوتاہے(۱)زُہد(۲)ذہانت (۳)جانبازی(۴)خوبصورتی (۵)رعب و دَبدَبہ۔وہ پانچ اشیاء جن کا تعلق وراثت سے ہے (۱)بھلائی (۲) سچائی (۳) امانت (۴)سخاوت(۵) لوگوں سے باہم تعلق قائم رکھنا۔
سوال :یہ باتیں تواس فرمانِ عالی کے خلاف ہیں کہ ’’ ہر شے مُقَدَّر کے ساتھ ہے۔‘‘
جواب : یہ اس فرمانِ عالی کے خلاف نہیں بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ بعض چیزیں اَسباب پر مُرَتَّب ہوتی ہیں اور بعض بغیر اَسباب کے حاصل ہوجاتی ہیں لیکن ان سب کا تعلق قضا و قدر کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ (الاربعین النوویۃ، ص۳۰-۳۱)
ہمارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو معلوم تھا کہ قیامت کب آئے گیمَاالْمَسْؤلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ۔ ترجمہ :قیامت کے بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ’’ اس فرمان عالی سے یہ دلیل پکڑنا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوقیامت کا علم نہیں ، محض لغو ہے دو وجہ سے ایک تو یہ کہ اس میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے جاننے کی نفی نہیں کی بلکہ زیادتی علم کی نفی کی ہے ورنہ فرماتے ’’لَا اَعْلَمُ یعنی میں نہیں جانتا ‘‘اتنی دراز عبارت کیوں ارشاد فرماتے !اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اے جبریل! اس مسئلہ میں میرا اور تمہارا علم برابرا ہے مجھ کو بھی خبر ہے اور تم کو بھی اس مجمع میں یہ پوچھ کر راز ظاہر کرنا مناسب نہیں دوسرے یہ کہ یہ جواب سن کر حضرتِ سَیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلام نے عرض کی: فَاَخْبِرْنِی عَنْ أَمَارَاتِھَا۔ ترجمہ:’’تو قیامت کی نشانیاں ہی بتا دیجئے‘‘ اس پرحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ اولاد نا فرمان ہوگی اور کمینے لوگ عزت پائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ جس کو قیامت کا بالکل ہی علم نہ ہو اس سے نشانیاں پوچھنا کیا معنی؟ نشان اور پتہ تو جاننے والے سے پوچھا جاتا ہے۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیامت قائم ہونے کا دن بتا دیا۔ مشکوۃ ’’بَابُ الْجُمُعَۃِ‘‘ میں ہے ’’لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ‘‘قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی۔شہادت اور بیچ کی انگلی کو ملا کر فرمایا ’’بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ‘‘ ترجمہ :ہم اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں (بخاری،کتاب الرقاق، باب قول النبی بعثت انا والساعۃ، ۴/۲۴۸ حدیث:۶۵۰۵)یعنی ہمارے زمانے کے بعد پس قیامت ہی ہے اور اس قدر علامات قیامت ارشاد فرمائیں کہ ایک بات بھی نہ چھوڑی آج میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ابھی قیامت نہیں آسکتی کیونکہ ابھی نہ دجال آیا نہ حضرت مسیح ومہدی (عَلَیْہم ا السَّلَام)، نہ آفتاب مغرب سے نکلا، ان علامات نے قیامت کو بالکل واضح فرما دیا ، پھر قیامت کا علم نہ ہونے کہ کیا معنی ؟ پس زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتاہے کہ سن (سال )نہ بتایا کہ فلاں سن میں قیامت ہوگی۔ لیکن حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ پاک میں سن مقرر ہی نہ ہوئی تھی ، سن ہجری عہدِ فاروقی میں مقرر ہوئی کہ ہجرت تو ربیع الاول میں ہوئی مگر سن ہجری کاآغاز محرم سے ہوتا ہے بلکہ اس زمانے میں قاعدہ یہ تھا کہ سال میں جوکوئی بھی اہم واقعہ ہوااس سے سال منسوب کر دیا ۔ سالِ فِیل، سال فتح، سالِ حدیبیہ وغیرہ ۔ تو سن ہجری کس طرح بیان کیا جاسکتا تھا۔ اس دن کی علامات وغیرہ سب بتا دیں اور جو ذات اس قدر تفصیلی علامتیں بیان کرے وہ بے علم کیسے ہو سکتی ہے ؟ نیزحدیث پاک سے ثابت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیامت تک کے مِنوعَنْ واقعات بیان کر دئیے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ قیامت کا علم نہ ہو؟ کیونکہ دنیا ختم ہوتے ہی قیامت ہے اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ علم ہے کہ کونسا واقعہ کس کے بعد ہو گا ۔ تو جو آخری واقعہ ا رشاد فرمایا وہ ہی دنیا کی انتہا ہے اور قیامت کی ابتدا۔ دو ملی ہوئی چیزوں میں سے ایک کی انتہا کاعلم دوسری کے ابتداء کا علم ہوتا ہے۔ (جاء الحق ص۱۲۰)
’’تفسیرصَاوِی‘‘میں ہے : اس پر ایمان لانا ضروری ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ کو وہ تمام غیب کی خبریں بتادی جو دنیا اور آخرت میں ہیں ، لہٰذا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں اس طرح جانتے تھے جیسے اپنی آنکھوں سے دیکھاہو، جیسا کہ حدیث میں آیاکہ دنیا ہمارے سامنے پیش کی گئی پس ہم اسے اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے اپنی اِس ہتھیلی کو، اور یہ بھی حدیث میں آیا کہ’’ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جنت اور وہاں کی نعمتوں اور دوزخ اور وہاں کے عذابوں پر اطلاع دی گئی علاوہ ازیں اور متواتر خبریں ہیں لیکن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انہیں چھپانے کا حکم دیا گیا ۔ (حاشیۃ الصاوی علی الجلالین،پ۹، اعراف، تحت الایۃ :۱۸۷،۲/۷۳۳)
علمِ غیب سے متعلق 4 روایات کون جنتی کون جہنمی سب بتا دیابخاری شریف میں ہے: اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہمیں ابتدائے پیدائش کی خبر دے دی یہاں تک کہ جنتی لوگ اپنی منزلوں میں پہنچ گئے اور جہنمی اپنی منزلوں میں ، جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا ۔ (بخاری،کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی قولِ اللہ تعالٰی :وہوالذی یبدأ الخلق ثم یعیدہ،۲/۳۷۵ حدیث:۳۱۹۲)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : اس جگہ حضور عَلَیْہِ السَّلام نے دو قسم کے واقعات کی خبر دی (۱) عالَم کی پیدائش کی ابتداء کس طرح ہو ئی (۲)پھر عالَم کی انتہاء کس طرح ہوگی یعنی روزاول تا قیام قیامت ایک ایک ذرہ وقطرہ بیان فرما دیا ۔ (جاء الحق ص۷۴)
قیامت تک ہونے والے واقعات کی خبرحضرتِ سَیِّدُنا عَمْرو بِنْ اَخْطَب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں ان تمام واقعات کی خبر دی جو ہوئے اور جو قیامت تک ہونے والے ہیں پس ہم میں بڑا عالم وہ ہے جو ان باتوں کا زیادہ یاد رکھنے والا ہو ۔( مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب إخبار النبی فیما یکون الخ، ص۱۵۴۶ حدیث۲۸۹۲)آنے والے فتنوں کی خبرحضرتِ سَیِّدُناحذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا ختم ہونے تک تمام (آنے والے) فتنہ گَروں کے نام ، ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام ہمیں بتا دئیے، جو کہ تین سو یا کچھ زیادہ ہونگے۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الفتن، الفصل الثانی، ۳/۱۵۶حدیث:۵۳۹۳)جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو!بخاری شریف میں ہے حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبرِ اقدس پر کھڑے ہوئے پس قیامت کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ ا س سے پہلے بڑے بڑے واقعات ہیں ، پھر فرمایا: جو شخص جو پوچھنا چاہتا ہے پوچھ لے اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم ! جب تک میں اس جگہ یعنی اس منبر پر ہوں تم مجھ سے جو بھی بات پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا، پس ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا : میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟ فرمایا: جہنم میں ،حضرت عَبْدُ اللہ بِنْ حُذَافَہ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ) نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: حذافہ، پھر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بار بار فرماتے رہے: مجھ سے پوچھو !مجھ سے پوچھو ! (بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السوال وتکلف مالا یعنیہ، ۴/۵۰۳حدیث:۷۲۹۴)
نوٹ :ان روایات کے علاوہ بھی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علمِ غیب سے متعلق بہت سی روایات ہیں ، تفصیل کے لئے اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ، اَلْفُیُوْضُ الْمَلَکِیَّۃ ،اَلْکَلِمَۃُ الْعُلْیَا، جَائَ الْحَقوغیرہ کا مطالعہ فرمائیں !
مدنی گلدستہ
’’غیب دان نبی‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اسکی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1)مُراقَبہ کی اصل یہ ہے کہ انسان ہر وقت یہ پیشِ نظر رکھے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ ہر وقت اس کے اعمال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
(2) فرشتے انسانی شکل و صورت میں آسکتے ہیں جیسا کہ حدیثِ مذکور میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلام ایک آدمی کی شکل میں تشریف لائے۔
(3) کسی شخص سے کسی بات کے متعلق سوال کرنا سائل کی لا علمی کی دلیل نہیں ، دیکھئے حضرتِ سَیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلام نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے چند سوالات کئے حالانکہ حضرتِ سَیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلام ان باتوں کو اچھی طرح جانتے تھے۔
(4) اگر کسی سوال کا جواب ایسا ہو جو عوام کی سمجھ سے بالا ہو، یا اس جواب کو عوام سے چھپانے میں کوئی مَصْلَحَتہوتو عالِم پر ضروری نہیں کہ وہ عوام کے مجمع میں اس کا جواب دے، جیسا کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوقیامت کا علم تھا لیکن اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے بتانے کی اجازت نہ تھی اس لئے نہ بتایا۔
(5)شاگرد کو چاہیے کہ اپنے استاد کے سامنے کمالِ ادب کا مظاہرہ کرے، آنے جانے، اٹھنے بیٹھنے الغرض ہر کام میں استاد کا ادب ملحوظ رکھے ۔
(6)ایما ن اور اسلام ایک ہی شے ہیں ہاں کہیں کہیں اسلام ظاہری اعمال کی ادائیگی پر بولا جاتا ہے اس لحاظ سے فرق صرف اعتباری ہوگا حقیقت میں یہ دونوں ایک ہی ہیں جو مومن ہے وہ مسلمان ہے اور جو مسلمان ہے وہ مومن ہے۔
(7) ہمارے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قیامت بلکہ اس کے بعد کے واقعات کا بھی علم عطا کیا گیا ہے ۔ تکمیل قراٰن کے بعد کوئی ایسی بات نہیں جس کا علم ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ ہو ۔
(8) تقدیرکے بارے میں زیادہ غور وخو ض کرنا منع اور تقدیر پر ایمان لانا واجب ہے ۔
(9)قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ چرواہے ، فقیر اور بھوکے ننگے لوگوں پر دنیا اتنی وسیع ہوجائے گی کہ وہ بلند وبالا عمارتیں بنا کر ایک دوسرے پر فخر کریں گے ۔اور اولاد والدین کی نافرمان ہو جائے گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 60